ناکام حکومت، ڈوبتا پاکستان اور آخری امید
21 اپریل 2020 2020-04-21

ناکام حکومت ایک ایسی اصطلاح ہے کہ جو حقیقی دنیا میں اپنا وجود تو رکھتی ہے لیکن ابھی تک اس کی کوئی باضابطہ تعریف بیان نہیں جا سکی، معاشیات اور انسانی تاریخ کے ماہرین ناکام حکومتوں کو دنیا اور انسانیت کے لیے ایک عظیم خطرہ قرار دیتے ہیں۔ عام تصور کے مطابق ایک حکومت اس وقت ناکام ہوتی ہے جب وہ ان فرائض کی ادائیگی میں ناکام ہو جائے جو عوام پر حکمرانی کے لحاظ سے اس پر فرض ہوں۔ یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک اچھی حکومت مملکت کی فلاح و بہبود اور بری حکومت ملک کی تباہی و بربادی کا موجب ہوتی ہے۔ کرہ ارض پر بنی نوع انسان کو آج کورونا وائرس نامی عالمگیر وباء کا سامنا ہے۔ دنیا کی اچھی اور بہترین حکومتیں اپنے تمام شہریوں کے تخفظ کے لئے نت نئے اقدامات کر رہی ہیں۔ لیکن پاکستان میں آج بھی گنگا الٹی ہی بہہ رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان، ان کی کابینہ اور مشیر مو¿ثر اقدامات کرنے کی بجائے یہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں کہ ہم وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ کپتان، ان کے ٹائیگرز اور کھلاڑیوں سے خوفزدہ ہو کر وائرس شاید کسی دوسرے ملک فرار ہو چکا ہے اور جو اکا دکا مریض رہ گئے ہیں وہ بھی جلد صحت یاب ہو کر خوشی خوشی گھروں کو چلے جائیں گے۔ لیکن زمینی حقائق حکومتی دعوو¿ں کے برعکس اور بہت خوفناک نظر آ رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انسان جھوٹ بول سکتا ہے لیکن اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے۔ حکومت کے جاری کردہ اعدادوشمار کی روشنی میں اگر آج ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کا اندازہ لگانا ہو تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ پاکستان میں آج گزشتہ 28 روز سے لاک ڈاو¿ن ہے لیکن اس کے باوجود وائرس کے پھیلاو¿ کی رفتار آٹھ گنا کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 23 مارچ کو لاک ڈاو¿ن کے روز ملک بھر میں مجموعی کیسز کی تعداد 784 اور تین اموات تھیں۔ لیکن آج 28 روزہ لاک ڈاو¿ن میں متاثرہ مریضوں کی تعداد تقریباً آٹھ ہزار اور اموات 159 ہو چکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار حکومت کا پول اور معصوم عوام کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں کہ 28 روزہ غیر مو¿ثر لاک ڈاو¿ن اور عوام کو اس کی مرضی پر چھوڑنے کے کیا نتائج نکلے اور وائرس کس خوفناک شرح کے ساتھ پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق 23 مارچ سے آج 19 اپریل تک 28 روزہ لاک ڈاو¿ن کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں آٹھ گنا جبکہ شرح اموات میں 44 گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح اگر پاکستان میں وائرس کے پھیلاو¿ اور شرح اموات کا ہفتہ وار جائزہ لیں تو یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ وائرس ہر ہفتے دوگنا رفتار سے پھیلتا رہا۔ پاکستان میں 26 فروری کو پہلے دو مریض سامنے آنے کے بعد چار مارچ تک ایک ہفتے کے دوران یہ تعداد دو سے بڑھ کر پانچ ہو گئی جو 150 فیصد اضافہ ہے۔ دوسرے ہفتے میں 4 مارچ سے 11 مارچ تک مریضوں کی تعداد پانچ سے بڑھ کر دس ہو گئی جو 100 فیصد اضافہ ہے۔ تیسرے ہفتے 11 مارچ سے 18 مارچ کے دوران مریضوں کی تعداد10 سے بڑھ کر 156 ہو گئی جو 1460 فیصد اضافہ تھا۔ چوتھے ہفتے 403 فیصد اضافے کے ساتھ متاثرین کی تعداد 156 سے بڑھ کر 784 ہو گئی۔ 23 مارچ سے 30 مارچ تک لاک ڈاو¿ن کے پہلے ہفتے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 784 سے بڑھ کر 1526 ہو گئی اور اموات تین سے بڑھ کر گیارہ ہو گئیں۔ اس ہفتے مریضوں کی تعداد میں 95 فیصد اضافہ اور اموات میں 233 فیصد اضافہ ہوا۔ لاک ڈاو¿ن کے دوسرے ہفتے میں 30 مارچ سے 6 اپریل تک مریضوں کی تعداد 1526 سے بڑھ کر 3756 ہو گئی جبکہ اموات 11 سے بڑھ کر 47 ہو گئیں۔ اس دفعہ مریضوں میں 146 فیصد اور اموات میں 327 فیصد اضافہ ہوا۔ لاک ڈاو¿ن کے تیسرے ہفتے میں 6 اپریل سے 13 اپریل تک 45 فیصد اضافے کے ساتھ مریضوں کی تعداد 3756 سے بڑھ کر 5478 اور اموات 102 فیصد اضافے کے ساتھ 47 سے بڑھ کر 95 ہو گئی۔ان تین ہفتوں کے دوران متاثرہ افراد کی تعداد اور اموات کے خوفناک اضافے کے باوجود چوتھے ہفتے کے آغاز پر ہی 14 اپریل کو وزیر اعظم سربراہی میں قائم قومی رابطہ کمیٹی نے پہلے سے بھی بڑی غفلت کرتے ہوئے لاک ڈاو¿ن میں جزوی نرمی کا حکم دے دیا۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ لاک ڈاو¿ن میں نرمی کے بعد 14 اپریل سے 19 اپریل تک ایک ہفتے میں مریضوں کی تعداد میں اب تک کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اور متاثرہ مریضوں کی تعداد 5478 سے بڑھ کر 8000 اور اموات 95 سے 159 ہو چکی ہے۔ یعنی لاک ڈاو¿ن میں نرمی ہوتے ہی مریضوں کی تعداد میں 55 فیصد اور اموات میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ حکومتی فیصلہ بھی عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کی واضح خلاف ورزی ہے کیونکہ عالمی ادارے نے خبردار کیا تھا کہ پابندیاں ختم کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ کیا وباءکو کنٹرول کر لیا گیا ہے اور کیا شہری نئی اقدار اپنانے کے لیے تیار ہیں۔ کیونکہ اگر وباءکا پھیلاو¿ روکے بغیر ملکوں نے جلدی میں حفاظتی اقدامات اور پابندیاں ختم کر دیں تو وائرس کو نئی زندگی مل جائے گی۔ متاثرہ افراد کی تعداد میں اس وقت پنجاب پہلے اور سندھ دوسرے نمبر پر ہے اور نرمی کے بعد یہاں کاروباری سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ قوی امکان ہے کہ اب وائرس کے پھیلاو¿ کی رفتار پہلے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس تمام ممکنہ صورتحال اور اس کے تدارک کے لئے عالمی برادری کی جانب سے تمام سوئے ہوئے حکمرانوں کو جھنجھوڑ، جھنجھوڑ کر بتایا جاتا رہا کہ وائرس کا پھیلاو¿ روکنے کے لئے کون سے اقدامات کرنا ضروری ہیں جبکہ مشیر صحت ظفر مرزا ،جو ڈبلیو ایچ او سمیت دیگر عالمی اداروں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں، شاید اپنی تمام تر ''قابلیت'' گنوا کر ہی پاکستان میں مشیر صحت بنے تھے۔اب بھی ان کے تمام تر بیانات عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے بالکل الٹ ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر بگڑتی صورتحال اور حکومت کے وائرس کا پھیلاو¿ روکنے کے ''ہنگامی'' اقدامات چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ یا تو دانستہ طور پر پاکستان کو موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے یا پھر وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی آفت یا ناگہانی صورتحال میں اپنے ملک اور قوم کا تخفظ کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان دنوں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ عوام کی آخری امید اب عدلیہ سے ہی وابستہ ہے کہ وہی اب پاکستان کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔


ای پیپر