سینیٹ کے انتخابات کا شور جاری
21 اپریل 2018 2018-04-21

سینیٹرز کے انتخابات سے لے کر چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب تک ضمیر فروشوں کی خریداری کا شورتو ضرور اُٹھتا رہا لیکن کسی بھی سیاسی جماعت نے اِس کا حل تلاش کرنے کی زحمت نہیں کی۔ انتخابات کے بعد وزیرِاعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اِن انتخابات کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیالیکن جب سانپ نکل جائے تو لکیر پیٹنے کا فائدہ؟۔عباسی صاحب کوکہا بھی گیا کہ وزیرِاعظم کو سینیٹ کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے لیکن اُنہوں نے کہا کہ وہ آخری دَم تک دخل اندازی کرتے رہیں گے۔ اب تحریکِ انصاف نے اِسی حوالے سے اپنے 20 ارکانِ اسمبلی ’’پھڑکا‘‘ دیئے ہیں جن میں 5 خواتین بھی شامل ہیں۔ کپتان کے اِس اقدام نے بہت سے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
کپتان کا یہ اقدام لائقِ تحسین سہی ،سوال مگر یہ ہے کہ پنجاب میں چودھری سرور کیسے سینیٹر منتخب ہوجبکہ تحریکِ انصاف کے صوبائی ارکانِ اسمبلی کی کل تعداد 31 تھی اور چودھری سرور نے 44 ووٹ لیے۔ کیا کپتان صاحب جواب دینے کی زحمت گوارا کریں گے کہ 13 ضمیر فروش ’’کتنے میں بِ کے ‘‘اور چودھری سرور نے کتنے میں خریدے؟۔ کیا عمران نیازی چودھری سرور کے خلاف بھی کوئی تادیبی کارروائی کرنے جا رہے ہیں؟۔کپتان خود ہی کہتے ہیں کہ 20 ارکانِ اسمبلی کو نکالنے سے اُن کی پارٹی کو کافی نقصان اُٹھانا پڑے گاپھر جہاں اُنہوں نے بیس لوگوں کو نوٹس جاری کیے ہیں وہاں ایک اور سہی۔ ویسے بھی چودھری سرور ’’لوٹا‘‘ ہی تو ہے جس نے برطانیہ سے واپس آکر’’پاکستانی سیاست‘‘ میں قدم رکھا اور پھر تھوڑے ہی عرصے میں دو سیاسی جماعتیں بدل لیں۔ اتنی تیزی تو پاکستانی ’’لوٹے‘‘ بھی نہیں دکھاتے۔ اگر چودھری سرور کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تو پھر لوگ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ کپتان کا معیارِ ’’میٹھا میٹھا ،ہَپ ہَپ اور کڑوا کڑوا ، تھُوتھُو‘‘ ہے۔
سینیٹ کے موجودہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کا کردار انتہائی شرمناک رہا اور پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلا انتخاب تھا جس میں ضمیرفروشوں کی کھُل کر بولی لگائی جاتی رہی۔ خیبرپختونخوا میں جہاں ارکانِ اسمبلی کی تعداد کے لحاظ سے پیپلزپارٹی کو سینیٹرز کی آدھی سیٹ بھی نہیں ملتی تھی، وہاں وہ 2 سینیٹر منتخب کروانے میں کامیاب ہوگئی۔ سندھ میں ایم کیو ایم کے ضمیرفروش بھی پیپلزپارٹی کی جھولی میں آن گرے۔ اِس کے باوجود بھی پیپلزپارٹی اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کروانے میں ناکام رہی اور اُسے ڈپٹی چیئرمینی پر ہی اکتفا کرنا پڑااور وہ بھی کپتان کے ووٹوں کے سہارے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خاں ’’بغضِ نوازشریف‘‘ میں اتنا ہی آگے نکل گئے تھے کہ اُنہیں اپنے ووٹ اُس جماعت کی جھولی میں ڈالنے پڑے جس کے خلاف وہ ہمیشہ آگ اُگلتے رہے اور اب بھی اُگل رہے ہیں؟۔ پیپلزپارٹی کے اُمیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کے بعد عمران خاں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ بغض نہیں اُصولوں کی سیاست کر رہے ہیں۔
عمران خاں کی اصولی سیاست اور نظریہ تو اُسی وقت گٹر میں بہہ گئے تھے جب اُنہوں نے بلوچستان کے 6 آزاد سینیٹرز کے گروپ کو ووٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ انصاف نے اپنے سارے ووٹ بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کی جھولی میں ڈال دیئے۔ عبدالقدوس بزنجو وہ شخص ہے جو 500 سے بھی کم ووٹ لے کر وزیرِاعلیٰ منتخب ہوا اور پھر ایک سازش کے تحت اُسے وزیرِاعلیٰ بنا دیا گیا۔ اُس کی وزارتِ اعلیٰ کے پیچھے جو خفیہ ہاتھ کارفرما تھے، اُن سے ایک عالم واقف ہے۔ اگر کپتان اصولوں کی سیاست کرتے تو سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ کا ووٹ کبھی نہ دیتے لیکن اُن کی تو پوری جماعت سنجرانی کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ یہی نہیں بلکہ جب پیپلزپارٹی نے اِس شرط پر سنجرانی کو ووٹ دینے کی حامی بھری کہ تحریکِ انصاف پیپلزپارٹی کے کے اُمیدوار کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا ووٹ دے گی تو کپتان یہ شرط بھی مان گئے حالانکہ صرف ایک دِن پہلے تک وہ یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ اگر اُنہوں نے پیپلزپارٹی سے ہاتھ ملا لیا تو اُن کی ساری نظریاتی سیاست اور جدوجہد اکارت چلی جائے گی۔ آصف علی زرداری تو میاں نوازشریف کے اِس لیے خلاف ہوئے کہ میاں صاحب نے اُن سے طے شدہ ملاقات سے انکار کر دیا لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کپتان شریف خاندان سے سیاسی کی بجائے ذاتی دشمنی تک کیوں اُتر آئے ہیں۔
کپتان نے اصولی سیاست کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے 20 ارکانِ اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان تو کر دیا لیکن اُن کے اِس ’’لائقِ تحسین‘‘ اقدام کو سراہا کسی نے بھی نہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک طرف تو وہ شفاف سیاست کا کریڈٹ لیتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری طرف اُن لوگوں کی حمایت بھی کرتے پائے جاتے ہیں جو اِسی ’’گَند‘‘ کی پیداوار ہیں۔ جن 20 ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا ڈرامہ رچایا گیا ہے، اُن میں سے 10 ارکان تو ایسے ہیں جو تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پہلے ہی تحریکِ انصاف کی پالیسیوں پر کھُل کر تنقید کرتے رہے اور وزیرِاعلیٰ پرویز خٹک پر الزام تراشیاں بھی۔ جِن خواتین کو پارٹی سے نکالا گیا ،اُن میں سے 3 نے میڈیا کے سامنے حلف اُٹھایا کہ اُنہوں نے اپنا ووٹ نہیں بیچا۔ نسیم حیات کہتی ہیں کہ اُنہیں جن 12 افراد کے گروپ میں شامل کیا گیا تھا ،اُس گروپ کا سینٹ منتخب بھی ہوا اور اُس کو پورے 12 ووٹ بھی ملے۔ اگر نَو منتخب سینیٹر کو ایک ووٹ بھی کم ملتا تو کہا جا سکتا تھا کہ نسیم حیات نے ووٹ نہیں دیا لیکن جب پورے ووٹ مِل گئے تو ووٹ بیچنے کا سوال کہاں سے اُٹھا۔ کیا نسیم حیات نہیں جانتیں کہ یہ سارے افراد وہی ہیں جو پرویز خٹک کی مخالفت کرتے رہے ہیں اورووٹ بیچنے والوں کی فہرست تیار کرنے والے پرویز خٹک ہی تھے۔ اِس لیے اُن کے نام تو آنے ہی تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی تعداد کے لحاظ سے تحریکِ انصاف کے خیبرپختونخوا سے جتنے سینیٹرز منتخب ہونے چاہییں تھے، اُتنے ہی منتخب ہوئے اور تحریکِ انصاف کو ایک سیٹ کا بھی نقصان نہیں ہوا۔ دراصل عمران خاں آمدہ عام انتخابات میں جن لوگوں کو پارٹی ٹکٹ نہیں دینا چاہتے تھے، یہ اُن سے جان چھڑانے کا ایک بہانہ تھا۔
حرفِ آخر یہ کہ جب سوائے پیپلزپارٹی کے تمام سیاسی جماعتیں سینیٹ کے انتخابات کی شفافیت پر طعنہ زَن ہیں، وزیرِاعظم ایسی سینیٹ کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہیں جس کی چیئرمینی سنجرانی جیسے شخص کے پاس ہو تو پھر اِن انتخابات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ یہ عام انتخابات تو ہیں نہیں جہاں ووٹرز کی تعداد کروڑوں میں ہو۔ یہاں تو مخصوص تعداد میں ووٹ ہوتے ہیں اور ہر سیاسی جماعت کو پہلے ہی سے علم ہوتا ہے کہ وہ کتنے سینیٹرز منتخب کروا سکتی ہے۔ پھر پہلے سینیٹرز کے انتخابات اور بعد ازاں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں غیرمتوقع نتائج کو کون قبول کرے گا۔


ای پیپر