Photo Credit Yahoo

پرویز مشرف نہیں جو ملک سے بھاگ جاﺅں :نواز شریف
21 اپریل 2018 (22:41) 2018-04-21

لندن:سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ وہ پرویز مشرف نہیں جو ملک سے بھاگ جائیں گے،میں بہت ساری باتیں ایسی کروں گا جنہیں آپ ٹی وی پر بھی نہیں چلا سکتے ،ہفتے میں پانچ پانچ پیشیاں ہو رہی ہیں جبکہ دوسرے مقدمات میں تین مہینے تک کوئی پیشی نہیں ہوتی ، یہ چاہتے ہیں کہ نوازشریف کو کسی نہ کسی طرح سزا دیں اور اگلے الیکشن میں (ن) لیگ کو مساوی چانس نہ ملے،جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے بتا دیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کا حکم اوپر سے آیا ہے.

عمران خان سے پوچھیں کہ انہوں نے تیر پر مہر آصف زداری کے کہنے پر لگائی یا کسی نے اوپر سے حکم دیا، (ن) لیگ ان قوتوں سے ہدایات نہیں لیتی جنہوں نے بلوچستان میں اسمبلی الٹائی اور صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوایا،نگران وزیراعظم سے متعلق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے بات چیت ہو چکی ہے ۔ہفتہ کو یہاںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ الیکشن سے قبل نگران سیٹ اپ پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بات ہوئی ہے ، نگران حکومت ایسی ہو جو قوانین کے مطابق کام کرے ، غیر ضروری دباﺅ نہ لے ، میں پرویزمشرف نہیں جو ملک سے بھاگ جاﺅں گا۔ ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد نوازشریف نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے پاکستان کے موجودہ حالات پر گفتگو ہوئی ، ،وزیراعظم سے ملک میں غیر یقینی صورتحال پر بھی بات ہوئی ہے وزیراعظم سے ملاقات ہوتی رہتی ہے ،موجودہ حالات میں پاکستان کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر وزیراعظم سے میری گفتگوہوئی ہے.

الیکشن سے قبل نگران سیٹ اپ پر بھی وزیراعظم سے بات ہوئی ، نگران حکومت ایسی ہو جو قوانین کے مطابق کام کرے ، غیر ضروری دباﺅ نہ لے ، قوم انتخابات کو ریفرنڈم کی طرح لے ، پرویز مشرف اور مجھ میں بہت فرق ہے ، میں پرویز مشرف نہیں جو ملک سے بھاگ جاﺅں گا۔ نوازشریف نے کہا کہ عوام الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیں ، مسلم لیگ (ن) حقدار بھی ہے ، سینیٹ انتخابات میں کیا ہوا جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے بتا دیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کا حکم اوپر سے آیا ہے ، باقی پارٹیاں اوپر سے حکم لینے والی ہیں جبکہ (ن) لیگ عوام سے حکم لیتی ہے ، (ن) لیگ ان قوتوں سے ہدایات نہیں لیتی جنہوں نے بلوچستان میں اسمبلی الٹائی اور صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوایا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے پوچھیں کیا ان کے لوگوں نے سینیٹ انتخابات میں تیر کو ووٹ نہیں دیا ، عمران خان سے پوچھیں کہ انہوں نے تیر پر مہر آصف زداری کے کہنے پر لگائی یا کسی نے اوپر سے حکم دیا ، عمران خان کو یہ بات قوم کو بتانا پڑے گی .

قوم کو جانچنا پڑے گا کہ ان سب میں جھوٹے کون ہیں اور کھرے اور سچے کون ہیں ؟آج سچے اور جھوٹے کا مقابلہ ہے، قوم کو دیکھنا چاہیے اور قوم دیکھ بھی رہی ہے، نواز شریف نے کہا ہے کہ میں قوم کی توجہ مبذول کروا رہا ہوں، یہ پاکستان کو کس طرف لے کر جائیں گے، میں اس طرح کا بندہ نہیں ہوں کہ چھوڑ کر بھاگ جاﺅں ، میرے اوپر ایک مشکل وقت ضرور آیا ہے، مشکل وقت مجھے پر کیوں آیا ہے میں اس کی وجہ سمجھ نہیں پایا، سمجھ آتی بھی ہے لیکن شاید میں اس طرے سے آپ کے سامنے کہہ نہ سکوں، نگران وزیراعظم سے متعلق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے بات چیت ہو چکی ہے ،ایک دو اور اجلاس ہوں گے اور نگران وزیراعظم کےلئے جو بھی نام ہوگا اس پر بات کریں گے ، آجکل پاکستان میں بہت دباﺅ ہے یہ ٹھیک نہیں ہے ،ایسا کوئی ملک دنیا کے خطے میں نظر نہیں آتا جہاں پاکستان جیسے حالات ہوں ،بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں آئے دن اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر نیچے جا رہے ہیں اور روپے کی قدر میں کمی ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقی کی شرح 6فیصد متوقع تھی ، اب پیشنگوئی ہے کہ اگلے سال شاید4.9فیصد رہے ،میرے مقدمے میں کسی قسم کی کرپشن کا ذکر نہیں ہے۔نیب میں سب وہ مقدمات ہیں جہاں کمیشن لی گئی ، کرپشن ہوئی ، میرے کیس میں ایسا کچھ نہیں ہے ، میں بہت ساری باتیں ایسی کروں گا جنہیں آپ ٹی وی پر بھی نہیں چلا سکتے ،بتایا جائے جیسا مقدمہ مجھ پر نیب میں دائر ہوا ہے کیا ایسا کبھی کسی اور پر دائر کیا گیا ہے ،یہ صورتحال ملک اور پوری قوم کےلئے بڑی پریشان کن ہے ۔

نوازشریف نے کہا کہ یہ زبان بندی اظہار رائے پر پابندی ،میڈیا پر پابندی ایسا کسی جمہوری دور میں نہیں ہوا، کیا ہم شفاف الیکشن کی طرف جا رہے ہیں؟، میں اس قسم کا معاملہ پاکستان میں پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں ، میرے معاملے میں کوئی کرپشن ، خرد برد ،فنڈز کا ناجائز استعمال یا کوئی کمیشن کا معاملہ نہیں ہے ،نیب کی تاریخ میں کوئی مقدمہ ایسا دائر نہیں ہوا جو میرے مقدمے سے ملتا جلتا ہو ،ہفتے میں پانچ پانچ پیشیاں ہو رہی ہیں جبکہ دوسرے مقدمات میں تین مہینے تک کوئی پیشی نہیں ہوتی ، یہ چاہتے ہیں کہ نوازشریف کو کسی نہ کسی طرح سزا دیں اور اگلے الیکشن میں (ن) لیگ کو مساوی چانس نہ ملے ، میں قوم کو خبردار کرنا چاہ رہا ہوں ،سارے فیصلے اور جو کچھ میرے خلاف ہو رہا ہے یہ الیکشن سے پہلے دھاندلی کی دلیل ہے ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم اس معاملے کو روکے گی اور پورے زور کے ساتھ روکے گی ۔


ای پیپر