ڈاکٹر شہریار اور کینسر کیئر ہوسپٹل!
21 اپریل 2018 2018-04-21

کینسر کبھی ناقابل علاج مرض سمجھا جاتا تھا۔ موت کا پیغام، جس سے بچ نکلنا ممکن نہ ہوتا تھا۔ ایک مکمل بے بسی، جس سے مریض ہی نہیں، اس کا خاندان بھی برابر گزرتا تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں، پہلی بار اس بے بسی کو اپنی مہربان اور شفیق دادی جان کے بریسٹ کینسر کے وقت دیکھا۔ آج سے 50 سال قبل کا زمانہ، جب دیہاتوں میں کینسر کا پتا ہی تب چلتا تھا، جب وہ اندر ہی اندر بڑھتا پھیلتا پک کر جسم کے کسی حصے میں جڑوں والے پھوڑے کی شکل میں نمودار ہوتا تھا، اور پھٹ جاتا تھا۔ پھر اس کا علاج مقامی حکیموں اور جراحوں کی مدد سے کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اور اس کوشش میں جاں بلب مریض ایک طویل تکلیف سے گزرتا سسکتا ہوا دم توڑ جاتا تھا۔ دیہات میں کینسر کو اسی لیے کینسر پھوڑا کہا جاتا ہے (آج بھی یہی نام ہے) چنانچہ دادی جان کا کینسر بھی جب پھوڑے کی شکل میں پھٹ گیا تو گھر والوں کو پتا چلا ، اس کے بعد انہیں علاج کی غرض سے لاہور میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں مختلف ٹیسٹوں کے بعد تشخیص ہوا کہ کینسر جسم کے تمام اعضاء میں پھیل چکا ہے، لہٰذا اب علاج ممکن نہیں۔ ہوسپٹل سے ’’جواب‘‘ ملنے کے بعد کی اس بے بسی کا اک دھندلا احساس اب بھی میرے پاس ہے، جو پورے خاندان پر طاری تھی، کوئی بھی انہیں لے کر واپس گاؤں جانے کو تیار نہ تھا، پھر دم درود اور ٹوٹکے شروع ہو گئے، ان میں ایک ٹوٹکا یہ بھی تھا کہ کینسر پھوڑے کے مقام پر جونکیں لگوائی جائیں، یہ فاسد مادے چوس لیں گی اور مریض کو شفا نصیب ہو جائے گی ۔ مجھے یاد ہے ان جونکوں کو دیکھ کر میں نے خوف سے چیخیں ماری تھیں جو دادی جان کا خون پی کر دفعتاً موٹی تازی ہو گئی تھیں۔ الغرضیکہ بڑے جتن ہوئے، بڑے ترلے لیے گئے، مگر وہ بچ سکیں نہ ان کا درد کم ہوا، دو ہی مہینوں میں نہایت تکلیف سے گزر کر وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ اور رہا کینسر تو وہ ہمارے خاندان کے لیے بے بسی اور درد کی علامت بن کر رہ گیا۔ دوسری بار اس بے بسی کو میں نے اپنی پھوپھی جان کے بریسٹ کے معاملے میں دیکھا اور تیسری دفعہ جب اس موذی مرض نے میری ماں کے مثانے میں پنجے گاڑے تو جیسے دنیا ہی اندھیر ہو گئی۔ یہ وہی دن تھے جب عمران خان اپنی والدہ کے کینسر کی بے بسی سے گزر کر اس موذی مرض کو شکست دینے کے لیے شوکت خانم کی بنیادیں رکھ رہا تھا، اور جھولی پھیلائے ملکوں ملکوں ایک سائل کی طرح گھوم رہا تھا۔ میں اپنی ماں کے کینسر سے لڑ رہی تھی اور روزانہ بے بس اور درد کے ایک نئے ذائقے سے آشنا ہوتی تھی۔ ماں میری آنکھوں کے سامنے ایک زندہ اور متحرک انسان سے، بے بسی لاچار مریض بن چکی تھی، جس کے جسم کے ہر خلیے پر کینسر کا قبضہ تھا۔ کینسر جس سے جنگ ہم ہار چکے تھے، ماں کو
ڈاکٹروں نے لا علاج قرا ردے دیا تھا اور ہم اس لاعلاجی کی بے بسی میں ، دیواروں کے کونوں میں سر دے کر سوائے رونے اور انہیں اس ظالم درد سے بچانے کے اور کچھ نہ کر سکتے تھے۔ یہ درد جس کے متعلق عبداللہ حسین نے اپنے آخری پیغام میں کہا تھا ’’کاش میں دنیا سے درد کے وجود کو مٹا سکوں۔ انسانوں کو اس سے محفوظ رکھ سکوں‘‘۔ اس طویل القامت اور بے حد بردبار شخص نے زندگی کے آخری ایام اس مرض سے لڑتے ہوئے کیسے گزارے، اس کا اندازہ اس پیغام سے بخوبی ہوتا ہے۔ میری ماں بھی اسی درد سے لڑتی چلی گئی اور عبداللہ حسین بھی۔ ان کے علاوہ وہ لاکھوں، کروڑوں انسان جو اس موذی مرض میں مبتلا ہوئے اور گزر گئے اور وہ تمام جو اس مرض میں مبتلا ہیں اور اس بے بسی، اذیت اورلاچاری سے خود بھی گزر رہے ہیں اور ان کے گھر والے بھی۔ ان کی تکلیف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے کسی نہ کسی شکل میں اس بے رحم مرض کو بھگتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شہریار کا شمار ملک کے ان چار قابل ترین ڈاکٹروں میں نمایاں ہے جنہیں کینسر کا ماہر مانا جاتا ہے۔ انہوں نے کینسر کیئر ہوسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر کے نام سے شوکت خانم جیسا ہوسپٹل بنانے کا جب خواب دیکھا تو اس کے خواب کی تعبیر لکھنے کے لیے ان کے ہاتھ میں سوائے دلگدازی اور خلوص نیت کے اور کچھ نہ تھا۔ یقیناًوہی حالات ہوں گے جو عمران خان کے اس زمانے میں رہے ہوں گے جب اس نے شوکت خانم کا خواب دیکھا تھا۔ مگر چند ہی برسوں میں نہ صرف وہ خواب شرمندۂ تعبیر ہو گیا بلکہ کراچی اور پشاور میں نئے کینسر ہوسپٹل بھی بن گئے کہ خلوص نیت اور نیکی و خدمت اپنے راستے خود بنا لیتی ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر شہریار کا خواب بھی چند برسوں میں تعبیر کی ٹھوس شکل میں سامنے آ گیا ۔ یہ کینسر کیئر ہوسپٹل جو 400 بیڈز پر مشتمل ہے، رائے ونڈ روڈ پر 27 ایکڑ زمین پر بن رہا ہے۔ جہاں ہر اس انسان کا مفت علاج ہو گا جو اس مرض میں مبتلا ہو گا۔ اس کے لیے امیر، غریب کی کوئی تخصیص نہیں۔ ڈاکٹر شہریار کا کہنا ہے ۔ ہم کسی مریض کو واپس نہیں بھیجیں گے۔ پہلے مرحلے میں ہر سال 10 ہزار مریضوں کا مفت علاج ہو گا۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ریڈی ایشن مشینوں کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو 8 سے 10 ماہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جس کے دوران ان کا مرض شدت اختیار کر جاتا ہے اور ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس مشکل صورت حال سے نبٹنے کے لیے کینسر کیئر ہوسپٹل نے ہنگامی بنیادوں پر 4 ریڈی ایشن مشینوں کا انتظام کیا ہے۔ یہ مشینیں اسی سال کام شروع کر دیں گی۔ ہوسپٹل کا ایک بلاک مکمل ہو چکا ہے۔ اور بقیہ دو بلاک زیر تعمیر ہیں۔ یہ ہوسپٹل سائز میں شوکت خانم سے بڑا ہے۔ اور اس کی طرح ہی جدید بنیادوں پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد تیزی سے بڑھتے کینسر کے مرض کو روکنا، اور انسانوں کو اس سے محفوظ رکھنا ہے۔ ڈاکٹر شہریار سے ہم لکھاریوں کو ملوانے کا اہتمام، ہماری پیاری دوست اور مشہور افسانہ نگار فرحت پروین نے کیا تھا۔ فرحت ایک درد دل رکھنے والی حساس انسان ہیں۔ اور خیر کے کاموں میں شامل ہونے کے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہیں۔ وہ ڈاکٹر شہریار کی ٹیم کی فعال رکن ہیں۔ جب کینسر ہوسپٹل کی پہلی اینٹ رکھی جا رہی تھی اور خواب کی تعبیر کی ٹھوس شکل سامنے آ رہی تھی فرحت نے مجھے فون پر خوشی سے بھرپور آواز میں یہ اچھی خبر سنائی تھی۔ اس کے فقط ایک ہی برس بعد ہوسپٹل کا پہلا یونٹ مکمل ہو گیا، اور اس کی خوشی میں فرحت نے اپنے ساتھی لکھنے والوں کو بھی شامل کیا، تو اس تقریب میں جا کر منصوبے کی نوعیت کا اندازہ ہوا۔ جو مخیر اور نیک لوگوں کی مدد سے تیزی کے ساتھ تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
یعنی شوکت خانم کی طرز کا ایک اور جدید اور ماڈرن ہسپتال ، جو سرا سر فلاحی نیت سے بنایا جا رہا ہے۔ اور بنانے والے شہر شہر، گلی گلی، ملک ملک ایک سائل کی طرح جھولی پھیلائے، اہل خیر سے مدد مانگ رہے ہیں۔ اور وہ دل کھول کر اس کار خیر میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
ڈاکٹر شہریار انسانیت کی خدمت جس لگن اور محنت سے کر رہے ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے جیسے عمران خان کینسر جیسے موذی مرض کو شکست دینے میں کامیاب ہوا، یقیناً ڈاکٹر شہریار بھی ایک ایسے ہی سپاہی ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ قابلیت اور مہارت کو بجائے اپنے دیگر ہم پیشہ لوگوں کی طرح مہنگے داموں بیچنے کے۔ اسے دکھی انسانیت کے لیے عام کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آج کے دور میں بھی کوئی ایسا ہے جو ابنِ مریم ہو کر دکھوں کی دوا بن جاتا ہے۔ درد کا علاج ہو جاتا ہے۔ یہ کام اصولی طور پر ریاست کا ہونا چاہیے مگر افسوس سرکاری ہسپتالوں میں اول تو کینسر یونٹ ہی نہیں اور اگر ہیں تو ان کا وہی حال ہے جو سرکاری ہسپتالوں کے دیگر شعبہ جات کا ہے۔اسی لیے یہ مرض پھیلتا اور بڑھتا جا رہا ہے۔ علاج اتنا طویل، مہنگا اور صبر آزما ہے کہ اچھے اچھوں کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ رہے دس روپے کی پرچی والے غریب غرباء تو ان کے وسائل ایک کف سیرپ پر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ وہ بھلا اس موذی مرض سے کیسے لڑ سکتے ہیں۔
ایسے میں کینسر ہوسپٹل کا قیام اک غنیمت ہے، جہاں علاج کی جدید ترین سہولتیں بھی ہیں اور مریضوں کو آرام پہنچانے کے لیے ایسا ماحول بھی جو مسیحائی کے جملہ لوازمات سے آراستہ ہو گا۔ میں ڈاکٹر شہریا راور ان کی ٹیم کو سلام پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے دنیا سے درد کے وجود کو مٹانے اور کینسر کو شکست دینے کا سامان کیا۔ اور ثابت کیا کہ اگر خلوص نیت ہو تو انسان وہ بلا ہے جو پہاڑوں سے بھی ٹکرا جائے اور انہیں پاش پاش کر دے۔


ای پیپر