اگر قائداعظمؒ زندہ ہوتے
21 اپریل 2018 2018-04-21

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے انکشاف کیا ہے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے انہیں بذریعہ ٹیلیفون بتایا ’’اوپر‘‘ سے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو چیئرمین سینیٹ کا ووٹ دینے کے لیے کہا گیا ہے۔۔۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے سراج الحق صاحب کے اس بیان کی مذمت کی گئی ہے کہ وہ پانچ سال تک ہمارے ساتھ مل کر صوبائی اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں۔۔۔ اب چند دن باقی رہ گئے ہیں تو تنقید پر اُتر آئے ہیں۔۔۔ پارٹی کے ترجمان فواد چودھری نے بیان کی تردید کی ہے۔۔۔ جواب میں جماعت کی قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے ان کے امیر اپنے مؤقف پر قائم ہیں کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت ہماری حمایت کے بل بوتے پر قائم ہوئی۔۔۔ ان کی ناقص کارکردگی کی جانب انگلی اٹھا کر غلط نہیں کیا۔۔۔ صرف حقائق بیان کیے گئے ہیں۔۔۔ منصورہ لاہور میں مندرجہ بالا انکشاف پر مشتمل تقریر کے دوران سراج الحق صاحب نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی اب تک کی کارکردگی کے نقائص اجاگر کرتے ہوئے یہ بھی کہا میٹرو بس بنانے کی دوڑ میں پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔۔۔ چیف جسٹس دو سال قبل دورہ کرتے تو انہیں پشاور مختلف نظر آتا۔۔۔ موجودہ حالات کے ذمہ دار وزیراعلیٰ پرویز خٹک ہیں۔۔۔ اس تمام تر بیان بازی سے قطع نظر امیر جماعت اسلامی کی جانب سے پرویز خٹک سے منسوب اس بیان کے تناظر میں کہ بلوچستان کے ایک سینیٹر کو چیئرمین سینیٹ کے لیے ووٹ دینے کے لیے ’’اوپر‘‘ سے ہدایت موصول ہوئی ہے یار لوگوں نے اتنے بڑے جمہوری ادارے پر مرضی کا سربراہ مسلط کرنے کی جو جسارت کی ہے وہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ غور طلب امر ہے ۔۔۔ سراج الحق صاحب نے اس کے ساتھ اپنی بات کا اضافہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا سینیٹرز کی خریدوفروخت سے ایوان بالا کی اخلاقی حیثیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔۔۔ سینیٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے سے آنکھ نہیں ملا سکتے۔۔۔ اس الیکشن میں چند گھوڑے نہیں پورا اصطبل بک گیا ہے۔۔۔ جس طرح بکنے والے مجرم ہیں اسی طرح خریدنے والے بھی مجرم ہیں۔۔۔ نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے ستر سال سے سیاست اور جمہوریت کے نام پر آمریت مسلط کرنے والے اژدہوں کے دانت توڑنے اور ہاتھیوں کے سونڈ مروڑنے کی ضرورت ہے۔۔۔ جب تک 6 ہزار کرپشن کنگز جیلوں میں نہیں جاتے کرپشن کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ وغیرہ وغیرہ۔
سراج الحق صاحب ملک کے اہم سیاست دان اور ایک مؤثر ملک گیر دینی جماعت کے سربراہ ہیں۔۔۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس جماعت کو تھوڑی بہت نمائندگی حاصل ہے۔۔۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس کے منتخب نمائندے معتد بہ تعداد میں موجود ہیں۔۔۔ اسی لیے ساڑھے چار سال پہلے اس صوبے میں حکومت بنانے کے لیے سراج الحق صاحب کی جماعت کی مدد اور تعاون کی ضرورت پیش آئی۔۔۔ جو انہوں نے فراہم کر دی۔۔۔ صوبائی حکومت میں باقاعدہ شریک بھی ہوئے۔۔۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے ساتھ اپنی حالیہ ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے انہوں نے جو انکشاف کیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کا خاص شخصیت کو ووٹ دینے کی ہدایت ’’اوپر‘‘ والوں کی طرف سے نازل ہوئی تھی۔۔۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے والی بات ہے۔۔۔ امیر جماعت اسلامی کے انکشاف میں شمہ بھر بھی صداقت ہے تو موجودہ سینیٹ چیئرمین کی ساکھ باقی نہیں رہی۔۔۔ ان کے الفاظ میں ایوان بالا کا موجودہ ایوان اصطبل بن کر رہ گیا ہے۔۔۔ گھوڑوں کی بڑے پیمانے پر خریدوفروخت ہوئی ہے۔۔۔ چار چار کروڑ کے عوض اپنے بیس سینیٹروں کی جانب سے ضمیر فروشی کا اعلان خود عمران خان کر چکے ہیں۔۔۔ اس کے معاً
بعد ان کے حکومتی اتحادی سراج الحق کا پرویز خٹک کی زبان سے کہنا کہ چیئرمین کا تقرر بھی بالائی قوتوں کے حکم پر ہوا۔۔۔ اس نے افسوسناک حد تک پورے کے پورے ایوان بالا کا جمہوری اور نمائندہ چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔۔۔ وہ ایوان جو ہماری پارلیمنٹ کا سب سے محترم حصہ ہے۔۔۔ وفاق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔۔۔ اس کے اندر ہر صوبے کو برابر کی نمائندگی حاصل ہے۔۔۔ اتنے بڑے آئینی ادارے کی جو بھی قدرومنزلت اہل وطن اور دنیا بھر کی نظروں میں دھڑام سے نیچے آن گری ہے۔۔۔ اس کا ذمہ دار کون ہے۔۔۔ مقتدر قوتیں۔۔۔ ضمیر فروشی کا ارتکاب کرنے والے تحریک انصاف کے اراکین یا انہیں خریدنے والی جماعت جس کا نام لینے سے عمران خان گریز کر رہے ہیں۔۔۔ لیکن سب جانتے ہیں کون ہے جبکہ سیاسیات ملکی پر نگاہ رکھنے والے لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ پنجاب کی ایک نشست پر چودھری سرور کو کامیاب بنانے کی خاطر کس نے ووٹ خریدے اور کیا بھاؤ لگا جبکہ تحریک انصاف کے غالباً امیر ترین رکن پارلیمنٹ جناب اعظم سواتی کی جانب سے کس مقصد کی خاطر تجوریوں کے منہ کھولے گئے۔۔۔ اس سب کی بنا پر پورے کے پورے ایوان بالا کا پانی گدلا ہو کر رہ گیا ہے۔۔۔ اب تو بدبو بھی اٹھنا شروع ہو گئی ہے۔۔۔ ملک بھر میں تعفن محسوس کیا جا رہا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے سب سے محترم اور آئینی لحاظ سے منتخب و مقتدر جمہوری ادارے کی اس کے سربراہ سمیت پلید کرنے کے پیچھے کس کے عزائم اور کن قوتوں کے ارادے کارفرما ہیں۔۔۔ سیاست دانوں میں چند ایک ہمیشہ ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں تاکہ محدود عرصے کے اقتدار کے مزے لوٹ لیں۔۔۔ اسی نشے میں بھول جاتے ہیں کہ بمشکل دو یا اڑھائی سال گزار لینے کے بعد کیا حشر ہونے والا ہے۔۔۔ کیا سابقون الاوّلون کی مانند انہیں بھی کرپشن کے الزامات سے آلودہ نہیں کر دیا جائے گا۔۔۔ بدنام کر کے نت نئی تراکیب سے باہر نکال نہیں پھینکا جائے گا۔۔۔ تیرہ وزرائے اعظم اس انجام سے دوچار ہو چکے ہیں۔۔۔ اگلے ہاری کے انتظار میں تیار بیٹھے ہیں ۔۔۔ وزیراعظم کا عہدہ تو بدنامی اور ذلت و بیچارگی کی حدود کو چھو چکا ہوے۔۔۔ اس کے باوجود اگر کئی لوگ اس گھوڑے کی پیٹھ پر سواری کرنے کے لیے بیتاب نظر آتے ہیں تو ان کی عاقبت نااندیشی اور کوتاہ اندیشی ہے۔۔۔ ان میں سے کسی کو فکر نہیں پہلے اس عہدے کو اس کے اصل آئینی اور انتظامی اختیارات کے ساتھ مضبوط کیا جائے۔۔۔ سیاست دانوں کی تمام کی تمام جماعتیں اس امر کو یقینی بنائیں پھر اس عہدے کے حصول کے لیے آزاد جمہوری فضاؤں کے اندر آئینی جدوجہد کی جائے۔۔۔ مگر اس کی شاید کسی کو پروا نہیں۔۔۔ بس خوش ہیں ان سے پہلے جو ’رقیب روسیاہ‘ اس منصب پر تھا پر تھا آئینی طور پر جائز تھا یا ناجائز۔۔۔ کرپشن اس نے واقعی کی یا الزامات کا پہاڑ کھڑا کر دیا گیا مگر اس کی رسوائی کی وجہ سے ہمارا راستہ تو ہموار ہو گیا ہے۔۔۔ پس ہمیں جلد از جلد بس پر سوار ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔۔۔ ہرگز نہیں سوچتے جوا کسی کا نہ ہوا۔۔۔ آج تم کل ہماری باری ہے۔۔۔ اوپر والوں نے سیاست دانوں کو تو جی بھر کر بدنام کر لیا ہے۔۔۔ آئین کو بھی بار بار رگید ڈالا ہے۔۔۔ پہلے بزور طاقت اسے چار مرتبہ اٹھا پھینکا۔۔۔ وہ بے جان ہونے کے باوجود زوردار انسانوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونے سے باز نہ آیا۔۔۔ چھلانگ لگا کر اپنے مقام پر آن بیٹھتا ہے۔۔۔ حالانکہ ایک سابق چیف مارشل لاء کی نظر میں محض کاغذ کا ٹکڑا ہے۔۔۔ اسی آمر مطلق کے دور میں آئین کو بے بس کر کے رکھ دینے اور اسی کے ذریعے جمہوری حکومتوں کا تختہ اٹھا پھینکنے کی تدابیر اختیار کی گئیں۔۔۔ مختلف ترامیم متعارف کرائی گئیں۔۔۔ ان میں ایک نادر روزگار 62(ون) ایف بھی ہے جس کا جس طرح جسٹس منیر کے ذہنی وارث ججوں کے ذریعے اطلاق کر کے ایک کھوکھلے الزام کی آڑ میں عوام کے تین مرتبہ منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجا گیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔۔۔ اگلی باری پارلیمنٹ کی ہے۔۔۔ شروعات اس کے ایوان بالا اور جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا وفاق کی علامت ادارے سے ہو چکی ہیں۔۔۔ اس کے اراکین کی معتد بہ تعداد مشکوک طریقے سے منتخب کرائی گئی ہے۔۔۔ اس کے چیئرمین کا چناؤ بالائی قوتوں کے اشارے پر ہوا ہے۔۔۔ یہ ایوان جب تک رہے گا متنازع کہلائے گا۔۔۔ اس کے مقام اور مرتبے پر کاری زخم لگائے گئے ہیں۔۔۔ اس کے بغیر قومی اسمبلی کو خوار اس کی نمائندہ قومی حیثیت کو مشکوک بنانا رہ گیا ہے۔۔۔ یعنی وزیراعظم کا عہدہ آئین مملکت کی بالادست پوزیشن اور اس کے بعد سب سے مقتدر جمہوری ادارے پارلیمنٹ کے مقام کو زمین بوس کرنے کا کام جاری ہے۔۔۔ حکومت کا کام چلانے اور عوام کی جگہ اس کی پشت پناہی کرنے کے لیے غیرمنتخب ادارے اور ان کے سربراہ باقی رہ گئے ہیں۔۔۔ لمحہ موجود کے اندر حکومت پاکستان کی انتظامی باگیں عالی مرتبت چیف جسٹس کے ہاتھوں میں ہیں۔۔۔ وہ روزانہ کے حساب سے منتخب حکومتوں کے وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کو اپنی عدالت میں طلب کرتے ہیں۔۔۔ آن واحد میں ان کے فیصلوں پر خط تنسیخ پھیر کر رکھ دیتے ہیں۔۔۔ اپنے احکامات جاری کرتے ہیں۔۔۔ حمایت انہیں اس مقصد کی خاطر پیچھے بیٹھی غیرنمائندہ اور آئینی لحاظ سے ماتحت مقتدر قوتوں کی حاصل ہے۔۔۔ پھر کہتے ہیں جوڈیشل مارشل لاء نہیں لگایا۔۔۔ کیا جوڈیشل مارشل لاء ایسی چڑیا کا نام ہے جو خاص جادو گروں کو نظر آتی ہے۔۔۔ جمہوری عہدوں اور اداروں کو تیزی کے ساتھ ان کی رسوائی کا باقاعدہ سامان کر کے پیچھے کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔۔۔ آج اگر قائداعظمؒ زندہ ہوتے اور دیکھتے کہ ان کے قائم کردہ ملک میں انہی کے دیئے ہوئے سویلین بالادستی کے تصور کو کس طرح پارہ پارہ کر کے رکھ دیا جا رہا ہے تو کیا سوچتے۔


ای پیپر