مستی خان کے ’ انکشافات‘ اور ’مست مست‘میڈیا
21 اپریل 2018 2018-04-21

آنے والی نسلیں تاریخ کے اس صفحے کو پڑھتے ہوئے چیخ چیخ کر روئیں گی کہ جس وقت مملکت خداداد پاکستان کے صحافی، تجزیہ کار اور اینکرپرسنز ’پیرنی ‘ کے ممکنہ دم دُرود کے باعث سابق نااہل وزیراعظم میاں نوازشریف کی پارٹی صدارت سے ’نااہلی‘ اور بعدازاں نااہلی کی مدت کے تعین یعنی تاحیات نااہلی کی خبر پرطبع آزمائی کر رہے تھے عین اسی وقت ’پاکستان‘ سفارتی دنیا کے اُفق پربہت بڑی سیاسی ، سماجی ، تکنیکی اور سفارتی ’جنگ ‘ہار رہا تھا، اوربظاہر یہ وہ جنگ ہے جس کے ہارنے کا ہمیں اورہمارے’ مستمیڈیا کو ملال تک نہیں ہے۔ ہمار ے ملک میں بحث چل رہی ہے کہ بابا رحمتا ’ازخود نوٹس‘ پہ’ ازخودنوٹس‘ لے کر کرنا کیا چاہ رہاہے ۔ نواز شریف اور ن لیگ کے پاس ممکنہ انتخابات کے لئے آپشن کیا بچے ہیں۔ عمران خان کو سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کرنے والے بیس ممبران صوبائی اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کرنا چاہیے تھا یا نہیں ۔ سینیٹ الیکشن سے نواز لیگ کیونکر آؤٹ ہوئی ۔ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان نے کتنے میڈلز جیتے۔ چوہدری شجاعت کی کتاب ’سچ تو یہ ہے ‘ میں کتنا سچ بکا اور سابقہ بھابھی ریحام خان اپنی کتاب میں کونسا شوشہ چھوڑنے والی تھیں کہ لندن میں مقیم پاکستانی صحافی’ مبین رشید‘ نے مزید لکھنے سے معذرت کر لی ۔ ۔عائشہ گلا لئی کے الزامات کا اگلا ہدف کون تھا اور نئے الزامات کیا ہوں گے۔علی ظفر نے میشا شفیع کو ہراساں کیا۔ یا اندر ونی کہانی کچھ اور ہے۔احد چیمہ کا کیابنے گا ، کچھ بنے گا بھی یا نہیں۔اگلے وزیر اعظم شہباز شریف ہونگے یا عمران خان ۔ بیگم کلثوم نواز کب صحت یاب ہوں گی۔مریم نواز کی ٹوئیٹر یاترا اور عدلیہ پر الزام تراشی مزید کیا گل کھلائے گی۔ سلمان خان کی ضمانت پر مداحوں کا ردعمل کیا رہا اور پریاپرکاش وارئیر کے نین مٹکے اور ’ نوکِ ابرو ‘ کی اٹھان کے وار سے بھرپور نئے ویڈیو نے انسٹاگرام کے کتنے ملین صارفین کو گھائل کیا ۔ ان ساری شہ سرخیوں کے بیچ ہم ’باغی‘ بلوچ کارکن مستی خان کے بھارتی دہشت گرد تنظیم اور خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ہاتھوں استعمال ہونے کے اعتراف اوربھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے لندن میں بے عزتی سے بھرپور استقبال کو کہیں بری طرح سے نظرانداز کر گئے ہیں۔یہ وہ خبریں تھیں جن پر ہمارے میڈیا کو بحیثیت ریاستی ستون فرنٹ لائن جنگجو کا کام کرنا چاہیے تھا ۔لیکن شومئ قسمت کہ ہم ان سفارتی محاذوں کو گزشتہ کئی سال سے مسلسل نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں۔شاید پاکستان بطور ریاست ہماری ترجیحات میں شامل نہیں یا ہم قوم کونیوز چینلز پر تفریحی ٹوپی ڈرامہ دکھانے میں اتنے مگن ہیں کہ ہمیں احساس تک نہیں رہا کہ ہم کہاں ہار رہے ہیں۔کیوں ہار رہے ہیں اور کس وجہ سے ہار رہے ہیں ۔حقائق ہم پر آشکار ہونا شروع ہو جائیں گے اگر ہم یہ ماننا شروع کر دیں کہ جنگیں محض توپوں اور گولوں سے لڑنے کا زمانہ پُرانا ہو چکا ۔ اب پوری دنیا میں ریاستوں کی امیج بلڈنگ اور برانڈنگ کے لئے کئی کئی دہائیاں لگا دی جاتی ہیں ، پورے پورے تھنک ٹینکس(Think Tanks)
سالہا سال اپنے وژن اور ذہنی استعداد کا تیل جلاتے ہیں تب کہیں جاکے ریاستوں کے لئے سفارتی جنگوں کے محاذ جیتنا ممکن ہوپاتا ہے۔لیکن یہ وہ ’محاذ‘ ہے جس کی طرف ہم نے سالہا سال پلٹ کر ہی نہیں دیکھا ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہمیں گزشتہ چار سال تک اپنی ریاست کے لئے وزیر خارجہ کی ضرورت ہی نہیں پڑی ۔ پڑوسی ملک اپنی لابنگ کی چالیں چلتا گیا اور ہم ہمیشہ کی طرح ’سب اچھا ہے ‘ کا راگ الاپتے رہے ۔اس کے برعکس اگر اپنے ملک سے والہانہ رغبت رکھنے والے بھارتی میڈیا کی بات کی جائے تو وہ پاکستان مخالف ہر خبر کو کیش کرنے میں پیش پیش رہتا ہے ۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی امریکہ میں جامہ تلاشی کی خبر زبان زدعام رہی ، گو یہ ان کا وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے نہیں بلکہ عام پاکستانی شہری کی حیثیت سے نجی دورہ تھا لیکن بھارتی میڈیا اس خبر کو لے کر جتنا پروپیگنڈا کر سکتا تھا ۔ کرتا رہا ۔ اس کے برعکس بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی لندن یاترا کے دوران انہیں گالیوں اور مودی’ Not Welcome‘ جیسے نعروں جیسی سخت ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستانی میڈیا اس خبر پر بھارت کے اصل چہرے ، ہندوستان میں جاری آزادی کی تحریکوں اور مسئلہ کشمیر کے معاملے پر بھارتی سفاکی جیسے موضوعات کو بنیاد بنا کر مودی سرکار کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا لیکن پاکستانی میڈیا کے لئے شاید سلمان خان کی جیل یاترا اور میشا شفیع کے علی ظفر پر الزامات کی خبریں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اور خاموش میڈیا کی شرمناک سفاکی اس وقت مزید آشکار ہوئی جب بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایجنٹ احمر مستی خان اپنے ہی بھارتی ہم پیالہ ، ہم نوالہ دوستوں کو آشکار کرنے کے لئے میدان میں کود پڑے ۔ یہ وہی احمر مستی خان ہیں جن کے بھارتی ایجنسیوں کی ایما پر پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو بھارتی میڈیا ماضی میں ہمیشہ ہوا دیتا رہا ہے ۔لیکن اب ٹیبلز کے ٹرن ہونے کے باوجود ہمارے میڈیا اور دفتر خارجہ کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ہوا یوں کہ گزشتہ دنوں امریکہ میں مقیم ایک سرگرم بلوچ کارکن احمر مستی خان ۔اس اعترافی بیان کے ساتھ۔ سوشل میڈیا کے میدان میں اترے کہ انہوں نے اکتوبر 2015ء میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر ان کی تقریر کے دوران جو ہنگامہ کیا تھا اس کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ہاتھ تھا ۔ مستی خان نے اعتراف کیا ہے کہ بائیس اکتوبر سن دوہزار پندرہ کو انہوں نے ’یوایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس‘ میں منعقدہ تقریب میں نوازشریف کی تقریر کے دوران شور مچانا شروع کر دیا تھا ۔ اس کے بعد وہ متعد د بھارتی ٹی وی چینلز میں بطور مہمان اس بحث کے لئے بلائے جاتے رہے کہ انہوں نے یہ ہنگامہ کیوں کیا اور اس کی وجہ کیا تھی ۔ مستی خان کے اس اعترافی بیان کی خبر کے بعد تو بھارتی ایجنسیوں کی جیسے نیندیں حرام ہو گئیں ، لیکن پاکستانی سفارتی حلقوں اور میڈیا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ احمر مستی خان جو امریکن فرینڈز آف بلوچستان (اے ایف بی) نامی گروپ کے بانی ہیں ، امریکی ریاست میری لینڈ کی عدالت میں اپنے خلاف ایک درخواست مسترد کئے جانے کے بعد منگل کے روز سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پریکے بعد دیگرے تین پوسٹس شائع کرچکے ہیں، سرگرم بلوچ کارکن اورصحافی ۔ مستی خان ۔ نے اپنی ویڈیوز میں دعوی کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ ا نہیں ماضی میں متعدد بار پاکستان مخالف ایجنڈے پر استعمال کر چکی ہے ، انہوں نے اس دکھ کا بھی اظہار کیا کہ انہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے اہلکاروں نے واشنگٹن میں واقع سفارت خانے میں بار بار بلا کر رسوا کیا اس لئے انہوں نے ’را‘ کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کی ٹھان لی ہے ، اپنی ویڈیوز میں انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ’ را‘ کے اہلکاروں میں سے ایک کا نام ناگیش بھوشان ہے جو بھارتی دہشت گردتنظیم اور خفیہ ایجنسی ’را‘ کے بلوچستان ڈیسک کے لئے کام کرتا ہے ۔ مستی خان نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مدد کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے جیسی مذموم سازش کر رہا ہے ، انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ بھارت نے پاکستان مخالف یہ سرگرمیاں کارگل جنگ کے فورا بعد شروع کردی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اس مد میں گزشتہ دیڑھ دہائی میں اچھا خاصا جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے ۔ مستی خان نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے افسروں پر فنڈنگ کی مد میں کمیشن اور کک بیکس کا بھی الزام لگایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ’را‘ متحارب بلوچ گروپوں کو لاکھوں
ڈالرز امداد اس مد میں فراہم کرتی رہی ہے کہ وہ بلوچستان کی’ آزادی تحریک‘ اور پاکستان کے عدم استحکام کے لئے کام کریں۔ مستی خان کا یہ اعترافی بیان ، پاکستان کے سفارتی محاذ پر ایک اور کامیابی کے لئے طرب کا پتا ثابت ہو سکتا تھا لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ پاکستانی میڈیا اور دفتر خارجہ اس خبر کو بھی کیش نہیں کر سکا ، یہ خبر کل بھوشن، اس کے حمایتیوں اور بھارت کو عالمی عدالت انصاف سے لے کر میڈیا میں ذلیل کرنے کے لئے کافی تھی لیکن شاید ہماری ترجیحات مختلف ہیں ، شاید ہمیں ناچ گانوں اور سطحی خبروں کے ڈھول ڈھمکے سے ہی فرصت نہیں مل رہی کہ ہم اَن دیکھے بارڈر کے سفارتی محاذ یعنی میڈیا وار کی اہمیت کو سمجھ سکیں ۔ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ مظالم ، بنت کشمیر آصفہ کے ساتھ سفاکانہ زیادتی اور قتل کی خبر ، آصفہ کی وکیل کو سرعام مار دینے کی دھمکیاں ، خالصتان موومنٹ اور بھارتی وزیر اعظم کی لندن میں گالیوں کے ساتھ’ عزت افزائی‘ جیسی بڑی خبروں کوہم صریحاً نظرانداز کرتے ہوئے بھی اپنے آپ کو ریاست کا ستون سمجھتے ہیں تو یہ ہماری خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ۔ایلیاز ڈیوڈسن کی ممبئی حملوں سے متعلق انکشافات سے بھرپو ر کتا ب The Betrayal of India‘‘ کو ہم پہلے ہی نظر انداز کر چکے ہیں ۔ اب جبکہ میڈیا اینکرزسفارتی جرنیلوں کا کردار ادا کرتے ہیں اور نیوز چینلز توپوں اور گولوں کا تو ہمیں اپنے ٹولز کی اہمیت اور افادیت کا بھی اندازہ ہونا چاہیے اور اس کے درست استعمال کا بھی ۔ ورنہ اس کوتاہ مزاجی ، بے خبری اور سفارتی محاذ پر بار بار شکست پرشاید ہماری نسلیں ہمیں معاف نہ کرسکیں ۔


ای پیپر