عوام چپ نہیں رہیں گے
21 اپریل 2019 2019-04-21

کئی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ ملک کے سویلین ادارے تنزلی کی طرف رواں ہیں جس سے سماجی حلقوں میں بڑی بے چینی پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعمیر و ترقی کے راستے مسدور ہیں۔ حکومت کچھ سوچ رہی ہے تو وہ ادارے کچھ اور، انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ شاید حکومت ان کے خلاف ہے لہٰذا وہ کیوں نہ اسے بھول بھلیاں میں ڈالیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان کی طرف دست تعاون بڑھا رہی ہے تاکہ وہ انتظامی معاملات میں کسی لغزش سے محفوظ رہ سکے مگر عجیب بات ہے کہ ادارے تیقن کی حدود میں داخل ہونے سے گھبرا رہے ہیں ان کے اس طرز عمل سے ملک کی اجتماعی صورت حال بہتر نہیں خراب ہو رہی ہے۔ اگرچہ حکومت نے اکھاڑ پچھاڑ کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی جانب قدم بڑھایا ہے مگر جب تک ذہنوں میں اندیشے و خدشات موجود ہیں منزل کے قریب نہیں پہنچا جا سکتا ۔ اسی لیے ہی صدارتی نظام کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ اس میں اختیارات فرد واحد کے پاس آ جاتے ہیں اور وہ جو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اس پر عمل در آمد کرا دیتا ہے۔ بلا شبہ عمران خان بھی وہی کچھ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر پارلیمنٹیرین جن کے بغیر ان کی حکومت کھڑی نہیں رہ سکتی اور پھر وہ بھی وزیر اعظم کے عہدے پر متمکن نہیں رہ سکتے آڑے آ رہے ہیں اور وہ آئیں گے بھی کیوں نہیں ، انہوں نے ایوانوں میں پہنچنے کے لیے سخت محنت کی ہے کروڑوں اربوں روپے خرچ کیے ہیں اور یہ طے کر رکھا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہیں تو اندھیر مچا دیں گے فلاں کو فلاں ٹھیکہ دلوائیں گے فلاں سے یہ کام لیں گے اور فلاں کو فلاں عہدے پر تعینات کرائیں گے تاکہ ان کے مفادات کا حصول ممکن ہو سکے ایسی سوچ کیسے عوامی مفاد کو ملحوظ حاطر رکھ سکتی ہے۔ اب تو یہ سوچ پختہ ہو چکی ہے اور اس کے اثرات نچلی سطح پر خوفناک حد تک مرتب ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً دھوکا دہی ، ہیرا پھیری ، حقوق سلب، ظلم و جبر، زیادتی ، سینہ زوری، قانون شکنی، چوری ، ڈکیتی اور دروغ گوئی عام ہیں۔ اس صورت میں کوئی بھی حکومت کامیابی حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ دماغوں میں ٹیڑھا پن اور جُل دینا دبک کر بیٹھ گئے ہیں تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔ عمران خان کے ساتھ جب ایسا ہو گا تو پھر یقیناً عوام مایوس ہوں گے ہی مگر انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ اگر اس نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو عارضی تکالیف کے لیے خود کو تیار کریں کیونکہ ماضی کے حکمرانوں نے ان کو مزید دبانے اور جھکانے کے لیے آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے بھاری قرضے سخت شرائط پر لے کر انہیں وقتی ریلیف دیئے جو آج ان کے لیے سوہان روح بن گئے ہیں اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت بالکل ہی بے بس ہے وہ عوام کو کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں وہ تھوڑا بہت کچھ نہ کچھ کر سکنے کا اختیار اور سکت رکھتی ہے۔ بات پھر وہی ہے کہ اسے بعض روایتی عوامی نمائندوں کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ جو اسے انقلابی اقدام سے روک رہے ہیں۔ عین ممکن ہے اس کے پیچھے کوئی مصلحت ہو کوئی حکمت عملی ہو؟

بہر حال سویلین ادارے حکومت سے پر جوش انداز سے پیش نہیں آ رہے ان کے تحفظات بھی ہوں گے مگر جاوید خیالوی کے مطابق انہیں عادت پڑ گئی ہے من مرضی کی وہ ذہنی طور سے خود کو اعلیٰ تصور کرتے ہیں اور یہ برداشت کرنے کو تیار نہیں کہ وہ عوامی نمائندوں کے زیر اثر کام کریں گے کہ جنہیں لوگوں سے دلچسپی بہت کم ہوتی ہے اور انہیں اپنے گرد جمع رکھنے کے لیے ان کے جزبات سے کھیلتے ہیں ان کے معمولی معمولی کاموں کو غیر معمولی بنا کر انہیں جھک جانے پر مجبور کرتے ہیں مقصد اس کا وہی ہوتا ہے کہ وہ ان سے دور نہ جائیں ان کی ضرورت کو محسوس کرتے رہیں مگر سوال یہ بھی ہے کہ بیورو کریسی بھی تو یہی کچھ کرتی ہے لہٰذا برتری حاصل کرنے کی اس کشمکش میں عوام رُل رہے ہیں اور ملک کو اقتصادی معاشی اور انتظامی نقصان پہنچ رہا ہے۔

اس کھینچا تانی میں عوام کبھی اداروں اور کبھی عوامی نمائندوں سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر چونکہ اداروں کے سر براہوں ہی کے ذریعے تمام امور نمٹانے ہیں لہٰذا عوامی نمائندوں کو ان کامرہون ہونا پڑ رہا ہے۔ پھر مسائل اس قدرگمبھیر صورت اختیار کر چکے ہیں کہ انہیں آسانی سے حل کرنا کسی ایک کے بس میں نہیں لہٰذا ول ڈیورانٹ نے اس تناظر میں کہا کہ ’’ جوں جوں حکومت زیادہ پیچیدہ ہوتی جاتی ہے منتخب نمائندے کم سے کم اہم اور ماہرین زیادہ اہم ہوتے جاتے ہیں‘‘۔ منتظمین آئین سازوں کے معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں کیونکہ منتظمین ، ماہرین کی مجالس سے امداد حاصل کرتے ہیں۔ وہ ایک مثال پیش کرتا ہے کہ پریزیڈنٹ ہارڈنگ کے عہد حکومت میں کانگریس کے اراکین کو یہ دیکھ کر سخت صدمہ پہنچا کہ ایک پریڈ میں انہیں چند ماہرین کے پیچھے بیٹھنے کی جگہ ملی۔ سینیٹ نے اس معاملہ پر باقاعدہ احتجاج کیا اور مسٹر ہارڈنگ نے اپنے مخصوص انداز میں اس کا جواب دیا لیکن اس واقعہ نے یہ ظاہر کر دیا کہ حالات کا رخ بدل رہا ہے’’ نمائندہ حکومت ‘‘ ختم ہو چکی تھی۔ جمہوریت نے اپنے عہدوں پر ذہین آدمیوں کو متعین کرنے کی راہ نہیں پائی تھی اور جب جمہوریت اخبار پڑ ھ رہی تھی یا تقریریں کر رہی تھی، ذہین لوگ طاقت حاصل کر رہے تھے‘‘۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ ذہین لوگ بھی اب طاقت پا چکے ہیں اور مستقبل قریب میں اس کا مظاہرہ کریں۔ ؟ خیر یہ تو اگلے چند ماہ میں معلوم ہو ہی جائے گا کہ کیا ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا مگر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ آنے والے دن انتہائی اہم ہیں جو اپنے اندر ایک تبدیلی رکھتے ہوں گے ؟ اس کے آثار کچھ کچھ دکھائی بھی دینے لگے ہیں کہ حکومت اپنا پروگرام رکھتی ہے اور ذہین لوگ اپنا۔۔۔ کیونکہ حکومتی اراکین میں سوائے نمودو نمائش، ذاتی مفاد، اقربا پروری، زر کی آرزو اور اختیارات کے حصول کے اور کچھ نظر نہیں آ رہا۔۔۔ لہٰذا وہ جلد از جلد اپنے اہداف تک پہنچنا چاہتے ہیں اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں گے کیونکہ منظر بدل جائیں گے پس منظر بدل جائیں گے یعنی منظر مری نگاہ میں ہے۔؟

بہر کیف اب اگر منتخب حکومت ہوش کے ناخن لے لیتی ہے اور دوسروں پر انحصار کم کر کے قابل اہل اور ذہین افراد کو ساتھ لے کر عوامی خدمت پر مامور ہو جاتی ہے تو اس کے لیے مستقبل کی روشن راہیں کھل سکتی ہیں بصورت دیگر وہ ایک ایسے نظام کو جنم دینے کا سبب بن سکتی ہے جس میں حکمرانی کے لیے لوگ چنے جاتے ہیں اور شاید ایسا ہی ہونے جا رہا ہے کیونکہ مسائل، پیچیدگیاں اور مشکلات نے ہمارے قومی وجود کو بد حال کر دیاہے آخر کب تک طمع خوروں سے کسی حل کی توقع کی جا سکتی ہے کہ جنہوں نے حالات کی خرابی کو ٹھیک کرنے کے بجائے مزید بگاڑ دیا ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حقیقی تبدیلی لائی جائے اگر عوام کو نفسیاتی طور سے مطمئن کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے تو یہ محض خام خیالی ہو گی کیونکہ عوام کم از کم اتنا تو جان چکے ہیں کہ انہیں کس کس نے بیوقوف بنایا اور بنا کر ا ن کے خزانے پر ہاتھ صاف کرتے رہے اور وہ اچھے دنوں کی آس میں بھوکے پیاسے ان کے پیچھے بھاگتے رہے لہٰذا وہ چپ نہیں رہیں گے بولیں گے !


ای پیپر