مجھے ہے حکم اذان لا الہ الا اللہ
21 اپریل 2020 (13:26) 2020-04-21

وائی ڈی اے پنجاب کا خاصہ یہ ہے کہ وائی ڈی اے پنجاب نے ہمیشہ دنیا کی پرواہ کیے بغیر اپنے ڈاکٹرز کی آواز اٹھائی ہے۔مشہور اینکر پرسن اور کالم نگار نجم ولی خان کے بقول وائی ڈی اے اپنے ڈاکٹرز کو تحفظ فراہم کرنے ایسے آگے آتی ہے جیسے ایک مرغی اپنے بچے بچانے کے لیئے پروں میں سمو لیتی ہے۔ماضی میں وائی ڈی اے کی تحاریک اور کامیابیاں سب کے سامنے ہیں اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ایم ٹی آئی میں وائی ڈی اے اور گرینڈ ہیلتھ الائنس پنجاب نے جس شجاعت اور بہادری سے تحریک لڑی وہ سب کے سامنے ہے۔ایم ٹی آئی نامی قانون ایک طرف غریب مریضوں کے استحصال کا نظام تھا تو دوسری طرف اس سے ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرامیڈکس بری طرح متاثر ہونے جارہے تھے۔وائی ڈی اے اور گرینڈ الائنس کے کارکنان مفت علاج کا قانون اور اپنے طبی عملیکی نوکریاں بچانے کے لیئے اپنی نوکریوں کی بازی تک لگا گئے اور ان میں سے اکثریت 6 ماہ گزرنے کے بعد اب بھی بے روزگار ہے۔

اس طرح جب کرونا کی وبا آئی تو پاکستان بھر میں درجنوںڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس کرونا کا شکار ہوئے۔بعض لوگوں کو اپنی جان کی قربانی بھی دینی پڑی اور بہت ساروں کی فیملیز بھی کرونا کا شکار ہو گئیں تو گرینڈ ہیلتھ الائنس پنجاب نے سب سے پہلے بڑھ چڑھ کر کرونا کے پھیلاؤ اور اپنے طبی عملے کو اس مہلک بیماری سے بچانے کا عزم کیا۔مختلف مخیر حضرات اور پارٹیز کی مدد سے 15000 سے زائد پی پی ایف مہیا کیں اور ساتھ ہی حکومت کی نااہلی پر سوال اٹھایا۔معاملات بہتر نہ ہوئے اور حکومتی ہٹ دھرمی رکنے کو نہ آئی تو طبی عملے میں بڑھتی وبا کے پیش نظر بھوک ہڑتال کر دی تاکہ ہسپتالوں میں مریضوں کو کوئی دقت درپیش نہ ہو اور گرینڈ ہیلتھ الائنس نے اپنے آپ پر جبر کر کے اپنی اپنی آواز کو حکام بالا تک پہنچانے کے لیئے بھوک ہڑتال کا طریقہ احتجاج اختیار کیا۔میں سلام پیش کرنا چاہتا ہوں میڈم روزینہ کو جو شدید علیل ہیں مگر اپنی بیماری کے باوجود اپنے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس کے لیئے بھوک ہڑتال کیمپ میں موجود ہیں۔ جناب ارشد بٹ صاحب جو پیرامیڈکس کے نامور قائد ہیں اپنی پورے پنجاب کی ٹیم کے ساتھ دھرنے میں موجود ہیں۔

لیکن جب گرینڈ ہیلتھ الائنس پنجاب نے میڈیا اور عوام کے سامنے وزیر صحت کی نااہلی رکھی تو وزیر صحت نے دوبارہ انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ جاری کر دیا۔ماضی میں نوکریوں سے برطرف لوگ جو کرونا کی وبا کے دوران خدمت کے لیئے آگے آئے تھے انکو منتخب شدہ لسٹوں میں سے نکال دیا۔ اس مشکل وقت میں جب دوست ، دشمن سب ایک صف میں کھڑے ہیں۔ اپوزیشن حکومت ایک بینچ پر ہیں۔ انڈیا پاکستان میں تجارت ہو رہی ہے ایسے میں محکمہ صحت کو یہ شرارتیں زیب نہیں دیتیں کہ حفاظتی سامان پر آواز اٹھانے پر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس کو ہراساں کیا جائے۔ انکے نام لسٹوں سے نکال کر ان کو خدمت کرنے سے دور رکھا جائے۔پنجاب بھر میں ہزاروں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے۔ بے رحم قاتل کرونا کے خلاف جو لوگ صف اول پر آکر خدمت کرنا چاہتے ہیں انکو صرف حفاظتی سامان پر آواز اٹھانے پر اس طرح امتیازی سلوک کا نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔

میں اپنے ساتھیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پنجاب بھر میں جو سینکڑوں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس کرونا کا شکار ہیں اور قیدیوں کی مانند جیلوں میں بند ہیں ان کے لیئے آواز اٹھانا گناہ ہے؟کیا جو ہماری بہن نرس گجرات میں کرونا وارڈ میں کام کرتے ہوئے وفات پا گئیں انکے لیئے شہادت کا درجہ مانگنا گناہ ہے؟ جناح ہسپتال کی ایک نرس اور رحیم یار خان میں ڈاکٹر معین کی فیملی میں ناکافی سہولیات کے باعث جو کرونا پھیلا اس پر آواز اٹھانا گناہ ہے؟کیا جو لوگ اپنے دوستوں بھائیوں کے لیئے آواز اٹھاتے ہیں اور وائی ڈی اے کی کال پر اپنے ساتھیوں کے تحفظ کے لیئے اپنی نوکریاں قربان کر دیتے ہیں انکے حق میں آواز اٹھانا گناہ ہے؟اگر یہ گناہ یے تو ایسے گناہ میں کرتا رہوں گا۔


ای پیپر