مہنگائی، ڈھٹائی، پسپائی
21 اپریل 2019 2019-04-21

وفاقی وزیر خزانہ کو مہنگائی مار گئی، وزیر اعظم نے بذات خود اپنے منہ سے کہہ کر استعفیٰ لیا۔ یار عزیز سے استعفیٰ لیتے ہوئے کیسا لگا ہوگا؟ کس دل سے رخصت کیا ہوگا؟ دل رکھنے کو کہہ دیا وزارت توانائی لے لو، اچھا ہوا انکار کردیا۔ ورنہ تیل نکلنے کے امکانات بھی ختم ہوجاتے۔ اسد عمر مایوس ہوئے۔ اسلام آباد کو وقتی طور پر ہی سہی، خیر باد کہا اور لوٹ کے گھر آگئے، پاس پڑوس والوں نے پوچھا تو ہوگا۔ ’’ہن آرام اے‘‘ غریبوں کی بد دعائیں بھی لگی ہیں۔ دعائیں بد دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں۔’’ پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہیں‘‘ مہنگائی سے معیشت کو سنبھالا دینے کی کوششیں کیں۔ روزانہ اجلاس، روز بیٹھک بلکہ ’’بیٹھکیں ‘‘کیا حاصل ہوا۔ لوگوں نے کہا صاحب کی آنیاں جانیاں دیکھو اس پر ڈھٹائی کہ ارد گرد کے ممالک کی نسبت مہنگائی کم ہے، ڈھٹائی پسپائی کی طرف لے گئی۔ بالآخر رسوائی ہوئی۔ ’’ہم تو ڈوبے تھے صنم 9 کو بھی لے ڈوبے ہیں۔ کپتان نے گویا پوری ٹیم بدل دی۔ دس وزارتوں میں رد و بدل، گیس کے بل ہزاروں لاکھوں میں بھیجنے والے وزیر کو بھی رخصت کردیا۔ استعفیٰ دینے میں ہچر مچر کرتے رہے۔ مگر ایک نہ چلی، کپتان نے انہیں بھی متبادل وزارت پیش کی۔ انکار کر کے چلے آئے۔ لوگوں نے کہا۔

کوئی سورج سے یہ پوچھے کہ کیا محسوس ہوتا ہے

بلندی سے نشیبوں میں اترنے سے ذرا پہلے

کسی نے وفاقی وزیر سے پوچھا ’’کبھی مہنگائی دیکھی؟ کبھی محسوس کی؟ بولے نہیں، مہنگائی دیکھی نہیں۔ محسوس نہیں کی تو قابو کیسے پاتے، بندہ جس امتحان یا آزمائش سے گزرا ہی نہ ہو اس کا مقابلہ کیسے کرے گا۔ کسی نے اندر کی خبر لیک کی کہ وزیر اعظم 6 سال سے کہہ رہے تھے کہ آپ وزیر خزانہ ہوں گے تیاری کرلیں، مگر صاحب کورے نکلے، استعفیٰ کی اصل کہانی کیا تھی۔ محکمانہ کارکردگی، خفیہ رپورٹس، مانیٹرنگ اور مہنگائی کے ہاتھوں چیختے چلاتے عوام کی دعائیں استعفیٰ کا سبب بن گئیں۔

کپتان جسے اپنا اوپننگ بیٹسمین قرار دیتے نہ تھکتے تھے تھکے تھکے لہجے میں اسے ہی کابینہ سے الگ کرنا پڑا۔ دوائیں اور گیس مہنگی کرنے والے بھی گھر بھیج دیے گئے’’ خوشنما منظر بدلتے جا رہے ہیں ہمارے عہد کے ماہتاب ڈھلتے جا رہے ہیں‘‘۔ 244 دن بعد ہی آدھی کابینہ (اصل ٹیم) بدل ڈالی۔ اصل ٹیم ان معنوں میں کہ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے ذمہ دار یہی لوگ تھے۔ باقی 36 یا 37 افراد گاڑی کو دھکا لگانے والے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ سبکدوشی کے بعد لاکھ کہتے رہیں کہ میری کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ فیصلہ کر تو دیا۔ 8 ماہ میں کیا گل کھلائے۔ پورے ملک کو خیرات پر لگا دیا۔ اچھی بھلی معیشت کو آئی سی یو میں پہنچا دیا۔ روز اول سے زکواۃ خیرات کی تلاش، سابق حکومت کو کشکول کے طعنے دیتے دیتے خود کشکول تھامے ملکوں ملکوں گھومتے پھرے۔ کسی نے اعتماد کیا نہ حامی بھری۔ بڑے صاحب کو مدد کے لیے نکلنا پڑا، تب جا کر ایک ایک دو دو ارب ڈالر ملے۔ اس پر خوشی کے شادیانے دو تین ارب سے معیشت کیسے سدھرتی۔ گھر میں نہیں دانے اماں چلیں بھنانے، اس پر اربوں کھربوں کے اعلانات، ضمنی بجٹ میں مراعات کا اعلان، عملدرآمد ندارد، تاجر، صنعتکار اور سرمایہ کار بے یقینی کا شکار، کوئی پیسہ لگانے کو تیار نہیں، مشیر تجارت نے برملا اعتراف کیا کہ مہنگائی بڑھ گئی، برآمدات کم ہوگئیں، وجوہ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ 6 ماہ میں بہتری ہوگی۔ کیا بہتری ہوگی۔ صورتحال ابتر ہو رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک مسلسل دہائی دیتا رہا کہ معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ شرح نمو آدھی سے بھی کم ہوگئی۔ شرح سود بڑھانی پڑ گئی۔ اس پر تاجر اور صنعتکار چیں بچیں، آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ نہ کھلا بلکہ اندر سے جواب آیا۔ پہلے شرائط پوری کرو، شرائط عوام مخالف، اپنے بھی مخالفت پر اتر آئے، ایمنسٹی اسکیم پر سابق حکومت کو گالیاں دیتے تھے کہ نواز شریف نے ایمنسٹی اسکیم شروع کر کے چوروں اور ڈاکوؤں کو تحفظ دیا ہے۔ اپنے وزیر خزانہ نے وہی اسکیم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ کابینہ میں سخت لے دے ہوئی۔ وزیروں کی اکثریت نے مخالفت کی۔ اشیائے صرف کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، روپے کی قدر میں روز بروز کمی ڈالر کو پر لگ گئے لوگوں نے کہا 170 روپے تک جائے گا اسی تناسب سے قرضوں میں اربوں کا اضافہ، چیخ و پکار، شور شرابہ، اپنی نا اہلی پر خاموشی، پیشیاں بھگتنے والوں کو گالیاں، روزانہ 6 ارب ڈالر سود دینا پڑتا ہے۔ اتنی پریشانی ہے تو قرضے کیوں لیے جا رہے ہیں۔ 8 ماہ میں معاشی سست روی، فیصلے نہ کرنے کی روش، غیر یقینی صورتحال اور اسٹیک ہولڈرز میں اضطراب، بیرون ملک پاکستانیوں نے ہاتھ کھینچ لیے وزیر خزانہ کی حکمت عملی کے باعث قوم کو 5 سو ارب کا نقصان آئی ایم ایف نے ٹھینگا دکھا دیا۔ اس پر شرمندگی کا سامنا ،جہاں اور جب جب کسی پیکج ڈیل کا اعلان کیا فنڈز کی کمی آڑے آئی۔ 8 ماہ میں صرف ہاتھ پاؤں مارتے رہے ،کچھ نہ کیا کچھ نہ کرسکے۔ بالآخر رخصت کردیے گئے۔ کسی نے ٹوئٹ کیا کہ حکومت کا دماغ چلا گیا کلبوت رہ گیا۔ پتا نہیں کہاں تک درست ہے ایسے ہی عالی دماغ ہیں تو اللہ خیر کرے، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے رپورٹس میں تشویش ظاہر کی کہ پاکستان میں ترقی کی شرح کم ہوگئی مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔ غربت مزید بڑھے گی۔ طرفہ تماشا ان رپورٹس کے باوجود وفاقی وزراء نادانیوں سے باز نہ آئے ایک نے کہا ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ میں نوکریوں کی بارش ہوجائے گی۔ اس عرصہ میں نوکریوں کا قحط پڑ گیا۔ باران رحمت سے البتہ سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ عوام کا تیل نکل گیا سمندر سے تیل نکالنے کی نوید سنائی جا رہی ہے، یادش بخیر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم و مغفور بھی بوتل میں پیٹرول لے کر قومی اسمبلی پہنچ گئے تھے کہ ملک میں تیل نکل آیا۔ خوشحالی اور استحکام کا دور دورہ ہوگا کسی نے کھڑے ہو کر پوچھ لیا کس پیٹرول پمپ سے لائے، امیدیں، آرزوئیں، خواہشات اور خواب کب پورے ہوں گے، پوری قوم منتظر مگر مایوسی اپنے عروج پر،مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ چیئرپرسن اوگرا نے خوشخبری سنا دی کہ یکم جولائی سے گیس 75 سے 80 فیصد مہنگی ہوسکتی ہے۔ بجلی ہر مہینہ مہنگی ہو رہی ہے ،معیشت کو کندھا دینے کے لیے ادھار لینا پڑا ہے۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ 2010ء سے 2013ء تک پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر خزانہ رہے ٹیکنوکریٹ ہیں، یہی کرنا تھا تو بہت پہلے بلکہ ابتدا سے کرلینا چاہیے تھا ،کیا ضروری تھا کہ مارکیٹنگ کے بندے کو ماہر معاشیات ظاہر کر کے وزیر خزانہ بنا دیا۔ نئے آنے والے مشیر خزانہ نے بھی معاشی خود مختاری مانگ لی۔ رد و بدل کرنے والے کیسے مانیں گے؟ پارٹی مفادات، ذاتی خواہشات اور بیرونی مطالبات، خود مختار فیصلے کیسے ہوں گے؟ معیشت ابھی تک آئی سی یو میں ہے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کیا ہوگا؟ پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا۔ مسائل کی گہرائی کو اوپری سطح سے پرکھنے کے عادی افراد بھرے پڑے ہیں سابق حکومتوں پر تنقید، گالم گلوچ اور کرپشن کے تیر بہدف نسخوں سے قوم کو بہلانے والے کتنے لوگوں کو رد و بدل سے گھر بھیجا جائے گا کنوئیں میں نجس جانور گر گیا تھا۔ بے چارے دیہاتی رات بھر کنوئیں سے پانی نکالتے رہے نجس جانور کنوئیں میں رہا کنواں پاک کیسے ہوگا؟ ایک خواب، اپنوں اور غیروں کی خواہش، قوم کو مسائل کے بھنور سے نکالا جائے، کرپشن کرپشن کے نعروں سے بہلانا کافی نہیں، ورنہ بقول شخصے ووٹ دینے اور ووٹ گننے والے بجٹ کے بعد ہی کسی متبادل کی تلاش شروع کردیں گے۔


ای پیپر