سوال 2
21 اپریل 2019 2019-04-21

برسوں کی تحقیق کے بعد انسانی ذہنوں پر کام کرنے والے سائنس دانوں نے وہ 2 کارآمد سوال تلاش کرلیے ہیں۔ جو کوئی بھی کام کرنے سے پہلے ہم خود سے کرتے ہیں اور جو دوسرے ہم سے کرتے ہیں۔

اپنے تجربات کی تجوری کھول لیں اور میرے ساتھ یادوں کی پوٹلی اٹھا کر اس محفل میں آجائیں۔ معاملہ دنیا کا ہو یا آخرت کا۔ جب بھی ہم خو د سے یا کوئی او ر، خواہ وہ اجنبی ہو یا قریبی عزیز ، چاہے وہ باس ہویاقوم کا لیڈر، یہ کہتا ہے ،"آؤ !میرے ساتھ چلو ، اس کام میں میرے شامل ہوجاؤ۔"تو سماجی ماہرین کے نزدیک یہ سنتے ہی ، انٹارٹیکا سے افریقہ تک ، ایشیا سے یورپ تک ، ہررنگ ونسل کے انسان کے ذہن میں جو پہلا سوال ابھرتا ہے۔وہ ہے ، ہم یہ کیوں کریں ؟ اس مختصر سے سوال میں تہہ در تہہ کئی سوال شامل ہوتے ہیں۔ آپ کاخواب اور منصوبہ اپنی جگہ ،ہم آپ کے ساتھ مشکلات کیوں سہیں ؟ آخری اور سب سے اہم بات۔ یہ توبتاؤ ، ہمیں کیا فائدہ ہوگا ؟

اب یہ بات شروع کرنے والے کی ذمہ داری ہے وہ انہیں مطمئن کریں جن کو وہ اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتا ہے۔ انہیں حوصلہ دے ، امید جگائے،فائدہ بتائے ۔ جیسے ہی پہلے سوال کا تسلی بخش جواب مل جاتا ہے ، ساتھ ہی دوسرا سوال سامنے آجاتا ہے۔ کیا ہم یہ کرپائیں گے ؟ اس سوال میں بھی تہہ در تہہ کئی سوال موجود ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس وسائل نہیں ، تعلیم نہیں ، ہنر نہیں۔ ایک بار پھر بات کرنے والے پر ذمہ داری آجاتی ہے ، وہ لوگوں کو اعتماد دے۔ اپنے تجربات شیئر کرے ۔ اپنی قابلیت بتائے ، اعتمادکے ساتھ روڈ میپ دے۔ وہ کیسے سب کی قابلیت کو استعمال میں لاکر آہستہ آہستہ پہلے ، دوسرے ، تیسرے مرحلے میں منزل تک پہنچاسکتا ہے۔ جیسے ہی دوسرے سوال کا جواب ملتا ہے۔ فرد تو بہت چھوٹی بات ، دیکھتے ہی دیکھتے قومیں بدلنے لگتی ہیں۔ ان 2 سوالوں کا جواب نبیوں کو بھی اپنی قوم کو دینا پڑا اور عام لیڈرز کو بھی۔ جب تک دنیا باقی ہے یہ2 سوال جواب مانگتے رہیں گے۔

اب دیکھ لیتے ہیں ، ان دونوں سوالوں کی بنیاد کیا ہے ؟ پہلے سوال کا تعلق motivation (ترغیب) سے ہے اور دوسرے کا ability (اہلیت) سے۔ پہلا سوال دماغ کے دائیں حصے سے ابھرتا ہے ، جہاں جذبات جنم لیتے ہیں۔ خواب تخلیق پاتے ہیں۔ امیدیں قوس قزح بکھیرتی ہیں۔ عام طور پر مشکلات میں گھرے فرد ، افراد یا معاشرے کو پہلے مرحلے میں اپنے ساتھ ملانا مشکل تو ہوتا ہے لیکن انتہائی مشکل نہیں ہوتا۔ ناامیدی کا شکار لوگ پہلے ہی کسی نجات دہندہ کے منتظر ہوتے ہیں۔جیسے ہی کوئی تبدیلی کا نعرہ لگاتا ہے ، انتظار ختم ہونے کی ترغیب جوش بڑھا دیتی ہے۔ جنون سر پھٹکنے لگتا ہے۔جوش بھرے نغمے توانائی کا ٹانک (tonic)بن جاتے ہیں۔ تبدیلی آئی رے آئی۔ سوتے جاگتیکانوں میں صدا گونجنے لگتی ہے۔ ترغیب سے جڑا یہ پہلا سوال ،ہم کیوں کریں ؟ آپ نے ماضی اور حال میں کئی بار سنا ہوگا اور مستقبل میں بھی سنتے رہیں گے۔

انسانی ذہن میں ابھرنے والے دوسرے سوال کا تعلق دماغ کے بائیں حصے سے ہے جو عملیت پسند ہے۔یہ دماغ کے دائیں حصے کی طرح خواب نہیں دیکھتا بلکہ خوابوں کو پورا کرنے کے لیے اسباب تلاش کرتا ہے۔ نفع پانے کی راہیں ڈھونڈتا ہے اور نقصان دینے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے بارے میں سوچتا ہے۔کامیابی اور ناکامی کے امکانات کا تعین بھی دماغ کا بایاں حصہ ہی کرتا ہے۔ کیا ہم یہ کرسکتے ہیں یا کیا ہم یہ کرپائیں گے ؟ اس سوال کا تعلق (ability )اہلیت سے ہے۔ یہ وہ مشکل مرحلہ ہے۔ جب جنون دم توڑنے لگتا ہے۔خواب بکھرنے لگتے ہیں۔ ناامیدی پھر بال کھولے سوچ کی منڈیر پر آبیٹھتی ہے۔ کیونکہ یہاں آپ کا جوش نہیں ، ہوش کام دکھائے گا۔ جذبات نہیں، اہلیت معیار بنے گی۔ آپ کتنا ہی بڑا نعرہ لگالیں ۔ آپ کو جہازچلانا نہیں آتا تو جہاز نہیں چلے گا۔ جہاز کیا کار تک یہی معاملہ ہے۔ کوئی الٹا سیدھا بٹن دبانے یا چابی گھمانے سییہ چل بھی پڑے تو حادثہ حرف آخر ہے۔ دوسری جانب اگر آپ میں اہلیت ہیتو جذبہ چاہے کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔دل چاہے نہ چاہے۔ آپ تھکے ہوئے ہوں یا بیمار پڑے ہوں حتی کہ زخمی ہی کیوں نہ ہوں۔ آپ بے دلی سے بھی وہ کام کرلیں گے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا ، وہ اہلیت آپ نے مجبوری سے سیکھی تھی یا شوق سے۔ یاد کریں کئی بار اٹھنے تک کو دل نہیں چاہا لیکن پھر بھی سائیکل ، موٹرسائیکل ، گاڑی چلا کر دفتر یا بازار گئے اور کام کرآئے۔

آپ سمجھ رہے ہیں ناں۔ مسئلہ کہاں پیش آرہا ہے۔ ہم کہاں جذباتی طور پر بلیک میل ہوتے ہیں اور کہاں مات کھا جاتے ہیں۔ دراصل ہم ترغیب کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، اس کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن معیار اہلیت ہوتا ہے اہلیت۔سمجھداری یہ ہے ، اس سے پہلے کہ جوش کی پرواز قوت کھو دے ، اہلیت کو بڑھاتے جائیں ، مشکل لمحات اور پیچیدہ معاملات میں بھی اہلیت حوصلہ بن جائے گی۔ اپنے اردگرد دیکھ لیں ، آج دنیا میں جو بھی بہتر ہورہا ہے۔ اصل میں اہلیت اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ خواب گروں کے خواب بھی اہل لوگ ہی پورے کرتے ہیں۔ وہ دستیاب نہ ہوں یا ان کو ساتھ نہ ملایا جائے یا پھر اپنی اہلیت کو بھی نہ بڑھایا جائے تو تبدیلی کی امنگیں محض تلخ یادیں بن جاتی ہیں۔ حال شیخ چلی جیسا ہوجاتا ہے۔ سر پررکھی امید کے انڈوں سے بھری ٹوکری دھڑام سے نیچے آگرتی ہے اور سارے خواب ملیا میٹ ہو جاتے ہیں۔

آگے بڑھتے ہیں۔ ماننا پڑے گا کہ اہلیت ایک دن میں نہیں آجاتی۔ اس کے لیے مشق کا تسلسل ضروری ہے۔ ادارے بنانے پڑتے ہیں جہاں گفتار کے غازی نہیں، عمل کے مجاہد تیار ہو پائیں۔ اپنے ہنر سے وہ خود کو اور خاندان کو سنبھالیں۔ لیڈر ہیں تو اپنی پالیسیوں سے وہ خواب پورے کردکھائیں جن کا وہ قوم سے وعدہ کرتے ہیں۔ جب ہنر کے چراغ گھر گھر جلتے ہیں تو پراعتماد معاشرہ جنم لیتا ہے اور خوددار بھی۔ اقبال یہی تو کہتے ہیں۔ ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ ۔

سب سے اہم نکتہ بھی جوسمجھ آیا، بتادوں۔ اہلیت تبدیلی کی بنیاد سہی مگر ذہن نشین رہے۔اگر اہل آدمی منفی سوچ کا مالک ہے یا ذاتی مفادات کو ترجیح دیتا ہے تو معاشرے میں جابجا منصوبے سراٹھاتے نظر آئیں گے جو دیکھنے میں خوشنما لگتے ہیں لیکن اصل مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ امیر امیر ہوتا جاتا ہے ، غریب کو مقدر کی افیون سنگھادی جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے ، اہلیت کا حامل شخص مثبت سوچ کا مالک بھی ہو، اگر یہ ہوجائے تو آپ خود دیکھیں گے ، کیسے نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔اس قول زریں کو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے بخاری شریف میں پہلا نمبر دے کر بتادیا۔ ترغیب پر اہلیت کو برتری ہے۔ دونوں پر نیت کو۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔


ای پیپر