Photo Credit Yahoo

’ووٹ کو عزت دو‘نواز شریف کے نعرے کا چیف جسٹس نے کرارارجواب دیدیا
21 اپریل 2018 (16:25) 2018-04-21

لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ایوان اقبال لاہور میں یوم اقبال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان مستقل جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کاش علامہ اقبال اور قائداعظم ابتدائی وقت میں ہوتے تو آج پاکستان کا یہ مستقبل نہ ہوتا۔ کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جن کا اپنا ملک نہیں لیکن ہمیں اقبال اور قائد اعظم کی جدوجہد اور اللہ کی نوازش سے یہ ملک مل گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم حاصل کرنے والی قومیں ترقی کر رہی ہیں لیکن پنجاب یونیورسٹی کی 80 گز اراضی کینال زمین گرڈ اسٹیشن کیلئے لی گئی اور میری نظر میں سب سے اہم چیز تعلیم ہے جبکہ تعلیم سے متعلق کسی چیز پر سمجھوتا نہیں کروں گا اور بچوں کو تعلیم دینے میں کوتاہی کرنے والے والدین مجرم ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جن اسپتالوں کا دورہ کیا وہاں ایم آر آئی مشین نہیں اور خواتین کے الٹرا ساو¿نڈ کے لیے خاتون ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ 1300 دوائیں اسپتال میں تقسیم کیلئے مفت دینے کی ٹیسٹنگ سہولت نہیں تھی۔

لاہور: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ماورائے آئین کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں اور جوڈیشل مارشل لاءکو ذہن سے نکال دیا جائے۔لاہور میں ایوان اقبال میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہے، کسی کا دباو¿ قبول نہیں کریں گے، اینکرز کہتے ہیں مار شل لا، مارشل لا، کس نے لگانا ہے مارشل لاءاور کس نے لگانے دینا ہے؟ قائد اعظم کے ملک میں صرف جمہوریت رہے گی، جس دن مارشل لاء لگا اور ہم پر شب خون مارا گیا اس دن میں اور سپریم کورٹ کے میرے 17 ججز نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ذہن سے نکال دیں کہ سپریم کورٹ جوڈیشل مارشل لاء لگارہی ہے، جوڈیشل مارشل لاءکا آئین میں کوئی وجود نہیں، یہ کسی کے دل کی خواہش یا اختراع ہوسکتی ہے، ہمارے ذہن میں نہیں، ماورائے آئین کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں، عوام کے حقوق کے لیے لڑیں گے، جس دن لگا قوم ساتھ نہیں رہی، ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کون لگائے گا مارشل لاءکس میں ہمت ہے؟، کوئی بھی فیصلہ کریں تو جوڈیشل مارشل لاءکا شور اٹھتا ہے، جوڈیشل مارشل لاءکی باتیں کرنیوالے اپنا ذہن صاف رکھیں، سپریم کورٹ کے17 ججز جوڈیشل مارشل لاءنہیں لگنے دیں گے، میری نظر میں سب سے اہم چیز تعلیم ہے، آج پنجاب یونیورسٹی کی 80 کنال زمین حکومت کو دینے کا نوٹس لیا ہے، اراضی گرڈ اسٹیشن کیلیے دی گئی ہے، لیکن تعلیمی ادارے کی زمین حکومت کو کیوں دی گئی؟، تعلیم سے متعلق کسی چیز پر سمجھوتا نہیں کروں گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کی فراہمی کی ذمہ داری ریاست کی ہے، میں نے بنیادی حقوق کی فراہمی کیلیے کام کیا تو کیا غلط کیا، جس ووٹ کی عزت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس کی قدر اور عظمت لوگوں کی خدمت میں ہے، ووٹ کی قدر اور عزت یہ ہے کہ وہ بنیادی حق عوام کو دیں جو آئین نے دیے ہیں، قوم کی خدمت کریں، ہم عام کیسز کو سن رہے ہیں مگر الزام ہے کہ ہم عام کیسز ڈیل نہیں کررہے،اگر اپنی اپنی جگہ کام ٹھیک ہوتو عدالتوں پر بوجھ نہیں آئے گا، چار دفعہ دوستوں سے کہا تنخواہ چھوڑنے کو تیار ہوں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پنجاب اور خیبرپختون خوا کی حالت بھی بہتر نہیں ہوئی، آرٹیکل 25 اے کے تحت بچوں کو تعلیم کی مفت فراہمی بنیادی حقوق میں شامل ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن جب ریاست ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو کسی کو خلا کو پر کرنے کے لیے آگے بڑھنا پڑتا ہے، میں کسی ذاتی ایجنڈے پر کام نہیں کررہا، لعنت ہے پوپلسٹ جج پر، کچھ کہوں تو بھونچال آجاتا ہے، میرے پاس اپنے ججز کی تعداد بڑھانے کا اختیار نہیں، مجھے وسائل دے دیں، میں عوامی چیف جسٹس نہیں ہوں بلکہ قوم کا چیف جسٹس ہوں۔


ای پیپر