سوال تو ہو گا
21 اپریل 2019 2019-04-21

حکمران جماعت کے ساتھ ایک مسئلہ ہے۔ شائد اقتدار کے طلائی تخت پر بیٹھے ہوئے حکمرانوں کی سوچ یکساں ہوتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی تو اٹھان ہی ہیجان اور اضطراب کی کیفیت میں ہوئی ہے۔ ہردم حالت جنگ میں۔ لیکن اب وہ اپوزیشن میں نہیں اقتدار میں ہے۔اپوزیشن کو تو ویسے بھی سات خون معاف ہوتے ہیں۔ اب وہ ذمہ دار ہے۔ اکیس کروڑ کے قریب عوام کی نو لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد رقبے کے ملک کی۔اب اس کو یہ حکمت اور دانائی کی بات سمجھ نہیں آتی جس کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آئینہ وہی کچھ دکھاتا ہے جو اس کے سامنے ہو ۔ جیسی شکل ہو آئینے میں ویسی ہی نظر آتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آئینہ توڑ دینے سے شکل بہتر ہوجائے۔ آئینہ تبدیل کرنے سے بھی کبھی تبدیلی نہیں آتی۔ واحد حل تو یہی ہے کہ اپنی شکل کو بہتر کیا جائے۔ سروس ڈلیوری کو بہتر بنا لیا جائے۔ لیکن پی ٹی آئی آئینہ تبدیل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کبھی بیورو کریسی میں تبدیلی، کبھی وزیروں کے محکمے تبدیل کرنے کی کوشش۔ اور کبھی صوبے میں اپنی حکومت تبدیلی کی افواہ پھیلا کرمعاملات کو سنبھالنے کی کوشش۔ تبدیلی کی پہلی قسط آگئی ہے۔ پہلی قسط میں آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی کھیت رہی۔ اب پی ٹی آئی میں کچھ باقی بچا ہے تو وہ ہے پی پی یا پھر حکمران جماعت کے اتحادی۔ جن کے ہاتھوں میں ہر وقت مطالبات کی فہرست پر مبنی فائلیں۔ وزارتوں کے مطالبے اور سرکاری دفتروں میں ذاتی کاموں کی تیز ڈلیوری کیلئے دباؤ کے ہتھکنڈے۔ تبدیلی کی پہلی قسط نے ایک بھرم تو کھول دیا۔ وہی جو دعوی تھا بہترین ٹیم کے انتخاب کا۔ پتہ چلا کہ ایسی ٹیم منتخب کی کہ آٹھ ماہ کے اندر ہی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی۔ جس حکمران جماعت کے پاس اپنی ٹکٹ پر منتخب کردہ ارکان قومی اسمبلی کی تعداد ایک سو پینتیس ہو ۔ اتحادی الگ۔ اس کو معیشت سنبھالنے کیلئے اپنی جماعت سے بندہ نہ ملے۔ اور پرویز مشرف کا وزیر خزانہ اور زرداری کا فنانس کا ایڈوائزر دبئی سے امپورٹ کرنا پڑے۔ عوام تک اپنی حکومت کی پالیسیاں پہنچانے کیلئے وزیر اطلاعات دستیاب نہ ہوا تو پیپلز پارٹی سے مستعار پر لی ہوی میڈم فردوس عاشق اعوان۔ ترجمانوں کی فہرست میں نصف درجن کا تعلق تو پہلے ہی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق سے ہے۔ پٹرولیم منسٹر اس وقت پی ٹی آئی کے ایم این اے تھے جب اس جماعت کے پاس پنجاب میں صرف چھ سیٹیں تھیں۔ ان کو وزارت سے فارغ کردیا گیا۔متبادل کیلئے سینکڑو ں ارکان قومی اسمبلی اور سینٹروں میں سے ایک بھی ایسا بندہ نہیں ملا جو اس وزارت کو سنبھال سکے۔ اور قرعہ فال این جی او سے وا بستہ سابق بیوروکریٹ کو مشیری کا عہدہ دیدیا گیا۔ پٹرولیم کے ایڈوائزر خود بدنام زمانہ ڈیفالٹر ہیں اور ان کا معاملہ عدالت میں ہے۔ اسد عمر کی جگہ حفیظ شیخ کو لایا گیا جو دو مرتبہ اس عہدہ پر فائز رہے دونوں مرتبہ ناقص کارکردگی پر استعفیٰ دیکر بھاگے۔ وفاقی کابینہ میں ردو بدل ہوگیا لیکن اپنے پیچھے بہت سے سوال چھوڑ گیا۔ وزرا کو سلیکٹ کرنے ولا کون تھا۔ وزرا کو تبدیل کرنے کے اسباب کیا تھے۔ کیا پارٹی کے اندرونی اختلافات کا شاخسانہ ہے یا بری کارکردگی یا پھر کوئی الزام یا نااہلی۔ پھر ایک اور سوال ہے کہ کیا اگر وزارتیں کسی الزام کے سبب تبدیل کی گئیں تو ان وزرا کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔ کیا کوئی تحقیقات ہونگی۔ کیوں کہ الزام کی صورت میں وزارت کی تبدیلی کافی نہیں۔ پھر اگر ایک شخص وزارت کیلئے نااہل ہے تو وہ دوسری وزارت کیلئے اہل کیسے ہوگیا۔آج نہیں تو کل کسی کو آگے بڑھ کر عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ واقفان حال بتاتے ہیں پارٹی کی اندرونی لڑائی کا نشانہ اسد عمر بنے۔ پارٹی کے اجلاسوں اور کابینہ کی میٹنگ میں فیصل واڈا ا ور مراد سعید اپنے مربّی ترین کے اشارے پر وزیر خزانہ کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے۔ اور یہ معاملہ اتنا آگے بڑھا کہ آخر کار عمران خان کو اپنا وزن ترین لابی کے پلڑے میں ڈالنا پڑا۔جہانگیر ترین اپنی شوگر لابی کے تحفظ کیلے اسد عمر سے چھٹکارا پانا چاہتے تھے اور کامیاب رہے۔

عمران خان نے دباؤ میں آکر کابینہ میں تبدیلیاں تو کردی ہیں لیکن ان کے نتیجہ میں پاکستان تحریک انصاف بیک سیٹ پر چلی گئی ہے۔ اب حکومت ٹیکنو کریٹس اور پی پی کی سابقین کے ہاتھوں چلی گئی ہے۔ آٹھ ماہ پہلی بڑی تبدیلی تو شاید ہضم ہوجائے لیکن ایک وقت آئے گا کہ ٹیم پر ہی نہیں ٹیم سلیکٹر کی اہلیت پر بھی سوال اٹھے گا ۔ اپوزیشن جماعتیں تو شاید خاموش رہیں لیکن چیف سلیکٹر ضرور سوال پوچھے گا ۔ پوچھے گا کہ اب تک ڈیلیور کیا کیا ہے؟


ای پیپر