پی پی پی کیا بدلی !
21 اپریل 2018 2018-04-21

خیالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور وہ کسی وفا کے تابع نہیں ہوتے۔!
بچپن، لڑکپن، بڑھاپا اور مزید بڑھاپا ان ادوار میں سوچیں مختلف ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ لہجوں میں بھی بدلاؤ آجاتا ہے اوائل عمری کی تندی تیزی بڑھاپے میں کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ انسان زندگی کے کئی مراحل طے کر چکا ہوتا ہے۔ اس پر زمانے اور سماج کے طرز فکر و عمل کے اثرات مرتب ہوچکے ہوتے ہیں۔ سنجیدگی، متانت اور ذمہ داری کا احساس اسے وہ سب کچھ بدل دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جو وہ جوانی کے دنوں میں اختیار کیے ہوتا ہے۔لہٰذا اگر کوئی کسی سے اختلاف و قطع تعلق کرتا ہے تو اس کی وجہ نظریاتی، عضویاتی اور خیالاتی تبدیلی ہوتی ہے۔ اس میں تشویش والی بات کوئی نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان دنوں جو سیاستدان اور کارکنان ایک جماعت سے دوسری میں آجا رہے ہیں تو یہ فطری اصول کے تحت ہو رہا ہے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ اگر پی پی پی کے ندیم افضل چن پی ٹی آئی میں تشریف لے آئے ہیں تو کون سی عجیب حرکت
ہے۔ انہیں جو بہتر محسوس ہوا انہوں نے کر دکھایا۔ جو لوگ ان پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور طعنہ زنی کر رہے ہیں وہ حقائق کو مد نظر رکھیں۔ ان کی اپنی جماعتیں شکست و ریخت کے عمل سے دوچار ہیں۔ بلکہ وہ خود بھی شاید چاہ رہے ہوں کہ ان کو بھی اڑنے کا کوئی عذر اور موقع دستیاب ہو تو وہ دیر نہ لگائیں۔ لہٰذا ندیم افضل چن نے جو کیا درست کیا ۔ پی پی پی سے جپھا ڈالے رہنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا کیونکہ وہ اب بھٹو کی نہیں غیر بھٹو کی جماعت ہے۔ جس پر آصف علی زرداری کا سایہ ہے۔ ان کے خاندان کا عکس ہے۔ لہٰذا وہ یہ سوچ کر کہ چونکہ پی پی پی بھٹو کے فلسفے اور اصول سے منحرف ہو گئی ہے اس میں مزید موجود رہنا کسی طور بھی ان کے مفاد میں نہیں ہو گا الگ ہو گئے۔خود جناب بھٹو نے سرکاری جماعت اور قیادت سے تعلق ختم کر کے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ وجہ بنیادی اصول تھے جنہیں صدر ایوب خان نے نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کا نظریہ تبدیل ہو رہا تھا۔ وہ قومی مفاد میں روشن فیصلے کرنے سے قاصر ہوتے جا رہے تھے جبکہ بھٹو ان کے اس طرز عمل سے سخت پریشان تھے کہ انہوں نے مشرقی پاکستانیوں کو سیاسی نظام میں جگہ نہ دے کرمایوس کر دیا۔ اگرچہ وہ ان کے لیے بظاہر بہت کچھ کر رہے تھے مگر غیر ارادی طور سے انہوں نے علیحدگی پسند قوتوں کے ہاتھ مضبوط کیے۔ ان کے بنائے گئے قوانین نے بنگالیوں کی رہی سہی امیدیں بھی خاک میں ملا دیں۔ اب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ کبھی بھی سیاسی اقتدار حاصل نہ کر سکیں گے۔ ان تمام نا انصافیوں کے خلاف جن میں کچھ حقیقی تھیں اور کچھ فرضی مشرقی پاکستانیوں کا ردعمل زور پکڑ گیا۔ اس کے بعد انیس سو پینٹھ کی جنگ چھڑ گئی۔ اس نے ان پر گہرا اثر چھوڑا کیونکہ اس میں مشرقی پاکستان کی حفاظت کا سہرا چین کے سر باندھا گیا تھا۔ جبکہ ایسا اتفاقیہ ہوا تھا۔ مگر ایوب خان اس تاثر کو ختم کرنے میں نا کام رہے۔ جن کا بھٹو کو بے حد دکھ ہوا۔
قدرت اللہ شہاب، شہاب نامے میں لکھتے ہیں کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد مسٹر بھٹو نیو یارک سے واپسی پر لندن سے گزرے، لندن سے پاکستان جانے کے لیے وہ ایک ایسے ہوائی جہاز پر بیٹھے جو ہالینڈ کے ہوائی اڈے ایمسٹر ڈم پر بھی رُکتا تھا۔ ایمسٹر ڈم کے ہوائی اڈے پر اتر کر انہوں نے مجھے فون کر کے کہا۔ ’’میں یہاں صرف تم سے ملنے کے لیے اترا ہوں فوراً ایئر پورٹ پہنچو اپنے سفارت خانے والوں کو ہر گز نہ بتانا کہ میں یہاں اترا ہوں تم اکیلے آجاؤ‘‘۔
قدرت اللہ شہاب ایئر پورٹ پہنچ گئے۔ بھٹو نے پرواز منسوخ کروا کر تین گھنٹے بعد والی پرواز میں نشست کا کہا اور قدرت اللہ سے بھی یہی کہا کہ ’’اب تم دو اڑھائی گھنٹے مجھے اپنی کار میں ایمسٹر ڈم کی سیر کراؤ اور ہوائی جہاز کے وقت پر واپس ہوائی اڈے پہنچا دو اور پھر ہم دونوں کار میں بیٹھ گئے۔ کار ایمسٹر ڈم کے خوبصورت اور خوشنما علاقوں سے گزرتی رہی۔ مگربھٹو نے کسی منظر کی طرف
آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ وہ لگاتار بولتے چلے جا رہے تھے۔ ان کے سینے میں دبا ہوا تلخیوں کا لاوا ان کی گفتگو کی روانی میں بہہ کر مسلسل باہر نکل رہا تھا۔ اس میں صدر ایوب اور چند فوجی جرنیلوں کی کم ہمتی، کو تاہ اندیشی اور فن حرب کی مہارت کے فقدان کا رونا تھا۔ وہ بار بار یہ دہراتے کہ پہاڑ جیسی غلطیوں اور بلاوجہ ناکامیوں کے اس کاروبار میں وہ صدر ایوب کا مزید ساتھ نہیں دے سکتے۔ انہوں نے دوٹوک طور سے تو یہ بات نہیں کہی مگر ان کی گفتگو کے انداز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ ایوب کی کابینہ سے باہر نکلنے کے لٹے پر تول رہے ہیں‘‘۔
بھٹو ایک آمر کے ساتھ زیادہ دیر چلنے کے خود کو اہل نہیں سمجھتے تھے اور ایوب کی کابینہ میں شامل رہ کر وہ قومی سلامتی کی تباہی کا داغ اپنے سینے پر نہیں سجانا چاہتے تھے۔ اور جب ایک آمر کوئی مشورہ بھی ماننے کو تیار نہ ہو تو ساتھ نبھانا اور جمہوری اقتدار کے لیے کوشاں ہونا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
جنگ ستمبر کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان میں مختلف نوعیت کے حالات نے جنم لیا کہ معاہدہ تاشقند جس کے خلاف مغربی پاکستان میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی۔ مشرقی پاکستان میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں ہوا۔ تاشقند میں دونوں ملکوں پاکستان اور بھارت کے سربراہوں کے درمیان آٹھ روز تک مذاکرات ہوتے رہے۔ جن میں کوسیجن نے بھی حصہ لیا۔ پاکستان اور بھارت کے ایجنڈا پر ہی اختلافات پیدا ہو گئے۔ بھٹو چاہتے تھے کہ کشمیر ایشو سر فہرست رکھا جائے مگر بھارت اس کے لیے تیار نہ تھا۔ وہ مجموعی تعلقات پر زور دیتا تھا۔ آخر آٹھ جنوری انیس سو چھیاسٹھ کو دونوں راہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلان پر دستخط کر دیے۔ اس معاہدے میں اگرچہ اصولی طور سے ان اختلافات کو تسلیم کیا گیا جو پاک بھارت کشیدگی کے پیچھے کار فرما تھے اور جنگ انیس سو پینسٹھ کا موجب بنے۔ مگر مسئلہ کشمیر کے بارے میں صرف اتنا ہوا کہ کشیدگی کے اس پس منظر میں جو دونوں ممالک کے مابین چلی آرہی ہے جموں وکشمیر زیر بحث آیا اور اس بارے میں فریقین نے اپنے اپنے موقف کو دہرایا مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ یہ مایوس کن کیفیت تھی۔ لہٰذا پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہی رہے اور اعلان تاشقند کے معاہدے سے صرف یہ ہوا کہ فوجیں پانچ اگست کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔ مذاکرات کے دوران بھٹو صاحب نے صدر ایوب کو کوئی مشورہ دینے کی کوشش کی تو صدر کا ناریل چٹخ گیا۔ انہوں نے غصے میں بھٹو صاحب کو اردو میں ڈانٹ کر کہا ۔ ’’اُلو کے پٹھے بکواس بند کرو‘‘۔ بھٹو صاحب نے دبے لفظوں میں احتجاج کیا ۔
’’سر! آپ یہ ہر گز فراموش نہ کریں کہ روسی وفد میں کوئی نہ کوئی اردو زبان جاننے والا بھی ضرور موجود ہو گا‘‘۔ یہی وہ نکتہ انتہا تھا جہاں سے ایک آمر اور قوم کی عزت اور خود داری کی علامت بھٹو کے راستے الگ ہو گئے اور ذوالفقار علی بھٹو نے معاہدہ تاشقند کے متعلق گیارہ مارچ کو کہا ’’یہ کوئی معاہدہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی سمجھوتہ ہے جس کی کامیابی کا انحصار فریقین کی نیتوں پر ہے‘‘۔ لہٰذا اس تناظر میں جب ہم موجودہ صورت حال جس میں سیاسی ہلچل اپنے عروج کو پہنچی ہوئی ہے کہ سیاسی شخصیات پی ٹی آئی کے علاوہ دوسری جماعتوں کا بھی رخ کر رہی ہیں اور ان پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ بالخصوص ندیم افضل چن کو تو دو دو ہاتھ لیا جا رہا ہے۔ ٹی وی چینلوں کے بقراط دھار تمہیدیں باندھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اُدھر پی پی پی کے بعض ’’سیانے‘‘ آصف علی زرداری کے صدقے واری جا رہے ہیں۔ اس ’’واقعے‘‘ کا ذکر بڑے جذباتی انداز سے کر رہے ہیں۔ افسوس کا اظہار بھی وہ کرتے ہیں مگروہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بھٹو صاحب نے بھی صدر ایوب کو چھوڑا تھا اور اس لیے چھوڑا تھا کہ وہ ان کے خیال و خواہش کے مطابق نہیں تھے۔ ان کی پالیسیاں عام آدمی کی امنگوں کے تھوڑا بر عکس تھیں۔ لہٰذا انہوں نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا۔ جو جنگل کی آگ کی طرح مقبولیت میں آگے بڑھتی گئی۔ مگر آج وہی جماعت ان کے افکار و نظریات کو پیچھے چھوڑ کر ذاتی مفادات کی اسیر ہو گئی ہے۔ لہٰذا اس سے اختلاف رکھنے والے اس سے الگ ہوتے جا رہے ہیں جنہیں بے وفا، اقتدار پرست، لالچی، حریص اور مفادات پرست کہا جا رہا ہے۔۔۔ جو درست نہیں۔ خیالات کی دنیا بڑی عجیب ہوتی ہے۔ اس میں تغیر و تبدل آتا رہتا ہے جو حالات کی بنا پر ہوتا ہے۔ واقعات اسے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ لہٰذا پی پی پی کو کسی پر الزام عائد نہیں کرنا چاہیے، جب وہ بدلی تو اس کے لوگ بھی بدل گئے۔


ای پیپر