لڑکے نرینہ۔۔۔لڑکیاں نگینہ۔۔۔
21 اپریل 2018 2018-04-21

دوستو،بچپن میں جب ہر بار جمعہ کی نماز میں جب بھی مولوی صاحب فرض نماز کے بعد دعا کراتے تھے تو ایک دعا ضرور کرتے تھے، یااللہ تمام بے اولادوں کو اولاد نرینہ عطا فرما۔۔۔ ہم انتہائی عقیدت بھرے انداز میں ننھے ننھے ہاتھ اٹھائے زوردار آواز میں ،آمین کا نعرہ لگاتے۔۔۔ سمجھ ’’ککھ‘‘ نہیں آتی تھی کہ ’’اولاد نرینہ ‘‘ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔۔۔ لیکن جب عملی زندگی میں آئے اور تھوڑی بہت تعلیم حاصل کرلی تو پتا لگاکہ یہ کہتے کسے ہیں۔۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے۔۔۔ بیٹے اگر اولاد ’’ نرینہ ‘‘ ہوتے ہیں تو بیٹیاں اولاد ’’ نگینہ ‘‘ ہوتی ہیں۔۔۔ اور ان نگینوں کو کبھی ٹھیس نہیں لگنی چاہیے چاہے وہ اپنی ہوں یا پرائی۔۔۔جس گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے اس گھر میں رحمت کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔وہ گھر خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔بیٹی باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اورماں کی آنکھوں کا تارا ہوتی ہے۔بھائی کا مان ہوتی ہے اس کو جس پہلو سے دیکھا جائے بیٹی ایک مقدس بندھن میں بندھی نظر آتی ہے۔ماں باپ بہت نازوں سے اپنی بیٹی کی پرورش کرتے ہیں، لیکن ایک بات جو کہ ماں باپ کو اندر ہی اندر پریشان بھی کئے رکھتی ہے کہ ان کی بیٹی ان سے جدا ہونے والی ہے۔۔۔لیکن کبھی حقیقت سے منہ نہیں موڑا جا سکتا کہ بیٹیاں ہمیشہ سے ہی پرائیاں ہی ہوتی ہیں ان کا اصل گھر ان کا سسرال ہی ہوتا ہے۔
لڑکیوں کی اہمیت کے حوالے سے ایک سچا واقعہ بھی سن لیں۔۔۔ شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ کوئی بھی دستک دے، دروازہ نہیں کھولنا۔۔۔ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمنائیں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں،دستک ہوئی، میاں بیوی نے ایک دوسرے کو دیکھا، دلہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا لیکن اپنا ہی کیا ہوا فیصلہ یاد آگیا اور دروازہ نہیں کھولا۔۔۔والدین ناکام واپس لوٹ گئے۔۔۔تھوڑی ہی دیرگزری تھی دلہن کے والدین بھی پہنچ گئے تاکہ نئے نویلے جوڑے کو خوشیوں بھری زندگی کی دعا دے سکیں۔۔۔ دروازے پر دستک دی، میاں بیوی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، دلہن نے آنسوؤں بھری سرگوشی کی ،میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتی اور اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔۔۔شوہرنے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نہ کہا، خاموش رہا۔
اس بات کو برسوں بیت گئے،ان کے چار بیٹے اوپر تلے ہوئے، پانچویں بار بیٹی ہوئی۔۔۔ شوہر نے ننھی گڑیا کی آمد کی خوشی میں گھر میں شاندار پارٹی کااہتمام کیا،اپنے تمام جاننے والوں کو بلایا اور خوب خوشیاں منائیں۔۔۔رات جب سارے مہمان چلے گئے تو بیوی نے شوہر سے پوچھا، چار بیٹے پیدا ہوئے آپ نے کبھی اس طرح کی شاندار پارٹی نہیں کی،اس کی کیا وجہ ہے؟۔۔۔ شوہر مسکرایا اور دھیرے سے کہنے لگا۔۔۔یہ میرے لئے دروازہ کھولے گی۔۔۔
شوہر کو بیرون ملک سفر پہ جانا تھا۔۔۔ اہلیہ گھر کے دروازے تک رخصت کرنے آئی۔۔۔الوداع کہتے وقت پوچھ بیٹھی۔۔۔ سنیئے آپ کو ’’دعا‘‘ یاد ہے۔۔۔ شوہرنے کچھ دیر سوچتے ہوئے کہا۔۔۔ ہاں،ہاں، وہی پتلی سی، کالی آنکھوں، لمبے بالوں والی خوب صورت سی۔۔۔وہی ناں؟؟۔۔۔ پھر شوہر کے سفر کا تو معلوم نہیں لیکن شوہر کو انگریزی والا ’’ سفر‘‘ کرنا پڑا۔۔۔اگر دیکھا جائے تو اولاد نرینہ اور اولاد نگینہ میں کافی تضادات پائے جاتے ہیں۔۔۔ جیسا کہ لڑکیاں یعنی اولاد نگینہ ہمیشہ ہی احساس کمتری کا شکاررہتی ہیں، انہیں خود پراعتماد ہی نہیں ہوتا،لڑکی کا قد چاہے چھ فٹ ہی کیوں نہ ہوپھر بھی ’’ہائی ہیل‘‘ پہنے نظر آتی ہے۔۔۔اب پتہ نہیں انہوں نے اتنا اونچا ہوکر کون سی بجلی کی تاریں صاف کرنی ہیں۔۔۔ لڑکوں کو بھی دیکھا کسی نے ’’ ہائی ہیل‘‘ میں۔۔۔؟؟لڑکی چاہے کتنی ہی خو بصورت کیوں نہ ہو، اس نے میک اپ لازمی کرنا ہوتا ہے، خدا کا خوف ہی نہیں ان کو، لڑکوں کو دیکھ لیں، بیچارے پانچ دن بعد بھی صابن سے منہ دھولیں تو لشکارے مارتے ہیں۔۔۔ لڑکیاں ایک سوٹ اگر کسی شادی پر پہن جائیں تو دوبارہ اسے پہننا اپنی توہین سمجھتی ہیں، بندہ ان سے پوچھے کہ کیا کپڑوں کو کیڑے لگ گئے،اگر گھروالے نہ مانیں تو اسی سوٹ کی قمیص کو الٹا پہن کر چلی جاتی ہیں اور سہیلیوں کو کہیں گی کہ یہ نیو فیشن ہے۔۔۔ لڑکے ایک سوٹ سے ہی ماجھا، شیدا، میدھا، پپو، ڈبو، منا، گھنا، للو، پھتو سب کی شادی دیکھ لیتے ہیں۔ اور پھر بھی اس کی جان نہ چھوڑتے۔ لڑکیاں چاہے گھر میں باسی دال کڑھی کھانے پرمجبور ہوں لیکن باہر میکڈونلڈ، سپائس چلی، کے ایف سی سے ہی ٹریٹ مانگتی ہیں، کہتی ہیں غیرمعیاری کھانوں سے الرجی ہے۔۔۔ اور لڑکے سڑک پہ کھڑے ٹھیلے والے سے نان ٹکی یا چکڑ چنے کھاکر بھی مسرور نظر آتے ہیں۔۔۔ لڑکیاں کنجوس بھی حد درجہ کی ہوتی ہیں۔ کسی کی کوئی اچھی چیز دیکھ کر مکمل تعریف نہ کرتیں بلکہ منہ بسور کر کہتی ہیں، ہاں یار بس اچھا ہی ہے۔ اور اگر کوئی پوچھ لے کہ یہ آپ نے کہاں سے خریدا تو اسے جلدی سے ایڈریس نہ بتاتیں اور سیدھا کہہ دیں گی کہ میری آنٹی سنگا پور سے لائی تھیں اور حقیقت میں وہ انار کلی کے پاس جو لنڈا بازار ہے وہاں سے کٹ پیس لاکر اس کا سوٹ بنایا ہوتا ہے۔اور اگر لڑکے سے کوئی پوچھ لے تو لڑکا اسے ساتھ دکان تک لے جاتا ہے کہ بھائی یہاں سے لیا تھا۔ اپنا دوست ہے تجھے رعایت پر دے دے گا۔۔۔ لڑکیاں اگر کہیں ساتھ جاتی ہیں تو ایک دوسرے کو بڑے ماڈرن ناموں سے پکارتی ہیں۔۔۔اور لڑکے اوئے موٹے، گینڈے، ہاتھی، اوئے لعنتی کہہ کر ایک دوسرے کو آوازیں کستے نظر آتے ہیں۔
لڑکے جب باہر کھانا کھانے جاتے ہیں ،اگر تین دوست ہوں تو پچاس،پچاس روپے چندہ کرکے ڈیڑھ سو روپے اکٹھا کرلیتے ہیں، کھانے کا بل اگر ایک سو چالیس روپے آجائے تو دس روپے کوئی بھی لڑکا واپس لینے کو تیار نہیں ہوتا،اگر لڑکیاں اسی طرح کھانا کھانے جائیں تو بل آنے پر پہلے پرس سے موبائل نکلتا ہے پھر موبائل پہ کیلکولیٹرباہر آجاتے ہیں۔۔۔مرد اگر شاپنگ کے لئے جائے تو سووالی چیز دوسو میں بھی خرید کر لے آتا ہے، لڑکیاں اگر شاپنگ پہ جائیں تو سووالی چیز پچاس روپے میں بڑی آسانی سے لے آتی ہیں،اور چیز بھی ایسی لاتی ہیں جس کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن چونکہ ’’سیل‘‘ لگی ہوتی ہے اس لئے لانی ضروری ہوتی ہے۔۔۔ہر قسم کی بحث میں لڑکی کے پاس آخر کار ایک ہی فقرہ ہوتا ہے۔۔۔’’اور۔۔۔‘‘ لیکن اگر اس کے جواب میں کوئی آگے سے کچھ کہہ دے تو پھر نئی بحث کاآغازہوجاتا ہے۔۔۔کسی بھی لڑکی کو اپنے مستقبل کی فکر اس وقت تک ہوتی ہے جب تک اسے ایک اچھا شوہر نہ مل جائے، لیکن مرد کو مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہوتی،کہتا ہے جو ہوگی دیکھی جائے گی۔۔۔ایک کامیاب مردوہی کہلاتا ہے جو اپنی بیوی کے خرچے سے زیادہ کمائی کرسکے جب کہ ایک کامیاب عورت وہی ہے جو ایسا مرد بطور شوہر پالے۔۔۔ایک عورت ،مرد سے یہ سوچ کرشادی کرتی ہے کہ وہ بدل جائے گالیکن وہ نہیں بدلتا،لیکن ایک مرد،عورت سے یہ سوچ کر شادی کرتا ہے کہ وہ نہیں بدلے گی اور وہ بدل جاتی ہے۔۔۔یعنی ریگولر بوتل جمبوسائز میں تبدیل ہوجاتی ہے۔۔۔کوئی بھی لڑکی شاپنگ کے لئے ، گھرکے کام کاج کے لئے، تقریبات کے لئے ،سٹڈی کے لئے الگ الگ ملبوسات کا اہتمام کرتی ہے۔۔۔اورلڑکا ہمیشہ شادی یا جنازے کے لئے تیار ہوتا ہے۔


ای پیپر