”یہ کرپشن نہیں، عبادت تھی“
20 ستمبر 2019 2019-09-20

میں کینسر کے سینکڑوں مریضوں میں گھرا کھڑا تھا، میرے ارد گرد سسکیاں اور آہیں بکھری ہوئی تھیں،وہ چیخ رہے تھے، و چلا رہے تھے، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ سر پر کڑی دھوپ کا سایہ تھا، میں نے چند ایک سے کہا کہ وہ سڑک پر یوں مسلسل کھڑے ہونے کی بجائے سائے میں بیٹھ جائیں کہ دھوپ ان کے لئے قاتل کا کام کر سکتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم ادویات کے بغیر ویسے ہی مر رہے ہیں اور اگر سڑک پر مرجائیں گے تو کیا فرق پڑے گا۔میں ان کے مسئلے کو پہلے سے جانتا ہوں اور اس پر ایک بہت سارے دوسرے لاحاصل پروگراموں کی طرح ایک پروگرام بھی کر چکا ہوں جس کے اختتام پر وزیراعظم جناب عمران خان سے درخواست کی تھی کہ انہوں نے اپنی کینسر کی مریض والدہ محترمہ شوکت خانم کے نام پر کینسر ہسپتال بنایا جس نے انہیں بے مثال شہرت اور عوامی محبت سے نوازا مگر یہ کیا ہوا کہ ان کی حکومت قائم ہونے کے بعدکینسر کے ان پانچ ہزار مریضوں کو ادویات کی فراہمی بند کر دی گئی ہے جو لاہور کے جناح اورمیو ہسپتال کے ساتھ صوبے کے پانچ ہسپتالوں سے برس ہا برس سے مفت ادویات لے رہے تھے ،اب انہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک لاکھ اسی ہزار سے تین لاکھ اسی ہزار روپوں تک کی خطیر رقم کی دوائیں اپنی جیب سے خریدیں، اگر وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔

کینسر کے ہزاروں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کے سی ایم ایل پراجیکٹ کا آغازشہباز شریف کے دور میں ہوا تھا۔ یہ سوئٹزر لینڈ کی کمپنی ’ نوارٹس‘ کے ساتھ ایک معاہدہ تھا جس کے تحت اس کمپنی نے کینسر کے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں رجسٹرڈ مریضوں کوڈبیوں میں بند ادویات فراہم کرنی تھیں جن پر لکھا ہونا تھا، ’ گورنمنٹ پراپرٹی، ناٹ فار سیل‘، اس معاہدے کی دلچسپ شق یہ تھی کہ دوا ساز کمپنی نے اس دوا کی قیمت کے اکیانوے فیصد اخراجات خود برداشت کرنے تھے جبکہ پنجاب حکومت نے صرف نوفیصد قیمت دینی تھی یعنی آپ یہ سمجھ لیں کہ بارہ ماہ میں سے گیارہ ماہ دوا مفت تھی۔ کرپشن ، کرپشن کا شور مچانے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو اس نے اس پراجیکٹ کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے نوارٹس کو ادویات کی قیمت کا نو فیصد ادا کرنے سے بھی انکا رکردیا۔ اب معاہدے کے مطابق نو، دس ماہ تک تو نوارٹس ادویات فراہم کرتی رہی اور اس دوران ایک مرتبہ یہ بھی ہوا کہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے بورڈ آف مینجمنٹ نے اس کی اپنے مریضوں کے لئے قیمت اپنے طور پر ادا کر دی جس کا حکومت نے سخت برا منایا ۔ جب نوفیصد ادائیگی بھی بند ہوئی تو وہ معاہدہ معطل ہو گیا اور کمپنی نے تین ماہ قبل یعنی اس حکومت کا ایک برس مکمل ہونے سے پہلے ادویات کی فراہمی روک دی۔

کینسر کے مریض اور ان کے لواحقین جانتے ہیں کہ کینسر سخت تکلیف دہ بیماری ہے اوراس میں بلڈ کینسر جیسے موذی مرض کے مریض شامل ہیں۔ یہ کینسر جسم میں سخت تکلیف پیدا کرتے ہیں اور اتنا درد ہوتا ہے کہ مریض مر جانے کی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ یہ شہباز شریف کا بطور وزیراعلیٰ اورخواجہ سلمان رفیق کا بطور وزیر صحت بہت بڑا کارنامہ تھا مگر ہم میں سے کسی کو علم ہی نہیں تھا کہ پنجاب حکومت اتنا بڑا جہاد کر رہی ہے کیونکہ اس حکومت نے عمران خان کے ہسپتال کی طرح ہر مریض پر یہ لازم نہیں کر رکھا کہ وہ علاج کرواتے ہوئے تعریفی خطوط بھی اخبارات میں شائع کروائے۔ ویسے مجھے مریضوں سے بات چیت کرتے ہوئے انسانی فطرت کے دلچسپ پہلو کا بھی علم ہوا کہ یہ مریض لاکھوں روپے ماہانہ کی ادویات جس حکومت سے لے رہے تھے ان میں سے بہت سارے اسی حکومت کو گالیاں دینے والوں کے ہاتھ بھی مضبوط کررہے تھے یعنی انہوں نے تحریک انصاف کی مہم بھی چلائی، ووٹ دئیے بھی اور دلوائے بھی۔ یہ ان کا سیاسی حق ضرور تھا مگر اخلاقی بہرحال نہیں تھا، بہرحال، اچھا ہوا کہ جہاں اور بہت ساروں کو پروپیگنڈے اور حقیقت میں فرق کا پتا چلا، وہاں کینسر کے ان مریضوں کو بھی دن میں تارے نظر آ گئے۔ کہا جارہا ہے کہ ان مریضوں کو ادویات کی فراہمی روک کر یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے پاکستان میں صرف ایک ہی ادارہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پروپیگنڈے سے مشہور ہوجانے والے ادارے میں کینسر کے مریضوں سے زیادہ بستر دوسرے مریضوں کے لئے مختص ہیں اور کینسر کے مجموعی مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج میں اس ادارے کا شئیر چند فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔

یہ کالم ہرگز سیاسی نہیں ہونا چاہئے مگر اس سے بڑی بددیانتی کیا ہوگی کہ جو لوگ کام کر رہے ہوں، جو لوگ خدمت کر رہے ہوں ان کے کام کا اعتراف نہ کیا جائے، خدمت کی تعریف نہ کی جائے۔ کینسر کے ان مریضوں کے لئے دن رات محنت کرنے والے شاہد سلطان کہتے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کے پرانے کارکن ہیں، انہوں نے پارٹی کے لئے دن رات کام کیا ہے مگر ان کی بات بھی نہیں سنی جا رہی۔ اب دلچسپ امر یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت اس پراجیکٹ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانا چاہتی ہے تو یہ اس کا حق ہے مگر سوچنے والی بات ہے کہ اس دوا کی اکیانوے فیصد قیمت تو کمپنی ادا کررہی تھی ، حکومت پنجاب کا شیئر تو صرف نو فیصد تھا اور اگر ا س نو فیصد میں بھی کرپشن تھی تو یہ کرپشن کتنی مقدس اور مسیحا تھی جس نے پانچ ہزار خاندانوں کو ان کے پیاروں کی زندگی کی امید دے رکھی تھی۔ ویسے بھی میں کرپشن اس معاملے کو مانتا ہوں جس کو کسی غیر جانبدار اور آزاد عدالت میں ثابت کیا گیا ہو۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ سابق ادوار کے حکومتی منصوبوں میں کرپشن بارے جو شور مچایا گیا وہ غیر حقیقی تھا اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ عدالتوں میں بھی جب کہیں کوئی کرپشن ، کک بیک اور کمیشن ثابت نہیں ہوسکی تو سابق حکمران خاندان کو ان کے کاروباری معاملات پر ہی پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔

میرے سامنے مبینہ ایمانداری اور احتساب ہے جس نے ان بزرگوں ، عورتوں اورنوجوانوں کی زندگی کے چراغ کو پھونکیں مارنا شروع کر دی ہیںجو سابق دور کی ادویات کی فراہمی کی کرپشن میں پورے زور اور شور سے جل رہا تھا، امید ، روشنی اورخوشی دے رہا تھا اور ان میں سے بہت سارے ایسے ہیں جو کینسر کے مریض ہونے کے باوجود اپنے والدین یا بچوں کا محنت مزدوری کر کے پیٹ پال رہے تھے مگر اب ان کی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ بہت سارے امکانات، خوشیوں اورامیدوں کے دئیے بھی بجھنے لگے ہیں کہ ادویات کا نہ ملنا مرض کو دوبارہ پیدا کررہا ہے اور اب تک چار مریض مر چکے ہیں۔ میں موجودہ حکومت کی طاقت اور استعداد بارے جانتا ہوں کہ یہ اپنے پیارے صنعتکاروں اور فنانسروں کو تین، تین سو ارب روپے ایک ہی نوٹی فی کیشن کے ذریعے معاف کرنے کی ہمت رکھتی ہے تو کیا اس کا ایک، آدھ فیصدبھی ان مجبوراوربے کس لوگوں کو نہیں دیا جا سکتا۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ ایماندار ہیں، آپ احتساب کر رہے ہیں مگر میرے ہم وطن کینسر کے مریضوں کو درد اور تکلیف سے بھری کرب ناک موت دینے والی ایماندای اور احتساب کے مقابلے میں،میں اسی کرپشن کو سلام کروں گا جو غریبوں کے درد کی درماں ہوگی، ان کے رگوں میں بہتے لہو کی ضمانت ہوگی کہ میری نظر میں یہی عبادت ہے، مسیحائی ہے، کاش، میرا رب آپ کو بھی یہ کرنے کی توفیق دے۔


ای پیپر