اللہ کی رضا
21 اپریل 2018 2018-04-21

ہماری حماقت کی انتہا دیکھیے کہ ہم تاحال اس مایہ ناز ٹریفک انجینئر اور تعمیرات کے ماہر کو دریافت کرنے میں بری طرح ناکام رہے جسے سید جی کی وزارت عظمیٰ میں فلائی اوورز تعمیر اور شاہراہوں ، چوہراہوں کو کشادہ کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔
اگر گیلانی جی مدینۃ الاولیاء میں اس ’’گوہرِ نایاب ‘‘کودر آمد نہ کرتے تو ہم ابھی تک پتھر کے زمانے میں بھٹک رہے ہوتے اور جدید دنیا قدم رکھنے کی سعادت سے محروم رہتے ۔ملتان میں قائم فلائی اوورز اور موٹر وے پہ کلرکہار کے مقام میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ آپ انتہائی خوشگوار موڈ، سہانے موسم میں دوسری زوجہ محترمہ کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوتے جونہی مذکورہ مقام پہ پہنچتے ہیں تو گاڑی غوطہ زن ہوتی ہے اور بے ساختہ کلمہ کا ورد شروع ہوجاتاہے ۔ آپ پہاڑی کی دوسری جانب سے نمودار ہوتے ہیں ۔ ملتان کے فلائی اوورز پہ بھی ایسے کئی ’’معرفت‘‘کے مقام اس ڈرائیور کے کیلئے آتے ہیں جو پہلی دفعہ جنوبی پنجاب کے صدر مقام کی زیارت کو آتا ہے۔
جہاں تک چوہراہوں کی وسعت کا معاملہ ہے توبطور مثل ہم قذافی چوک المعروف کمہاراں والا کا تذکرہ کرنا فرض عین سمجھتے ہیں جہاں تمام اطراف سے آنے والی ٹریفک شہر کی ’’شرعی حدود ‘‘ میں داخل ہوتی ہے اور ڈرائیور کہاں رکنے تھے راستے کا کہاں موڑ تھا اسے بھول جا کی کیفیت سے دو چار ہوتاہے ۔ اور کسی مقامی ڈرائیور کی امامت میں سفر طے کرتے کرتے جنہیں راستے میں خبر ہوئی یا راستہ کوئی اور ہے کی منزل تک پہنچ جاتاہے۔ بھاری بھر تبدیلی کے باوجود اب تلک کشادگی مسئلہ فیثا غورث کی عملی شکل دکھائی دیتاہے ۔
ہماری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آسکا کہ فلائی اوور کے مابین چند گز جگہ چھوڑنے کے پیچھے کونسی ’’راکٹ سائنس‘‘ ہے۔دنیامیں کئی میلوں پے محیط موٹر وے، فلائی اووریکساں ہمواری کے ساتھ بچھے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ہر گاڑی کو مذکورہ مقام پر غوطہ زن کرنے کے پیچھے کس کا ذاتی مفاد وابستہ ہے راوی اس بابت مکمل خاموش ہے ۔
مذکورہ چورا ہے پہ قائم فلائی اوور اپنی ساخت میں خاص شاہکار ہے کہ دیکھ کر حیرت گم ہوتی ہے۔ زکریا یونیورسٹی ملتان سے آتی اور جنرل بس سٹینڈ تک جاتی شاہراہ پر سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ۔ کیونکہ شہر کی جانب سے آنے والی سڑک بھی اسی مقام پہ ملتی ہے دونوں کا ملاپ ایسا ہی ہے جیسے گلف آف کلاسکا میں دو مختلف رنگوں کے پانی ملتے ہیں ۔تاہم ہمیں ٹریفک انتظامیہ کے اس ’’قومی فرض ‘‘ کی قدر کرنی ہے جو انہوں نے بھاری بھر بورڈ نصب کرکے ادا کیاہے ۔ جس پر جلی حروف میں’’ بائیں جانب مڑنا منع ہے‘‘ رقم ہے۔ یہ عبارت صرف نظر کی عینک لگا کرہی پڑھی جاسکتی ہے۔ البتہ رات کی تاریکی میں بورڈ اس لیے نظر نہیں آتا یہاں روشنی کا سرے سے کوئی اہتمام نہیں ۔یہیں سے ڈرائیور صاحبان کے صوابدیدی اختیارات شروع ہوتے ہیں کہ وہ از خود کہاں کا رخ کرتے ہیں ۔
جن پرانی شاہراہوں پر اہل ملتان دن بھر سفر کرتے ہیں ان پہ کوئی مقام ایسا نہیں جہاں ’’ اچھلو‘‘ موجود نہ ہوں۔ فن تعمیر میں اس’’ عجوبہ ‘‘کو کیا نام دیا جائے اس پر تحقیق جاری ہے۔البتہ قانون اسی وقت حرکت میں آتا ہے جب کوئی مسافر گٹرکی انچائی کی تاب نہ لاتے ہوئے گر پڑے اور شدید زخمی ہوجائے ۔ ایک زمانہ تھا ہم بھی واسا کی ’’تھیوری ‘‘کے گرویدہ رہے کہ قدیم شہر میں دستیاب حالات میں سیوریج لائن بچھانے کا اس سے بہتر کوئی انتظام ممکن نہ تھا ۔ لیکن جب ہم نے قذافی چوک سے زکریایونیورسٹی تک نوزائیدہ سڑک کے عین وسط میں قطار اندر قطار تنور نما گٹر دیکھے تو ہمیں واسا کا پرانا فلسفہ ہضم نہ ہوا ۔ہماری مانند صابر و شاکر اہل ملتان اب تلک واسا کی فلاسفی اور فن تعمیر کے خلاف بغاوت پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے ۔
چوراہوں اور فلائی اوور کی بے ڈھنگی تعمیر کے زخم ابھی بھرے نہ تھے کہ میٹرو ٹریک بچھانے والے حرکت میں آگئے ۔ دل میں خواہش سی پیداہوئی کہ سابقہ غلطیوں کی تلافی کا موسم اور مقام آن پہنچا ۔جب ملتان میں بنی
دو نئی نویلی دو رویہ سڑکوں کی اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ شروع ہوا تو خواہش امید میں بدل گئی کہ جنرل بس سٹینڈ تا قذافی چوک اور چونگی نمبر 9تا جامعہ زکریا کا ٹریک عالمی معیار کے مطابق تعمیر اور محفوظ ہوگا۔شاہراہ کے دونوں جانب عوام کی آمدو رفت کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔ یہ خواب تعبیر کے مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔ اب کوئی دن ایسا نہیں گزرتا مذکورہ شاہرا ہ پر حادثہ نہ ہو۔ اس پے موجود تمام یو ٹرن از خود حادثہ کو دعوت دیتے ہیں جس میں زیادہ ہاتھ غلط سمت میں آنے والی ٹریفک کا بھی ہے ۔ جبکہ ٹریفک وارڈن معروف مقامات پہ دکھائی نہیں دیتے حالانکہ سبزی منڈی بڑا پوائنٹ ہے جہاں انسانوں کے ساتھ گدھوں نے بھی یکسا ں رفتار سے یو ٹرن کو ’’کراس ‘‘ کرنا ہوتاہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق شہر بھر کی ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کیلئے صرف چارسو کی نفری موجود ہے۔ اس میں وہ علاقہ شامل نہیں جہاں بغیر ہلمٹ جانے والوں کے پر جلتے ہیں۔شہر بھر میں کسی نہ کسی جگہ پر ٹریفک کا جام ہونا اب معمول کی بات ہے۔حالانکہ فلائی اوورز کی تعمیر کے وقت اس کی افادیت بتانے والوں نے پیشین گوئی کی تھی کہ اب ٹریفک کا مسئلہ مستقل حل ہوجائے گا۔ ان پلوں کی اہمیت اور افادیت سے اب بھی اگرکوئی انکاری ہے تو اس سے بڑا ’’ احمق ‘‘ نہیں ۔ میٹرو بس سروس کے خلاف حسد کا جذبہ پالنے والے خالی فراٹے بھرتی ہوئی سپیڈو بسوں کو ٹریفک کی بدنظمی کا ذمہ دار گردانتے ہیں لیکن ان سے اتفاق شرط نہیں۔
کہا جاتاہے کہ ٹریفک کی روانی میں بڑی رکاوٹ خود ساختہ چنگ چی رکشہ اور ناجائز تجاوزات ہیں ۔بس کے ایک ہاکر سے لے کر خوانچہ فروش تک سب ہی ریاست کی رٹ کو ہوامیں اڑا تے دکھائی دیتے ہیں ۔وارڈ ن کے کاندھوں پر سجے پھول بھی اتنی طاقت نہیں رکھتے جو تجاوزات کو ہٹانے کیلئے مطلوب ہے۔ کیونکہ اب اس طبقہ کا شمار بھی مافیازمیں ہونے لگا ہے۔ یہاں بھی ’’مال ‘‘اوپر تک پہنچانے کی وہی روایت قائم ہے جو دیگر سرکاری ادارہ جات میں پختہ ہیں ۔فرق صرف اتناہے کہ ان کے پاس نہ کوئی دفتر ہے نہ عہدہ۔
عمومی تاثر یہی ہے کہ ٹریفک نظام کے درہم برہم ہونے کا بڑا سبب غیر قانونی رکشا ہے جو بغیر کسی قانون اور ضابطے کے شاراہوں پہ دوڑتے پھرتے ہیں ۔نجانے کس بڑی ’’ہستی ‘‘نے انہیں اجازت دینے کا ’’گنا ہ‘‘ کیا تھا۔ جو اب درد سر بن چکا ہے اور کتنی قیمتی جانیں اس لا قانونیت کی نذرہوگئیں ۔
ملتان کی معروف نجی کمپنی کی ورک شاپ میں حادثات کا شکا رہونے والی بڑے برانڈ کی لگژری گاڑیاں روزانہ کی بنیاد پر لائی جاتی ہیں ۔ ان کی سالانہ تعداد سات ہزار سے زائد ہے ۔ اس میں پرانی گاڑیوں کے اعداودشمار شامل نہیں۔ اس سے اخذ کیا جاسکتاہے کہ دن بھر میں کوئی لمحہ ایسا نہیں گرزتا جب کسی سڑک پر کسی بہن کا بھائی ، باپ کا بیٹا اور بیٹے کی ماں موت کی آغوش میں نہ جاتی ہو۔ اخلاقی طورپر کسی نہ کسی ادارے کو تو اس ناحق خون کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ۔
ناقدین کا خیال ہے کہ ناقص منصوبہ بندی اور حادثات کے پیچھے وہ کمیشن مافیا ہے جو مقتدرطبقہ کی جیب بھرتا ہے۔ ان کی چالاکی دیکھئے کہ وہ اس کے باوجود تعزیت اور ہمدردی کرنے والوں کی پہلی صف میں موجود ہوتے ہیں ۔ اور ہمارا صبر دیکھئے کہ ہم پھر بھی اس کو اللہ کی رضا سمجھتے ہیں ۔


ای پیپر