20 ستمبر 2018 2018-09-20

سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت سے پہلا ریلیف مل گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے احتساب عدالت کی سزائیں معطل ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کوذاتی مچلکوں پر قید سے رہا ئی مل گئی ہے ۔ یہ حسن اتفاق ہی ہوگا کہ بدھ کے روز وزیراعظم عمران خان سعودی فرمان روا شاہ سلیمان سے ملاقات کی اسی روز سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا معطل ہو گئی۔ یہ عدالتی فیصلہ ہے ، اس قسم کے فیصلے کے اشارے عدلیہ کے ریمارکس سے مل رہے تھے۔

سزاؤں کی معطلی کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا جب ملک میں بعض اہم سرگرمیاں ہو رہی تھی۔جب تینوں بیگم کلثوم نواز میں جنازے میں شرکت کے بعد جیل واپس آئے تھے۔ امریکی سیکریٹری خارجہ پومپیو نے گزشتہ ہفتے امریکی آرمی چیف کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا۔ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ چین کا ورہ کیا۔ ان دوروں کی کچھ تفصیلات میڈیا میں آچکی ہیں۔

اس عدالتی فیصلے کی بنیاد کیا بنیں؟ کیا قانونی معاملات ہیں، کیا سیاسی معاملات ہیں؟یہ دیکھنا ضروری ہے ۔ ان سوالات کے جوابات ہی ظاہر کریں گے کہ مستقبل قریب خواہ بعید میں ملک کے اندر کیا ہونے والا ہے ۔اس فیصلے سے نواز شریف کو ضمانت پر رہائی مل گئی، لیکن ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کا فیصلہ بھی برقرار ہے ۔ وہ فیصلہ منسوخ نہیں ہوا ۔فی الوقت معطل کیا گیا ہے ۔ ضمانت ہوئی مگر اپیل ابھی باقی ہے ۔ احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف زیر سماعت مزید دو ریفرنسز کا فیصلہ آنا باقی ہے ، یہ دومقدمات نواز شریف کے خلاف ہیں، ان کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف نہیں ۔ مریم نواز کو قید کے ساتھ نااہلی کی سزا بھی معطل ہوگئی ہے ۔ فی الحال مریم نواز پارلیمانی سیاست کر سکتی۔ تاہم اپیلوں کی سماعت کی وجہ سے ایک تلوار مریم پر بھی لٹکی ہوئی ہے ۔اگر مقدمات کی قانونی باریک بینیوں کو دیکھا جائے، ماہرین کے مطابق پاناما کیس سے متعلق نواز شریف کے خلاف جو بھی فیصلے آئے ہیں ان کے اندر بڑے بڑے قانونی جھول موجود ہیں ۔ لہذا اپیل میں نواز شریف خاندان کو فائدہ ملنا کوئی انہونی بات نہیں ۔

مسلم لیگ نوازسزاؤں کا مقصد انتخابی میدان سے باہر رکھنا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ عدلیہ کی آزادی کا مظہر ہے ۔ وہ فیصلے کے کو انصاف کی فتح قرار دے رہی ہے ۔ اور اس کو عدلیہ سے مزیدانصاف کی امید ہے ۔پارٹی کے نزدیک شاید یہ بھی سمجھا جارہا ہے کہ یہ فیصلہ عدلیہ میں نئی سوچ کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کافیصلہ کے روز ہی چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔نیب ہر صورت میں اپنے موقف کا دفاع کرنا چاہتی ہے ۔کیونکہ اس سے قبل احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ کو اپیل سننی بھی چاہیے کہ نہیں ؟ نیب نے اس کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔لیکن نہ سپریم کورٹ نیب کی یہ درخواست منظور نہیں کی۔ شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف اپیل میں ریلیف مل بھی جاتا ہے ، مگردیگر دو ریفرنسز ابھی بھی باقی ہیں جن سے کلیئر ہونا باقی رہے گا ۔ اس ضمن میں بعض سوالات اہم ہیں ان دو ریفرنسز میں احتساب

عدالت فیصلہ کیا دیتی ہے ؟ ہائی کورٹ اپیل کی صورت میں کیا فیصلہ دیتی ہے ؟ کیا ان دو ریفرنسز کے فیصلے کے خلاف اپیل کون سا بنچ سماعت کرتا؟

اس فیصلے کے یقیناًسیاسی اثرات ہوں گے۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ملک کی سابق حکمران جماعت کے اہم ستون ہیں۔ جنہیں انتخابات سے چند ہفتے پہلے قید کی سزا سنا نے کی وجہ سے یہ جماعت متحرک قیادت سے محروم ہو گئی تھی۔اب جب سزا معطل ہوئی ہے تو وہ اپنا سیاسی کردار براہ راست خواہ بلواسطہ طور پر ادا کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ مریم نواز کی نااہلی معطل ہو گئی ہے ۔ جبکہ نواز شریف کی نااہلی برقرار ہے ۔ ان دونوں کی جیل سے باہر موجودگی نہ صرف کارکنوں کو حوصلہ دے گی بلکہ بعض فیصلے جو نواز شریف کے جیل میں ہونے کی وجہ سے نہیں ہو پارہے تھے وہ کرنے میں مدد ملے گی۔ پہلا اثر آنے والے ضمنی انتخاب پر پڑے گا۔ ضمنی انتخابات کی مہم میں مریم نواز باقاعدہ حصہ لے سکتی ہیں ۔

ہارڈ لائنر مریم نواز کی رہائی سے پارٹی کی پالیسیوں رخ متعین ہوگا۔ماضی قریب کے واقعات اور حکمت عملی کے پیش نظر یہ ضرور ی ہوگیاہے کہ انہیں شہباز شریف کے ساتھ مل کر چلنا پڑے گا۔ پارٹی کا بیانیہ اسمبلیوں کے اندر خواہ باہر کیا بنتا ہے ؟ وہ بیانیہ جونواز شریف اور مریم نواز کو سزا اور ان کے جیل جانے سے دب گیا تھا وہ دوبارہ سامنے آئے گا۔

پنجاب مریم نواز کو بیٹی کی حیثیت سے کے رہا ، لگ بھگ اسی طرح سے جیسے سندھ محترمہ بینظیر کو لے رہا تھا۔ مریم نواز کی رہائی کو صرف پارٹی لیڈر کی رہائی کے طور پر ہی نہیں بلکہ بیٹی جس نے دوران قید اپنی والدہ کو کھو دیا۔ جو والد کے ساتھ کھڑی رہی۔ پنجاب کا سیاسی لگاؤ کے ساتھ ذاتی اور جذباتی لگاؤ بھی مریم کے ساتھ رہے گا۔

یہ درست ہے کہ فوری طور پر کوئی طوفان بپا نہیں ہو رہا۔ پاناما کیس نواز لیگ کو حکومت سے الگ کر چکا۔ اس کے بڑے حریف عمران خان حکومت میں آ چکے۔ ملک بھر میں ازسرنو صف بندی ہو چکی۔ تاہم دو بڑی سیاسی جماعتیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی مرکزی سطح پر اپنے لئے جگہ تلاش کر رہی ہیں۔ دونوں جماعتیں عمران خان کو وقت دینا چاہتی ہیں۔وہ اس بات کا انتظار کریں گی کہ عمران خان کوئی بڑی غلطی کرے تو وہ اپنی پوزیشن مضبوط کر لیں۔

ملکی صورتحال کچھ اس طرح سے ہے کہ فی الحال نیا نیا معاملہ ہے ، عمران خان کی اقتدار پرگرفت مضبوط ہے اور انہیں دیگر اداروں کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ زیادہ تر کام اپوزیشن کے ذمہ لگا دیا گیا ہے ۔ جولائی کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق پار لیما نی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے ۔ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات عمران خان پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کرانے کے لئے تیار نہ تھے۔ بہرحال ، دلچسپ امر یہ ہے کہ دھاندلی کے ثبوت فراہم کرنے کا وزن اپوزیشن پر ڈال دیا گیاہے۔ انتخابات میں دھاندلی ایک نکاتی ایسا ایجنڈا تھا جس پر اپوزیشن کو کٹھا کیا جاسکتا تھا۔ اپوزیشن پہلے ہی دو گرپوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ وہ متفقہ طور پر کوئی ٹھوس ثبوت شاید ہی پیش کر سکے۔

بقول ایک تجزیہ نگاار کے اہلیہ کے انتقال پر تعزیت کے لئے جو لوگ بھی نواز شریف سے ملے ان کے مطابق وہ رنجیدہ لیکن شکستہ نہ تھے۔کلثوم نواز کا جنازہ اور بڑے پیمانے پر سیاسی قیادت کی اس میں شرکت نے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کا ماحول ضرور بنایا ہے ۔ لیکن اس میں بھی شہباز شریف سے زیادہ نواز شریف اور مریم نواز کا رول ہوگا۔ انتخابات کے بعد کی صورتحال میں شہباز شریف کے لئے سب سے بڑا ٹاسک اپوزیشن کو متحد رکھنے کا تھا۔لیکن وزیراعظم، قومی اسمبلی کے اسپیکر، اور صدارتی انتخاب میں وہ ایسا نہ کر سکے۔

دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف پارٹی کی حکمت عملی سے متعلق کیا فیصلے کرتے ہیں۔جیل انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے ۔ بڑی بات یہ کہ انسان کو اکیلا رہنے کا موقع ملتا ہے ۔ وہ اپنی زندگی پر ایک نظر ڈالتا ہے ۔ سیاسی خواہ ذاتی فیصلوں کیا صحیح ہوا ؟ کیا غلط ہوا ؟ برے وقت میں کون ساتھ کھڑا رہا؟ کون ساتھ چھوڑ گیا؟ اسی طرح کا تجربہ نواز شریف اور مریم نواز کی عدم موجودگی کی وجہ سے پارٹی کے رہنماؤں اور کار کنوں کو بھی ہوا ۔ اہلیہ کے انتقال کے صدمے سے نکلنے میں بھی ایک وقت درکارا ہوتا ہے ۔ لہٰذا فوری طور نواز شریف عوامی جلسوں اور ریلیوں سے شاید ہی خطاب کرپائیں گے۔ شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ نواز کی مخالفت اسمبلیوں تک محدود ہے اور منی بجٹ پر رد عمل بھی ایوان تک ہی محدود رہا۔آئندہ چند ہفتوں میں حکومت پنجاب کے بارے میں ایک بہت بڑا فیصلہ کرنے جارہی ہے وہ ہے بلدیاتی نظام میں تبدیلی ۔ مقامی حکومتوں کے نظام میں تبدیلی سیاست کا نیا سیٹ اپ اور نئے پاوربروکرز پیدا کرے گی۔ لہٰذا مسلم لیگ نواز کے لئے اپنا سیاسی طاقت کا مرکز بچانے کے لئے ایک بڑے چیلینج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے میں نواز شریف اور مریم نواز کی موجودگی اہم ہوگی۔


ای پیپر