یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! (پانچویں قسط )
21 اپریل 2020 2020-04-21

گزشتہ کالم میں، میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر کررہا تھا، حکمرانوں کے دربار میں جاتے ہوئے بڑی مشکل پیش آتی ہے ۔ہزار بار سوچنا پڑتا ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں، سب سے بڑی وجہ ملاقات سے پہلے سکیورٹی کے نام پر ملنے والی اذیت ہے۔ ہم جیسے لوگوں کے لیے یہ اذیت ناقابل برداشت ہوتی ہے، دوسری وجہ یہ ہمارے حکمرانوں کو چمچہ گیر بڑے پسند ہوتے ہیں، سو ہم جیسے پاگل جو اِس زمانے کے سب سے بڑے ”وصف“ (چمچہ گیری) سے کچھ زیادہ آشنا نہیں ہوتے ہم سے مِل کر حکمران خوش ہونے کے بجائے اُلٹا ناراض ہو جاتے ہیں، جس کا بعض اوقات کئی حوالوں سے خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، ضمیراگر ہو وہ الگ سے ملامت کرتا رہتا ہے، میری زندگی میں اِس طرح کے کئی واقعات ہیں، شہباز شریف جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے ایک بار انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو خصوصی انعامات دینے کی ایک تقریب میں اُنہوں نے مجھے یاد فرمایا ، میں اُن کے میڈیا ایڈوائزر شعیب بن عزیز صاحب کے اصرار پر چلے گیا، شہباز شریف بچوں کو انعامات دینے لگے مجھے بھی اسٹیج پر اپنے ساتھ انہوں نے کھڑے کرلیا، کچھ بچوں کو میرے ہاتھوں سے انعامات بھی دلوائے، اُس کے بعد وہ مائیک پر آئے اور اپنے روایتی جذباتی انداز میں گفتگو فرمانے لگے، اُن کے ایک ایک جملے پر حاضرین خوب تالیاں بجارہے تھے، اُنہوں نے فرمایا ” ہم نے لوگوں کو اُن کے حقوق نہ دیئے اِس ملک میں خونی انقلاب آئے گا، ایک ایساعذاب آئے گا جس سے ہم بچ نہیں سکیں گے، جو سب کچھ تباہ کردے گا، سب کچھ جلاکر راکھ بنادے گا“ ....بڑی مشکل سے اُن کی تقریر ختم ہوئی، اُن کے بعد کسی اور کا تقریر کرنا بنتا تو نہیں تھا، پر اُن دنوں شہباز شریف مجھے اپنے قریب لانے کی بڑی کوشش کررہے تھے، وہ تقریر کرکے واپس اپنی نشست پر جاکر بیٹھے، میں نے دیکھا اُنہوں نے اشارے سے اپنے پی ایس او کو پاس بلایا ہے، اُنہوں نے اُس کے کان میں کچھ کہا تو پی ایس او سٹیج سے اُتر کر سیدھا میرے پاس آیا، میرے کان میں کہنے لگا ” سر سی ایم صاحب کا حکم ہے آپ بھی دو چار منٹ کے لیے سٹیج پر آکر اظہار خیال فرمائیں“ .... میں نے معذرت کی، اِس دوران اسٹیج پر بیٹھے شہباز شریف پر میری نظر پڑی وہ اشارے سے مجھے اظہار خیال کرنے کی دعوت دے رہے تھے، اُن کا یہ اشارہ چونکہ تقریب میں موجود تمام حاضرین دیکھ رہے تھے، سو مجھے مناسب نہیں لگا میں انکار کرتا مائیک پر آکر میں نے عرض کیا ”سی ایم صاحب مجھے بہت اچھا لگا آپ نے لائق بچوں، اُن کے اساتذہ اور والدین کی حوصلہ وعزت افزائی کے لیے شاندار اقدامات کیے۔ مجھے بھی یہ موقع فراہم کیا میں ان لائق بچوں کو اپنے ہاتھوں سے انعامات دوں، حالانکہ اِن لائق بچوں کو انعامات دیتے ہوئے مجھے بڑی شرمندگی ہورہی تھی، کیونکہ خود میں ایک نالائق انسان ہوں، اور اپنے پلید ہاتھوں سے اتنے پاک صاف بچوں کو انعام دینے کے میں قابل نہیں تھا“، میں جب یہ کہہ رہا تھا میری نظریں سٹیج پر بیٹھے سی ایم صاحب کے چہرے پر تھیں، میں نے محسوس کیا میری یہ باتیں سُن کر اُن کے چہرے پر انتہائی ناخوشگوار تاثرات اُبھرے، جیسے میں نے خود کو نہیں اُنہیں نالائق کہہ دیا ہو، میری نیت بہرحال یہ نہیں تھی، اُنہوں نے مجھے عزت دی تھی، میں اس موقع پر اُن کی توہین کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، ....خیر دوسری زیادتی اُس وقت مجھ سے یہ ہوگئی، میں نے عرض کیا ”محترم سی ایم صاحب آپ ہمارے رہنما ہیں، آپ ہمیں حوصلہ دیں، آپ ہم سے کتاب کی بات کریں، گلاب کی بات کریں، کسی خوبصورت خواب کی بات کریں، آپ کے منہ سے ”خونی انقلاب“ اور ”عذاب“ کی باتیں اچھی نہیں لگتیں“ ،.... میری یہ بات سُن کر تقریب کے حاضرین سے شاید غیردانستہ طورپر غلطی یا زیادتی یہ ہوگئی انہوں نے زوردار تالیاں بجانا شروع کردیں، حاضرین کی اِس حرکت پر سی ایم صاحب کا موڈ مزید بگڑ گیا، وہ اُٹھے اور بغیر کسی سے ملے واپس چلے گئے، اُس کے بعد مجھے کسی ایسی تقریب میں مدعونہیں کیا گیا جس میں سی ایم صاحب نے آنا ہوتا تھا، .... اصل میں مجھ ایسے کچھ لوگوں کو عزت راس نہیں آتی ، اور وہ عزت تو بالکل راس نہیں آتی

جو حکمران یا افسران وغیرہ کسی قلم کار یا صحافی کو کسی خاص مقصد کے لیے عارضی طورپر دے رہے ہوتے ہیں، ....جہاں تک وزیراعظم عمران خان کا معاملہ ہے وہ بھی یہی سمجھتے ہیں وہ دنیا میں صرف اپنی عزت کروانے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں، کسی کی عزت کرنے کے لیے نہیں ہوئے، پر میں خود کو اِس حوالے سے بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں اُنہوں نے ہمیشہ میری دل سے عزت کی، میرے ہر دُکھ سُکھ میں شریک ہوئے، حالانکہ لوگوں کے دُکھ سُکھ میں شریک ہونے کا اُنہیں کوئی تجربہ ہی نہیں ہے، 2011ءمیں میری والدہ کا انتقال ہوا وہ اسلام آباد سے خاص طورپر تعزیت کے لیے اُسی روز شام کو لاہور تشریف لائے، پھر 2015ءمیں میرے والد محترم کا انتقال ہوا، تب بھی اسلام آباد سے خاص طورپر وہ لاہور پہنچے، بہت وقت میری فیملی کے ساتھ گزارا، پچھلے سال میری اکلوتی بیٹی کی شادی تھی، تب بھی میری خوشیوں میں اُنہوں نے بھرپور انداز میں شرکت فرمائی، دیرتک میرے گھر رہے، کھانا بھی ہمارے ساتھ کھایا، برادر محترم علیم خان، گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی اُن کے ہمراہ تھے، .... سب سے اہم بات یہ ہے پچھلے کچھ عرصہ سے میں اُن کی کچھ غلط پالیسیوں، اور غلط اقدامات پر اُن کے ویسی ہی تنقید کررہا ہوں جیسی سابقہ کرپٹ حکمرانوں کے بے شمار غلط اقدامات اور پالیسیوں پر برس ہا برس میں کرتا رہا، میرا خیال تھا حکمران چونکہ سارے ہی تقریباً ایک جیسی فطرت کے ہوتے ہیں لہٰذا ممکن ہے خان صاحب بھی ناراض ہوکر مجھ سے اپنا چوبیس سالہ تعلق بلکہ ذاتی تعلق ختم کرلیں، یا میرے خلاف دل میں نفرت پال کر بیٹھ جائیں، اُنہوں نے ایسے نہیں کیا، حالانکہ میں جوکچھ اُن کے خلاف لکھتا ہوں یا بولتا یا بکتا ہوں اُن کے واٹس ایپ پر سینڈ کردیتا ہوں، وہ پڑھ بھی لیتے ہیں، دیکھ بھی لیتے ہیں، پر جواب نہیں دیتے، البتہ میں نے اُن کے واٹس ایپ پر کوئی ایسا مشورہ اُنہیں دوں جو اُن کے دِل کو لگے وہ فوراً اُس کا رپلائی کرتے ہیں، بعض اوقات فون بھی کرتے ہیں، میں یہ بات پورے وثوق سے پورے دل سے کہہ رہا ہوں جتنی تنقید پچھلے کچھ عرصے میں، میں نے اُن پر کی، اُتنی تنقید وہ کبھی مجھ پر کرتے میں اپنی روایتی کم ظرفی کے نتیجے میں نہ صرف واٹس ایپ پر اُنہیں بلاک کردیتا، اپنا تعلق بھی اب تک اُن سے ختم کرچکا ہوتا، .... وہ جب سے وزیراعظم بنے میری یہ اُن سے تیسری ملاقات تھی، پہلی دوملاقاتوں کو میں جان بوجھ کر منظر عام پر نہیں لایا، نہ ہی اپنے کالموں میں اُن کا تذکرہ کیا۔ (جاری ہے)


ای پیپر