وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب و متحدہ امارات
20 ستمبر 2018 2018-09-20

18ستمبر2018کو وزیراعظم عمران خان اپنے پہلے بیرونی دورے کے لیے مدینہ منورہ پہنچے۔ وزیراعظم کے ہمراہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی،وزیرخزانہ اسد عمر،وزیراطلاعات فواد چوہدری اور مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد تھے۔مغرب سے پہلے مدینہ منورہ ائیرپورٹ پر گورنر مدینہ منورہ نے عمران خان کا وفد کے ہمراہ استقبال کیا۔ مغرب کی نماز عمران خان نے مسجدنبو یؐ میں واقع ریاض الجنۃ میں امام کے پیچھے وفد کے ہمراہ اداکی۔بعدازاں روضہ رسولؐ پر حاضری دے کر وزیراعظم عمران خان جدہ کے لیے روانہ ہوگئے۔جدہ ائیرپورٹ پر جدہ کے ڈپٹی گورنر نے وفد کے ہمراہ عمران خان کا استقبال کیا۔رات کو وزیراعظم عمران خان عمرہ کی ادائیگی کے لیے جدہ سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے رات گئے ۔عمرہ کی ادائیگی کے بعد بیت اللہ شریف کا دروازہ خصوصی طورپروزیراعظم عمران خان کے لیے کھولا گیا۔ عمران خان نے وفد کے ہمرا ہ بیت اللہ شریف میں نوافل اداکیے۔عمرہ کی ادائیگی کے بعد عمران خان واپس جدہ چلے گئے۔

اگلے دن 19 ستمبر کو وزیراعظم عمران خان نے جدہ میں مختصر پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کیا۔خطاب کے دوران سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کا یقین بھی دلایا۔بعدازاں شاہ سلمان سے ملاقات کے لیے جدہ میں واقع سعودی شاہی محل "السلام" پہنچے تو شاہ سلمان نے وفد کے ہمراہ خود وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا اور پھر وزیراعظم عمران خان کوگارڈآف آنر بھی دیا گیا اور دونوں ملکوں کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔شاہ سلمان نے سعودی وزراء ،آرمی، انٹیلی جنس آفیسرزسمیت اعلی سعودی حکومتی عہدیداروں کی موجودگی میں وزیراعظم عمران خان سے خصوصی ملاقات کی اور تمام سعودی حکومتی عہدیداروں سے تعارف کرایا۔ملاقات میں شاہ سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی اہمیت اور مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے گفتگو کی۔پاکستان کی ہرممکن مدد کا بھی یقین دلایا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی عمران خان سے وفد کے ہمراہ علیحدہ خصوصی ملاقات کی اور دوطرفہ امور پر گفتگو کی۔ سعودی بادشاہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو وزیراعظم عمران خان نے دورہ پاکستان کی بھی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی۔بعدازاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی،وزیرخزانہ اسد عمر،وزیراطلاعات فوادچوہدری نے اپنے سعودی ہم منصبوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور باہمی امور پر گفتگو کی۔ سعودی عرب دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے سعودی سرکاری ٹی وی" الاخباریہ"اور سعودی پرائیوٹ ٹی وی چینل "العربیہ "کو خصوصی انٹرویو بھی دیا۔انٹرویو میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات، سعودی عرب کی پاکستان کی ہرمشکل موقع پر مدد،پاکستان کا سعودی عرب کا بھرپور تعاون،مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے مشترکہ کوششوں سمیت دونوں ملکوں کی عوام کو قریب لانے سمیت دیگر امور پر عمران خان نے کھل کر گفتگو کی۔19ستمبر کو غروب آفتاب سے پہلے وزیراعظم عمران خان متحدہ عرب امارات چلے گئے۔ متحدہ عرب امارات کے نائب بادشاہ محمد بن زید النہیان نے دبئی ائیرپورٹ پرعمران خان کا استقبال کیا۔بعدازاں دبئی کے شاہی محل میں عمران خان سے باہمی تعلقات اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی اور دونوں ملکوں کا باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے سمیت مالی،تجارتی اور سیاحتی امور پربھی تبادلہ خیال ہوا۔

وزیراعظم عمران خان کا پہلا بیرونی دورہ مجموعی طورپر کامیاب رہا۔ سعودی عرب میں وزیراعظم عمران خان کا جو استقبال کیا گیا اس سے پہلے اس طرح کا استقبال بہت کم دیکھنے کو ملا۔جدہ کی شاہراہوں پر پہلی بار پاکستانی پرچم سعودی پرچم کے ساتھ لہرائے گئے۔پاکستان اور سعودی عرب دوستی کے حوالے سے بینرزآویزاں کیے گئے۔ سعودی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے عمران خان کے اس دورے کو پہلی مرتبہ بھرپور کوریج دی۔شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سمیت سعودی اعلی حکام نے بھی وزیراعظم عمران خان کو خصوصی اہمیت دی۔اگر دیکھا جائے تو وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے دورے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا انتخاب کرکے بہترین فیصلہ کیا۔اس سے عالم اسلام میں جہاں پاکستان کی مرکزی حیثیت کو تقویت ملی وہی پاکستان کے بہترین حلیف خلیجی ممالک سے باہمی تعلقات مضبوط ہوئے۔پاکستان کے لیے یہ ضروری بھی ہے کہ پاکستانی حدود سے باہر نکل پر پاکستان عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔اس کی بڑی وجہ ان ممالک کے استحکام کے ساتھ پاکستان کا استحکام جڑا ہواہے۔یہ سوچ قطعاً غلط ہے کہ پاکستان کواپنی فکر کرناچاہیے اور خلیجی ممالک کے مسائل سے دور رہنا چاہیے ۔خلیجی ممالک پاکستان کے نہ صرف ہمسائے ہیں بلکہ خلیجی ممالک پاکستان کی سلامتی کے لیے بہترین دفاعی مراکز ہیں۔یمن کی خانہ جنگی ہو یا پھر شام اور عراق کی خانہ جنگی پاکستان نے ماضی کی طرح ان جنگوں کے حل کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کیا جو یقیناً بڑی غلطی ہے۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ عراق اور شام کی تباہی سے مشرق وسطیٰ کے پاکستان کے تعلقات میں بڑی خلیج حائل ہوگئی۔پاکستان کا پڑوسی ملک ایران جو دفاعی،سیاسی اور معاشی لحاظ سے پاکستان سے بہت زیادہ کمزورہے وہ اگر مشرق وسطیٰ میں براہ راست داخل ہوسکتاہے تو پاکستان پھر کیوں اپنا مثبت کردار ادانہیں کر سکتا۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب دورے کے دروان سعودی حکام کو یمن کی خانہ جنگی ختم کروانے میں ثالثی اور مکمل تعاون کا یقین دلایا جو بہت اچھی بات ہے،اب عملاً اس پر پاکستان کو آگے بڑھنا چاہیے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے اس دورے سے ایران نوا ز کچھ حلقوں میں چہ مگوئیاں کی جارہی ہیں کہ عمران خان کے اس دورے سے پاکستان کے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ تعلقات پر زد پڑی گی حالاں کہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔پاکستان چاہتا ہے کہ خطے میں امن وامان قائم ہو۔ افغانستان، ایران اور انڈیا سمیت پاکستان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر راضی ہے۔پھر پاکستان ایران پر پہلے بھی واضح کرچکاہے کہ وہ ایران کے خلاف پاکستان کی سرزمین یا پاکستان کی صلاحیتیں استعمال نہیں ہونے دے گا۔یہی وجہ ہے کہ اب ایران بھی پاکستان کی بات کافی حد تک سمجھ چکا ہے۔پہلی بار ایسا دیکھنے میں آیا کہ ایرانی میڈیا کی جانب سے عمران خان کے اس دورے پر وہ تنقید نہیں کی جو اس سے پہلے کی جاتی تھی۔

وزیراعظم عمران خان کا حکومت سنبھالنے کے بعد پہلے ہی مہینے خطے میں امن واستحکام کے لیے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو لکھا گیا خط،امریکی ،ایرانی اور تر ک وزیرخارجہ کی پاکستان آمد،افغانستان میں شاہ محمود کا کامیاب دورہ ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں وزیراعظم عمران خان کا پہلا کامیاب دورہ اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ عمران خان حکومت خارجہ امور پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔خارجہ امور میں عمران خان کی دلچسپی اور شاہ محمود کا ذمہ دارانہ کردار اگر یوں ہی جاری رہا تو پاکستان کو اس کے بہتر ثمرات مل سکتے ہیں۔سب سے بڑا فائد ہ تو پاکستان کو یہ ہوگا کہ دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر ہوگا جو سیاحت اور سرمایہ کاری کے لیے بہت ضروری ہے۔دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان کے عالم اسلام اور عالمی دنیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی گی

جس سے پاکستا ن کو سیاسی اور اقتصادی طورپر فوائد ملیں گے۔تیسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا پاکستان پر دہشت گردی کے من گھڑت الزاما ت کا خاتمہ ہوگا اور پاکستان میں امن و امان مستحکم ہوگا۔تاہم بیرونی دنیا سے تعلقات میں شخصی مفادات کی بجائے قومی اور ملکی مفادات کو سرفہرست رکھنا ہوگا تبھی پاکستان کو مثبت فوائد مل سکیں گے۔


ای پیپر