آزادی کشمیر کے ہیرو یٰسین ملک شدید بیمار
21 اپریل 2019 2019-04-21

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کی صحت بگڑنے پر انہیں نئی دہلی کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ وہ پچھلے بارہ دن سے تہاڑ جیل میں بھوک ہڑتال پر تھے۔ اس دوران انہوں نے اپنی صحت کے حوالہ سے ضروری ادویات بھی کھانا چھوڑ رکھی تھیں جس پر ان کی حالت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں ہسپتال داخل کروادیا گیاہے۔ حریت لیڈر بھارتی حکومت اور قابض انتظامیہ کے ناروا رویہ کے سبب بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوئے۔ پچھلے چند ماہ میں مودی سرکار نے کشمیر میں حریت لیڈروں کے خلاف خاص طور پر گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔ ہندوستانی خفیہ اداروں این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو کشمیری رہنماؤں ، تاجروں اور وکلاء کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ بھارتی ایجنسیاں ایک ایک کرکے کشمیری لیڈروں پر پاکستان سے مبینہ فنڈنگ اور کشمیری مجاہدین کو رقوم فراہم کرنے جیسے الزامات لگا کرجھوٹے مقدمات بنا رہی ہیں اور پھر انہیں کشمیر سے بھارتی جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ پہلے شبیر احمد شاہ کو تہاڑ جیل میں قید کیا گیا، دختران ملت کی چیئرمین سید ہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین جیسی خواتین رہنماؤں کو نئی دہلی لیجایا گیا توپھر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کو بھی سری نگر کی سنٹرل جیل سے تہاڑ جیل لیجا کر نظربند کر دیا گیا۔ کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں ان دنوں کشمیری قیدیوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کیا جارہا ہے۔ انہیں قرآن پاک کی تلاوت کی اجازت نہیں دی جاتی، نمازوں کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے اور ناقص خوراک فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بروقت علاج معالجہ کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جاتیں ۔جیلوں میں قید کشمیریوں کے ساتھ اس قدر درندگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے کہ سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہیں کہ بھارت نے کشمیری قیدیوں کیلئے جیلوں کو گوانتاناموبے میں تبدیل کر دیا ہے۔ بی جے پی حکومت کی جانب سے چن چن کر ہندوانتہاپسندوں کو تعینات کیا گیا ہے جو مسلمان قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ ظلم و بربریت پر مبنی سلوک کر رہے ہیں اور انہیں بدترین ذہنی اذیت سے دوچار کیا جارہا ہے۔ کشمیری لیڈر یٰسین ملک اگر آج نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں بھوک ہڑتال پر مجبور ہوئے ہیں تو اس کا سبب بھی یہی ظلم و دہشت گردی پر مبنی کاروائیاں ہیں۔ ان کی تنظیم جے کے ایل ایف تو آج کل خاص طور پر زیر عتاب ہے۔ بھارتی انتظامیہ نے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی لگائی، ان کے رہنماؤں اور کارکنان کی پکڑ دھکڑ کی گئی اور اثاثہ جات قبضے میں لئے گئے تو اس کے چند دنوں بعد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ یٰسین ملک کی جماعت کے خلاف بھی پابندی کے بعد اسی نوعیت کے اقدامات اٹھائے گئے جس طرح جماعت اسلامی کے خلاف کئے جارہے تھے۔ لبریشن فرنٹ کے بیسیوں رہنماؤں اور کارکنان کو بھی گرفتار کر لیاگیا، ان کے دفاتر سیل کر دیے گئے اور سرگرم کارکنان پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کیلئے جیلوں میں ڈال دیا گیاہے۔

بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں چونکہ ان دنوں نام نہاد الیکشن ہو رہے ہیں ، اس لئے بی جے پی حریت تنظیموں پر پابندیوں اور کشمیری لیڈروں کے خلاف کاروائیوں کو بڑے فخر کے طور پر ہندو انتہا پسندوں کے سامنے اپنی کارکردگی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بھارتی وزراء کا کہنا ہے کہ کشمیر ی تنظیموں اور اہم شخصیات کے خلاف جو اقدامات ان کی حکومت اٹھا رہی ہے ماضی میں کسی حکومت کی جانب سے نہیں کئے گئے۔ بھارتی حکومت ظلم و جبر کے ذریعہ کشمیری قیادت کو اپنے سامنے جھکانا اور کشمیری عوام کی قیادت سے پیچھے ہٹانا چاہتی ہے لیکن اس کے یہ سبھی حربے بھی مکمل طور پر ناکام ہو رہے ہیں۔مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، ڈاکٹر قاسم فکتو، سیدہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین اور لبریشن فرنٹ کے قائد یٰسین ملک نے جیلوں میں رہتے ہوئے جس طرح بھارتی درندگی کا جرأت سے مقابلہ کیا ہے اس سے دنیا کے سامنے کشمیری قیادت کا چٹان جیسا مضبوط عزم اور حوصلہ ایک مرتبہ پھر کھل کر واضح ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابی ڈرامہ فلاپ ہونے کے بعد کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، قتل و غارت گری اور دہشت گردی کے واقعات میں مزید تیزی آگئی ہے۔ روزانہ کسی نہ کسی جگہ سرچ آپریشن کے بہانے نہتے کشمیریوں کا خون بہایا جارہا ہے۔ ان کی املاک برباد کی جارہی ہیں اور 2008ء میں شروع ہونے والی آر پار تجارت روک دی گئی ہے جس سے کشمیری تاجروں کا کروڑوں روپے مالیت کا سامان تباہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز بھی کشمیری تاجروں کے 35ٹرک روک زبردستی واپس کر دیے گئے اور آزاد کشمیر سے بھی کوئی ٹرک نہیں جانے دیا جارہا۔ یہ سب حربے کشمیریوں کی معیشت تباہ کرنے کیلئے ہیں۔ بھارتی حکومت ان دنوں کشمیری تنظیموں کے نمائندہ اتحاد حریت کانفرنس پر بھی پابندیاں لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق ، بزرگ کشمیری قائد سیدعلی گیلانی کے صاحبزادوں ڈاکٹر نعیم گیلانی ، ڈاکٹر نسیم گیلانی اور فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ کی کمسن بیٹیوں کو نئی دہلی طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہراساں کرنا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ حریت کانفرنس (ع) کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے یٰسین ملک کی حالت بگڑنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ا سی طرح جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے کہا ہے کہ ان کی زندگی کو سخت خطرات لاحق ہیں۔اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکومت پر ہو گی۔ یٰسین ملک کو نئی دہلی ہسپتال داخل کروانے کی خبروں پر سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں۔ یٰسین ملک کی پاکستان میں موجود اہلیہ مشعال ملک بھی شدید پریشان ہیں جس کا اظہار انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بھی کیا ہے۔ معصوم بیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی بیٹی کو پاکستانیوں کے سپرد کرتے ہوئے نئی دہلی جیل میں قیداپنے شوہر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں ان کی زندگی کے حوالہ سے سخت تشویش میں مبتلا ہوں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے انہیں بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ میری شادی کی سالگرہ کے موقع پر مجھے پیغام دیا گیا کہ یہ آپ کی شادی کی آخری سالگرہ ہے۔ یٰسین ملک کی کھانا نہ کھانے کی وجہ سے صحت انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ وہ اپنے شوہر پر ظلم و بربریت کی داستان سناتے ہوئے رو پڑیں او رکہا کہ میرے شوہر کی جان خطرے میں ہے۔ پاکستان ان کا کیس عالمی عدالت میں لے جا کر مجھے انصاف دلائے۔ مشعال ملک کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر ظلم کی انتہا ہو گئی،مقبوضہ کشمیر میں تمام جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پاکستانی عوام مضبوط فوج کی وجہ سے محفوظ ہیں،وہ اب کشمیریوں کابھی سوچیں۔ حکومت پاکستان کشمیر کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائے۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران مشعال ملک نے جس درد بھرے جذبات کا اظہار کیا ہے اسے ہر پاکستانی دل سے محسوس کرتا ہے۔ کیا انسانی حقوق کے ٹھیکیدار ملکوں اور عالمی اداروں کو یہ نظر نہیں آتا کہ کسی طرح بھارتی درندگی کی وجہ سے ایک معصوم بیٹی اپنے باپ سے اور ایک عورت اپنے خاوند سے ملاقات تک کرنے سے محروم ہے۔ بھارت نے جس طرح یٰسین ملک کا پاسپورٹ ضبط اور انہیں جیل میں قید کر رکھا ہے، اسی طرح ان کی اہلیہ مشعال ملک اور ان کی کمسن معصوم بیٹی کو بھی ویزہ دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔کیا یہ ظلم کی انتہا اور انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہے؟۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان مشعال ملک کی پریس کانفرنس کے دوران کی گئی باتوں پر غور کرے اور اس انتہائی اہم مسئلہ کو عالمی عدالت میں لے کر جائے تاکہ یٰسین ملک کو نا صرف یہ کہ جیل سے رہائی دلوائی جائے بلکہ ایک معصوم بیٹی کو اپنے باپ اور ایک عورت کی اس کے شوہر سے ملاقات کروانے میں بھرپور کردارا دا کیا جائے۔


ای پیپر