file photo

پاکستان کو جمہوری عمل سے مسلسل محروم رکھا گیا: نواز شریف
20 ستمبر 2020 (15:21) 2020-09-20

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک بدامنی اور جرائم کا گڑھ بن چکا ہے۔ کانفرنس اہم موقع پر منعقد ہو رہی ہے۔ اے پی سی انتہائی اہم معاملات پر ہو رہی ہے۔ میں اس اے پی سی کو فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملکی خوشحال، جمہوریت ریاست کیلئے تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے پر ہے۔ پاکستان کو جمہوری عمل سے مسلسل محروم رکھا گیا، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے۔ ملک میں عوامی مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔ 73 سال میں ایک بھی منتخب وزیراعظم کو آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، ریاستی ڈھانچہ کمزور ہونے کی بھی پروا نہیں کی جاتی، آپ جانتے ہیں 73 سال سے پاکستان کو کن مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر طرح کی مصلحت کو چھوڑ کر اپنی تحریک پر نظر ڈالیں، پاکستان کی سیاست اور خدمت میں میرا تجربہ کافی زیادہ ہے۔ آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوامی رائے پر ہے۔ ملک میں ہر ڈکٹیٹر نے اوسطاً 9 سال حکومت کی، 1973 کے آئین میں آرٹیکل 6 ڈالا گیا۔ کوئی وزیراعظم قتل، پھانسی چڑھ گیا تو کوئی ہائی جیکر، چور بنا دیا گیا۔ کسی کو جلا وطن قرار دیدیا گیا تو کوئی وزیراعظم عمر بھر کیلئے نااہل کر دیا گیا۔ جھوٹے مقدمات میں ماؤں، بہنوں کے ساتھ پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ یہ سلوک عوام کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور سزا بھی عوام کو مل رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جمہوری حکومت بن جائے تو اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں۔ جیل میں تھا مگر مجھے سب خبریں ملتی رہیں، انتخابات میں دھاندلی سے نتائج تبدیل کئے گئے۔ نتائج تبدیل نہ کئے جاتے تو بیساکھی پر کھڑی حکومت وجود میں نہ آتی، جب ڈکٹیٹر کو پہلی بار کٹہرے میں لایا گیا تو سب نے دیکھا، 2 بار آئین توڑنے والوں کو بریت کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں ملکی و غیر ملکی اداروں نے شفافیت پر سوالات اٹھائے، 2018 کے الیکشن میں دھاندلی نہ کی جاتی تو آج یہ حکومت نہ ہوتی۔ انتخابی عمل سے قبل یہ طے کرلیا جاتا ہے کس کو ہرانا، کسے جتوانا ہے۔ کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے، مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔ انتخابات پر دھاندلی کس کے کہنے پر کی گئی؟ 2018 کے انتخابات سے متعلق سابق چیف الیکشن کمشنر کو جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قرضے لینے میں تمام سابقہ حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ آج ملک میں مہنگائی بہت آگے جاچکی ہے۔ ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والوں نے لوگوں سے روزگار چھین لیا۔ پاکستان میں ووٹ کو عزت نہ دی گئی تو یہ ملک مفلوج ہی رہے گا۔

ن لیگ کی قیادت نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایک بھی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا، آج سی پیک منصوبہ کنفیوژن کا شکار ہے۔ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کا واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ حکومت کی تمام ہمدردیاں قوم کی بیٹی کے بجائے چہیتے پولیس افسر کیلئے ہیں۔ اختیار چند لوگوں کو دے دینا بددیانتی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ سابقہ وزیراعظم جانتے ہیں کس طرح سول حکومت کے گرد شکنجہ کس دیا جاتا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی ملکی مفادات سے متصادم نہیں ہونی چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر میں عوام پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت نے کٹھ پتلی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنالیا۔ ہم مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر احتجاج بھی نہ کرسکے۔ حکومت دنیا تو کیا اپنے دوست ممالک کی حمایت بھی حاصل نہ کرسکی۔ ہم کیوں عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے ہیں؟ آج کیوں دنیا ہماری بات سننے کیلئے تیار نہیں؟ شاہ محمود نے کس منصوبے کے تحت بیان دیئے جس سے سعودی عرب ناراض ہوا، سوچنا چاہئے کیوں ہمارے قریبی ممالک ہم پر اعتماد کرنا چھوڑ گئے۔ اس طرح کی حکومت ہوگی تو یہی کچھ ہوگا۔ خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ وقت آگیا ہے تمام سوالات کے جواب لئے جائیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو دیگر ماملک کے ساتھ مل کر او آئی سی کو مضبوط کرنا چاہئے۔ نااہل حکومت نے 2 سال میں پاکستان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ آج 2 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں۔ عمران خان انتقام کے ایجنڈے پر دھڑلے سے کام کرتے ہیں۔ بلوچستان حکومت گرانے کا مقصد سینیٹ انتخابات میں سامنے آیا۔ مذموم سازش کے ذریعے بلوچستان حکومت کو گرایا گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ چیئرمین نیب انتقام کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں، بہت جلد انشا اللہ ان سب کا یوم حساب آئے گا۔ ہماری عدالتیں نیب کے منفی کردار پر اپنی رائے دے چکی ہیں۔ جو نیب سے بچ جائے اسے ایف آئی اے کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ جو ایف آئی اے سے بچ جاتا ہے اسے اینٹی نارکوٹکس کے حوالے کیا جاتا ہے۔ نیب کے کردار کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ایک ڈکٹیٹر کے بجائے ادارے کو برقرار رکھنا ہماری غلطی تھی۔ اپوزیشن کے لوگ اس کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، نیب کے متعلق نہیں سوچا تھا یہ ادارہ اس حد تک جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار عوامی نمائندے کے پاس ہونا چاہئے۔ ہم کبھی ایف اے ٹی ایف کبھی کسی فورم میں کھڑے جواب دے رہے ہوتے ہیں۔ ملک کا حکمران این آر او اور کرپشن مافیا کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، قانون کا ادنیٰ معیار رکھنے والی ریاست میں بھی ایسا نہیں ہوتا۔


ای پیپر