وزیر اعظم ! گیئر نہیں ڈرائیور بدلیں !
21 اپریل 2019 2019-04-21

عالمی سطح پر سپر پاور امریکہ کے دو اصول ہیں جن کی بنیاد پر امریکی خارجہ پالیسی کھڑی ہے۔ پہلا یہ ہے کہ امریکہ غلطی نہیں کرتا دوسرا یہ کہ امریکہ معافی نہیں مانگتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ارمنہ قدیم کا سیاسی اصول تھا کہ بادشاہ مرگیا بادشاہ زندہ باد جس کا مفہوم یہ تھا کہ بادشاہ کبھی نہیں مرتا کیونکہ اس کے مرنے کے ساتھ ہی فوراً اس کا جانشین اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ امریکہ کا 9/11 کے بعد عراق پر حملہ اس بنیاد پر تھا کہ وہاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں یہ غلط ثابت ہوا۔ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی مگر امریکہ نے آج تک معافی نہیں مانگی۔ اسی طرح 18 سال تک افغانستان میں طالبان کے خاتمے میں ناکامی کے بعد اب طالبان کی شرائط پر ان سے صلح کی جا رہی ہے مگر امریکہ پھر بھی یہی ظاہر کر رہا ہے کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی۔پاکستان میں جو بھی حکومت آتی ہے فوجی ہو یا جمہوری، کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو کوئی بھی وزیر اعظم ہو مگر قوم کے ساتھ ان سب کا رویہ وہی ہوتا ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ امریکہ غلطی نہیں کرتا امریکہ معافی نہیں مانگتا۔ ہماری اعلیٰ قیادت قوم کے ساتھ یہی کرتی ہے۔ یہ ہر دور میں ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے اور شاید آگے بھی ہوتا رہے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے پنجاب میں 8 ماہ میں تیسری بار آئی جی پولیس کو تبدیل کیا ہے مگر پھر بھی تبدیلی ہے کہ آتی ہی نہیں ۔ امجد جاوید سلیمی صاحب کو چند ماہ پہلے جب آئی جی تعینات کیا گیا تو راقم نے اپنے کالم میں ذکر کیا تھا کہ سلیمی صاحب کا تعلق ایک تو ارائیں برادری سے ہے اور دوسرا وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھتے ہیں یہ محض اتفاق کی بات ہے یا نہیں ہے کہ ہمارے گورنر پنجاب چوہدری سرور صاحب میں بھی یہ دونوں قدریں مشترک ہیں شاید اس وقت ہم نے خواہ مخواہ یہ فرض کر لیا ہے کہ تعیناتی میں گورنر پنجاب کا ہاتھ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جب وہ اپوزیشن میں تھے تو اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہم شہباز شریف کو پولیس نظام میں تبدیلی کا کہتے ہیں تو وہ پولیس کی وردی بدل دیتا ہے۔ ویسے وردی بدلنے کا فرمان تو تحریک انصاف بھی جاری کر چکی ہے۔ جس طرح شہباز شریف سمجھتے تھے کہ وردی بدلنے سے پولیس بدل جائے گی اسی طرح تحریک انصاف یہ سمجھنے لگی ہے کہ کُرسی بدلنے سے تبدیلی آئے گی اسی لیے گزشتہ 8 ماہ میں تین بار آئی جی کی کرسی بدلی گئی مگر تبدیلی نہیں آ سکی۔

امجد جاوید سلیمی کی پنجاب پولیس کی سربراہی میں دو کام ہوئے ایک تو تاریخی سانحہ ساہیوال ہوا جب بے گناہ افراد کو دن دھاڑے سرعام شاہراہ عام پر گولیوں سے بھون دیا گیا جس میں عورتیں بھی شامل تھیں۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے تحریک انصاف کا ماڈل ٹاؤن تھا مگر امریکہ کی طرح ہماری حکومتیں نہ غلطی مانتی ہیں نہ معافی مانگتی ہیں لہٰذا بلندو بانگ دعوؤں کے با وجود کچھ بھی نہ ہوا۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو امجد سلیمی صاحب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیتے مگر یہ نہ ہو سکا بلکہ یہ واقعہ کسی اور ملک میں ہوتا تو ذمہ داری کے اصول کے تحت آئی جی پنجاب کو ذمہ دار قرار دے کر نوکری سے نکال دیا جاتا مگر بد قسمتی سے وہ بھی نہ ہوا۔ جس کی واحد وجہ یہ تھی کہ حکومت آئی جی کو نکال کر اپنے لیے شرمندگی کا سامان مہیہ کرنا نہیں چاہتی تھی تحریک انصاف کا ضمیر اندر سے انہیں مجبور کرتا تھا کہ آئی جی صاحب کی چھٹی کرائی جائے مگر اس کے سیاسی رد عمل کے خوف سے وہ ایسا نہ کرنے پر مجبور تھے۔ پھر اس کا درمیانی راستہ نکال لیا گیا کہ آئی جی صاحب کو ان کے عہدے سے ہٹا یا جائے مگر اصل مدعا ظاہر نہ کیا جائے جس پر غلطی تسلیم کرنی پڑے یا قوم سے معافی مانگنی پڑے۔ دوسری طرف مقتول خلیل فیملی کو انصاف دینا ضروری تھا جس کے لیے حکومت کو خطرہ تھا کہ جیسے جیسے اس کیس پر عدالتی کارروائی آگے بڑھے گی حکومت کے لیے روزانہ بنیاد پر شرمندگی طاری ہوتی رہے گی۔ لہٰذا خلیل فیملی سے آؤٹ آف کورٹ ڈیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ۔ یہ بالکل انہیں بنیادوں پر کیا گیا جیسے ریمنڈ ڈیوس کا کیس دیت کی ادائیگی کے ذریعے کیا گیا تھا اب خلیل فیملی میڈیا سے رو پوش ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم ریاست کے ساتھ نہیں لڑ سکتے ۔ لہٰذا انہوں نے چپکے سے مالی مراعات کے عوض قاتلوں کو معاف کر دیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی جی پنجاب امجد سلیمی جس کے دور میں یہ واقعہ ہوا ہے ا ن کے دامن پر دستاویزی طور پر سانحہ ساہیوال کوئی داغ نہیں ہے۔

امجد سلیمی کے دور کا دوسرا اہم واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے کرپشن ثابت ہونے پر 40 ڈی ایس پی پولیس سے نکال دیئے تھے جنہیں عدالت نے دوبارہ بحال کر دیا ہے ۔ ان کے اس اقدام کے نتیجے میں آنے والے عدالتی فیصلے اور اس سارے موضوع پر الگ بحث کی ضرورت ہے۔ یہاں ہمارا موضوع یہ ہے کہ کیا آئے روز پولیس سربراہ کی تبدیلی سے پولیس نظام میں تبدیلی کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔

پرانے زمانے کی بات ہے کہ جب ہندوستان میں موٹر کار نئی نئی آئی تو ایک سردار جی جو بہت بڑے لینڈ لارڈ تھے وہ بھی گاڑی خرید لائے انہوں نے نئی گاڑی پر ڈرائیور اُس شخص کو رکھا جو پہلے ان کی گدھا گاڑی چلاتا تھا مگر ان کا وفادار تھا ۔ تھوڑے ہی عرصے میں گاڑی کا گیئر باکس خراب ہو گیا سردار جی نے کمپنی پر کلیم کر دیا کہ نئی گاڑی ہے اتنی جلدی خراب کسیے ہو گئی۔ کمپنی نے مفت نیا گیئر باکس دید یا ۔ جو تھوڑے عرصے بعد ہی خراب ہو گیا ۔سردار جی نے دوبارہ کلیم داخل کر دیا اور کہا کہ مذکورہ ماڈل میں گیئر پر توجہ دی جائے۔ کمپنی نے پھر فری گیئر بدل دیا ۔ اسی دوران کمپنی نے تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ سردار جی کا ڈرائیور تربیت یافتہ نہیں ہے اور گیئر بدلنے کے ٹائم وہ بڑے زور سے لیور کو جھٹکا لگاتا ہے۔ جس سے گیئر چند ماہ میں فارغ ہو جا تاہے ۔ اگلی بار پھر یہی ہوا گیئر پھر خراب ہو گیا ۔ جب سردار جی تیسری دفعہ گیئر ٹوٹنے کی شکایت لے کر گئے تو کمپنی معاملے کی تہہ تک پہنچ چکی تھی انہوں نے جیسے ہی سردار جی کو دیکھا انہیں کہا کہ سردار صاحب اس بار گیئر نہیں اپنا ڈرائیور بدلیں ۔ اس پش منظر میں وزیر اعظم عمران خان کے گھر کے باہر آنے والی آوازیں اب شور و غل میں بدل رہی ہیں۔ کہ بھیڑوں کی رکھوالی کی شکائتیں بڑھتی جا رہی ہوں تو چرواہے کو تبدیل کرنا چاہیے۔

اسی اثناء میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے میڈیا کے سامنے کہنا شروع کر دیا ہے کہ وزیر اعلیٰ وزیر اعلیٰ ہوتا ہے۔ ہمیں نہیں پتہ اس سے ان کی مراد کیا ہے۔ اگر یہ اسلم رئیسانی کی زبان بول رہے ہیں جو یہ کہتی تھی کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے پھر بزدار صاحب کو پوری بات کرنی چاہیے نواب اسلم رئیسانی ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی۔ ہمیشہ اچھا بزدار ( چرواہا) وہ ہوتا ہے جو اپنی بھیڑوں (عوام الناس) کی اچھی نگہداشت کرے۔


ای پیپر