بھارتی ریاستی دہشت گردی کا خوفناک رخ
21 اپریل 2018 2018-04-21

مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی،، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں بڑھتے ہوئے قتل عام، خواتین کی آبروریزی، غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں پر تشدد اور پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جبر واستبداد کی تمام کارروائیوں کی اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے ٹریبونل سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ بچی کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کرنیکا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کے انتہائی سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔جیل خانہ جات کے ڈائریکٹر جنرل نے مقبوضہ علاقے کے انسانی حقوق کمیشن کے سامنے نظر بندوں کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لیا جو انتہائی افسوسناک ہے۔ غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کی حالت زارکے حوالے سے جو اطلاعات مل رہی ہیں حریت قیادت انہیں ثابت کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کسی بھی تحقیقاتی کمیشن کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیارہے۔ مشترکہ قیادت نے مقبوضہ علاقے اوربھارتی جیلوں میں نظر بند کشمیریوں پر تشدد ڈھانے، ان سے بیگار لینے، انہیں ذلت آمیز سلوک کا نشانہ بنانے، نظر بند طلباء کو نصابی کتابیں فراہم نہ کرنے اور انہیں ہر قسم کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کی ظالمانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے کے اطراف و اکناف میں بھارتی ریاستی دہشت گردی نے ایک خوفناک رْخ اختیار کر لیاہے جسے روکنے کے لیے عالمی برادری کی مداخلت ناگزیر بن چکی ہے۔
مزاحمتی قیادت نے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ کم سن بچی کی
آبرو ریزی قتل کے بہیمانہ واقعے میں ملوث بھارتی پولیس اہلکاروں کو سرکاری تحفظ فراہم کرنا لاقانونیت اور سرکاری دہشت گردی کا بین ثبوت ہے۔ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ اس قسم کے گھناؤنے واقعات میں ملوث مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں تحقیقاتی کمیشن کا قیام ناگزیر ہے۔ اس المناک واقعے کے خلاف کشمیریوں خاص طور پر طلباء کا ردعمل ایک فطری عمل ہے لیکن بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین کو طاقت کے وحشیانہ استعمال کامسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔
مشترکہ قیادت نے کہا کہ متاثرہ بچی کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کرنیکا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کے انتہائی سنگین نتائج نکل سکتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری بھارت اور مقبوضہ علاقے میں اسکی کٹھ پتلیوں پر عائد ہو گی۔کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں نظم و ضبط اور اتحاد و اتفاق کو مزید مضبوط بناتے ہوئے ان عناصر سے ہوشیار رہیں جو اتحاد کو کمزور کرنے کی ناپاک کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
واقعے کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس بہیمانہ کارروائی کا مقصدکھٹوعہ میں رہائش پذیر مسلمانوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔جموں خطے کے ضلع کٹھوعہ میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے مجرموں کو بچانے کی سخت کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ مقبوضہ علاقے میں قائم کٹھ پتلی حکومت کی اتحادی تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام نہاد وزرا بھی مجرموں کے حق میں کھل کر آواز اٹھا رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے پیلٹ گن کی فائرنگ سے زخمی ہونیوالے کم سے کم تین اورکشمیری سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔ کٹھوعہ کی ننھی آصفہ بانو کی بے حرمتی اور قتل کے افسوسناک واقعے کے خلاف طلباء کے پر امن مظاہرے پر بھارتی فورسز نے پیلٹ گن سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال کیا۔دو زخمی افراد کو پلوامہ کے ہسپتال سے جبکہ ایک کو ضلع بڈگام کے علاقے چاڈورہ سے سرینگر کے ہسپتال منتقل کیاگیا ہے۔ پیلٹ گن سے زخمی کشمیریوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے کہاہے کہ تینوں افراد کی آنکھیں زخمی ہوئی ہیں جس سے انکی بینائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ہسپتال کے شعبہ امراض چشم کے ایک ڈاکٹر نے کہاہے کہ پیلٹ آنکھ کے اندر جانے سے خون بہہ رہا ہے اور خون رنکنے کے بعد ہی زخم کی گہرائی کے بارے میں جانا جاسکتا ہے۔تاہم انہوں
نے کہاکہ زخم کافی گہرے ہیں۔
اَمر واقعہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ہم سے بہت سی کوتاہیاں ہوئیں ہیں اورہم بھارت کا اصل گھناونا چہرہ دنیا کے سامنے نہ لاسکے۔جبکہ بھارت نے کشمیر میں اسرائیل سے بھی بڑھ کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں،لیکن اِس کے باوجود ہم دنیا کو کشمیر کی طرف متوجہ نہ کرسکے۔ہمارے اِس رویئے کی وجہ سے بین الاقوامی فورم پر نہ صرف کشمیر کا مقدمہ کمزور ہوا بلکہ بھارتی فوجی درندوں کو ہزاروں کشمیری مسلمانوں کو شہید کرنے کا بھی موقع ملا۔دنیا کی آنکھوں میں جس طرح دھول جھونک کر ہندو بنیئے نے ایک آزادریاست پر قبضہ کیا وہ بذات خود تاریخ کا ایک بدترین باب ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اِس بت پرست قوم کا نہ تو کوئی مخصوص مذہبی ضابطہ ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی و معاشرتی معیار ہے۔گاؤ ماتا کے یہ پجاری ہندوستان کی سرزمین پر توحید و رسالت کی دعوت لے کر آنے والوں کو اسی طرح بلاشرکت غیرے اپنی ملکیت سمجھتے رہے جس طرح یہودی ارض فلسطین پر قبضے کو اپنا پیدائشی حق تصور کرتے ہیں،جبکہ ہر دو مقامات پر خون مسلم ارزاں بھی رہا اورناقابل شکست بھی۔اس کے باوجود پاکستان اور بالخصوص عالم اسلام آج تک دنیا کے اِن مظلوم مسلمانوں کیلئے کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار نہیں کرسکا۔جس طرح امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل فلسطینی بستیوں کو تاخت و تاراج کرکے قتل عام کی پالیسی پر عمل کررہا ہے،ہندو بنیاء بھی مقبوضہ کشمیر میں اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک کی سات لاکھ سے زائد فوج وادی کشمیر میں قتل و غارت گری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔


ای پیپر