پھول سارے بکھر گئے شاید
21 اپریل 2018 2018-04-21

شام، روس امریکہ نورا کشتی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شام میں کیمیائی حملوں پر بظاہر روس کو مزہ چکھانے کے لیے امریکہ برطانیہ، فرانس بڑھکیں مارتے رہے۔ تاہم روس ، ایران، اسدی قوتوں کی مکھی بھی نہ ماری گئی۔ خالی کردہ بلڈنگوں پر میزائل چلا کر مسلمانوں کی اشک شوئی کی گئی۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے فرمایا۔۔۔ ’شام کے اتحادیوں، روس، ایران اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ یہ حملے اسد حکومت تبدیل کرنے کے لیے بھی نہیں تھے!‘ سو 18کیمیائی حملوں پر زبانی جمع خرچ کی چند پھلجھڑیاں اور چھوڑی گئیں۔ یہ ہے اہم مسلم ممالک کا محبوب اتحادی امریکہ۔ اس مسلم آنکھوں میں دھول جھونکی حملے کے فوراً بعد ٹرمپ نے آمدم برسرمطلب فرمایا : ہم اپنے (عرب ) اتحادیوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اب اپنے علاقے کی ذمہ داری خود سنبھالیں‘۔ الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ نے 200ملین ڈالر کا شام میں تعمیر نو کے لیے جو وعدہ کیا تھا اب اسے روک دیا ہے۔ (شام کے شہروں کی جگہ کھنڈرات بنائی گئی بستیاں اربوں ڈالر کی متقاضی ہیں۔ ہنستے بستے شہر زندگی سے محروم ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں ) وال سٹریٹ جرنل کی 17اپریل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے سکیورٹی مشیر جان بولٹن نے سعودی عرب، قطر اور امارات سے کہا ہے کہ وہ شمالی شام میں فوج اور اربوں ڈالر فراہم کریں۔ ٹرمپ اب وہاں سے اپنے دوہزار امریکی فوجی نکالنے کے لیے بے قرار ہواجارہا ہے۔ وہاں خرچ ہونے والے پیسے پر بھی چیں بچیں ہے۔ اگرچہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے چارلس لسٹر کا خیال تھا کہ یمن میں فوجی الجھاؤ کی بنا پر سعودی عرب اور امارات کو اس پر تیار کرنا مشکل ہوگا اور شاید مصر (جس کے انٹیلی جنس چیف سے بھی بولٹن نے بات کی، امریکہ مصر کو عرب فوج کی شام میں سربراہی دینا چاہتا ہے) بھی نہ مانے۔ لیکن گورے شاید اس دور کے مسلم حکمرانوں کی فدویت بھول گئے !مشرف نے جس طرح ایک فون کال پر پورے ملک کے وسائل امریکی قدموں میں (2001ء میں) ڈھیر کردیئے تھے۔ بے مثل شراکت نباہی تھی افغانستان فتح کرنے کو۔۔۔ عین وہی تعاون سعودی وزیر خارجہ نے فوراً ریاض میں یواین چیف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرکے پیش فرما دیا۔۔۔’ ہم ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوج نکالنے کی خواہش کے تناظر میں اپنے فوجی بھیجنے کو تیار ہیں‘۔ سو اب نیا منظر نامہ جوترتیب پارہا ہے وہ یہ ہے کہ یمن کے بعد سعودی عرب اور امارات کی دولت ایک اور مسلم ملک میں الجھ کر بہے گی۔ خون تو بہہ ہی رہا ہے اب اس کے اخراجات بھی ہماری ہی جیب سے ادا ہوں گے۔ نہ صرف خون مسلم چہار جانب بہے گا۔۔۔ سینے میں اتاری جانے والی گولیاں میزائل کا خرچ بھی ہماری جیب سے ادا ہوگا۔ یہ سارا اسلحہ امریکی اسلحہ ساز صنعت کو مضبوط کررہا ہے مسلمان سینے چھید رہا ہے۔ ترکی کے بالمقابل جو فوجی تردد امریکہ کو کرنا پڑرہا تھا اب ترکی بمقابلہ سعودی عرب، امارات اور مصر جنگ چلے گی۔ فتنۂ دجال کے سرپر سینگ تو نہ ہوں گے !ٹرمپ نے بن سلمان سے ملاقات پررال ٹپکاتے ہوئے سعودی دولت سے حصہ پانے کی خواہش ظاہر کی تھی، پلک جھپکنے سے پہلے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اس پر ہامی بھرلی۔ یمن کے بعد اب شام میں سعودی پیسہ اور خون بہے گا۔ نہلے پر دہلا یہ ہے کہ مصر میں عوام کی منتخب حکومت فوجی بوٹوں تلے روند کر اخوان کو عقوبت خانوں میں دھکیلنے والا السیسی اب شام میں مسلمانوں سے نبرد آزما ہوگا۔ ادھر ہمیں پورے زوروشور
سے اتحاد بین المذاہب کا ٹھنڈا میٹھا بیانیہ پڑھایا، حلق سے اتارا جارہا ہے۔ مساجد کے خطیبوں کے منہ میں الفاظ ڈال کر نرم ملائم حلوہ اسلام زور زبردستی سنوایا جارہا ہے۔ یہ بیانیہ کچھ سمندر پار والوں کو بھی پڑھایا ہوتا۔ شام کو کھنڈر بنانے اور مسلمانوں کی سانس حلق سے کھینچ کر عورتوں بچوں پر خوفناک موت مسلط کرنے والوں کو ’مسلمانوں کو سزادو‘ ’قرآن جلا دو‘ جیسے دن منانے والوں کو۔ توہین رسالت، اسلام سے نفرت، مساجد، پردے کے دشمن مسلم عورت کے منہ پر تھوکنے، قتل، تشدد کرنے والوں کو بھی پڑھایا ہوتا۔ ہم تو عالمی میڈیا پر مناظر دیکھ کراتحاد بین المذاہب کی بموں، کیمیائی حملوں، مخالفین سے جینے کا حق چھیننے والی تشریحات ہی دیکھ رہے ہیں جوامریکہ یورپ میں رائج ہیں!اسی دوران اسلامی اتحادی فوج کی زبردست مشترکہ مشقین سعودی عرب میں ہوئیں۔ ہم ایڑیاں اٹھا اٹھا کر عالمی منظر نامے پر خونچکاں شامی، کشمیری فلسطینی، مسلمانوں کی دادرسی کی اس تیاری کو اپنے اجڑے خوابوں میں تلاش کرتے رہے۔ مگر نجانے کیوں پاکستانی سپوت راحیل شریف کی سرکردگی میں مسلم اتحاد کی گھن گرج نے مظلوموں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ ہمارے وزیراعظم صاحب جو خاص طورپر یہ مشقیں دیکھنے گئے تھے شاید انہوں نے کشمیر ہی کے لیے کوئی بات کی ہو!وہی بتاسکتے ہیں کہ یہ کون سی دہشت گردی کے خلاف اتحاد ہے ؟ مودی ۔؟ نتن یاہو۔؟امریکہ ، یورپ، روس ، بشار کی مشترکہ مسلم کش دہشت گردی اس کا موضوع کیوں نہیں۔؟ امت اپنے بے بس مرتے عورتوں بچوں بوڑھوں کے لیے کسے پکارے؟ محمد بن قاسم ؒ اب کہاں ہوا کرتا ہے ؟ محمد بن سلمان اور محمد بن زید تو موجود ہیں ۔ لیکن وہ توسعودی عرب میں پہلا سینما گھر کھولنے اور امارات میں مندر کی مورتیاں سجانے میں مصروف ہیں! خونِ مسلم کی مسیحائی کے لیے دمشق میں بالآخر اتر آنے والے آسمانی مسیحاؑ ہی کا انتظار کرنا ہوگا تاہم مسلم کشی پر سال بھر سے غیرمعمولی موسمیاتی بم امریکہ پر مسلسل برس رہے ہیں۔ امریکی ہاتھی کا معاشی طورپر آہستہ آہستہ خون بہے جارہا ہے۔ ٹرمپ کی بے قراری میں یہ عنصر پس پردہ شامل ہے جس کی بناپر وہ اپنے سے چھوٹے مسلم ممالک کی دولت پر نظریں گاڑے، دانت جمائے بیٹھا ہے۔ صرف 2017ء ہی میں آنے والے طوفانوں نے امریکہ کو 200ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ وہ خود جا بجا اسے ’جنگی مناظر‘ اور ’طوفانی بموں ‘کا نام دیتے رہے۔ طوفانی ہوائیں، سیلابی ریلے، آگ کی تباہ کاریاں، کیچڑ کے دریا، برفانی طوفان۔ اب تک امریکہ کے طول وعرض میں جابجا برفانی طوفانوں کے سلسلے جاری ہیں۔ شاید ہم نشینی کے زیراثر سعودی عرب کو بھی شدید آندھی طوفان اور بارشوں نے آن لیا !50ٹریفک حادثات ہوئے۔ 2جاں بحق اور 59زخمی ہوئے (ریاض میں) معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے۔ اللہ کی پناہ ۔ دنیا میں تویہ سب جاری ہے۔ ہمارے نوجوانوں کا شام پر ردعمل ان کی نظریاتی ، فکری بے کسی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ کچھ عرصہ پہلے پنجاب یونیورسٹی کے طلباء نے شامی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کفن پہن کر زمین پر دراز بے حس وحرکت لیٹ کر اپنی مردنی (مردنی، مردانگی نہیں) کا ثبوت دیا۔ باقی طلباء گردوپیش تماشائی بنے کھڑے، امت کی بھرپور نمائندگی کررہے تھے!جوانی میچ کھیلنے، دیکھنے، سری دیوی واٹس ایپ کرنے کی نذر ہے۔ شام کے مردوں کے لیے ان کا ’کاسٹیوم‘ پہن کر مظاہرہ کرکے گویا حق مسلم ادا کردیا۔ یحسرتا!ادھر چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن جسٹس جاوید اقبال نے قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں انکشاف فرمایا، 10برس بعد ! ’مشرف دور میں 4ہزار افراد غیرملکیوں کو ڈالروں کے عوض بیچے گئے ‘۔ اور آپ چپکے بیٹھے رہے؟ نیز یہ کہ غیرملکی ایجنسیاں لاپتہ کرکے پاکستانی ایجنسیوں پر الزام لگانا چاہتی ہیں۔ یہ کونسی غیرملکی ایجنسیاں ہیں کہ ہمارے ہی ملک میں سلیمانی ٹوپی اوڑھے، عالمی شہرت یافتہ ہماری ایجنسیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک دیتی ہیں؟ جن کا کام ہی ملکی سلامتی کے دشمنوں کو پکڑنا ہے۔ یہ غیرملکی ان کو بدنام کریں اور کسی کی گرفت میں بھی نہ آئیں؟ جسٹس صاحب اس پر کما حقہٗ روشنی ڈالیں تاکہ مسئلہ حل ہو۔ (میڈیارپورٹس۔ 17،16اپریل) انہوں نے آمنہ جنجوعہ کو فارن ایجنٹ بھی کہا !سالہا سال سے لاپتگان کے مظلوم لواحقین کے لیے سڑکوں پر دھول دھکے کھاتی نجانے کس کی اتنی فدوی ایجنٹ ہے ؟ چلئے ذرا مختلف ایک حیران کن خبر اور پڑھ لیجئے۔ برطانیہ میں ایک پارٹنر (وہاں شوہر ہونے کا اعزاز کم ہی ملتا ہے) مرد کو خاتون نے گھریلو تشدد کا شکار کئے رکھا۔ ثابت ہونے پر اس مرد مار خاتون کو 7سال قید کی سزاسنائی گئی ہے۔ اگرچہ نری پارٹنر کے ہاتھوں خاموش پٹنے پر 6ماہ کی سزا تو اس مرد کو بھی ملنی چاہیے تھی! تاہم ہماری فیصل آباد کی لڑکی بااختیار ہونے اور طاقت ور ہونے (Women Empowrrment) میں نمبر کاٹ گئی ہے۔ اس نے نشہ آور مشروب پلا کر محبوب کو مضروب یوں چھوڑا کہ عالم بے ہوشی میں اس کا گردہ چراکرلے گئی!تحریک آزادی نسواں کی عالمی سربراہی کی یہ لڑکی بجاطورپر حق دار ہے۔ ہم ’ویمن ہراسمنٹ‘ پرقانون سازیاں کررہے ہیں !
خوشبو ئے گل نہیں چمن میں جمالؔ
پھول سارے بکھر گئے شاید


ای پیپر