اسلام کس کربلا کے بعد زندہ ہوگا؟
20 ستمبر 2018 2018-09-20

ہر سال یہ شعر ہم سب بار بار دہراتے ہیں :

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

لیکن محترم قارئین کس کربلا کے بعد مسلمان سر اٹھا کے جینا شروع کریں گے ۔کون سی قربانی دینے کے بعد امتِ محمدیہ کی بیٹیاں اپنی عزتیں محفوظ رکھ سکیں گی ۔ کس قربانی کے بعد ہمیں باکردار حکمران نصیب ہوں گے ۔وقت کب ہم سے ایسی کوئی قربانی مانگے گاکہ جس کے بعد ہم حضرت امام حسینؓ سے محبت کا حق ادا کرسکیں گے ۔ابھی چند پہلے حضرت ابراھیم علیہ سلام کی قربانی کی بات چل رہی تھی اور آج میرے قلم کو اس قربانی کو بیان کرنا پڑھ رہا ہے جس کی مثال تاریخ عالم میں نہ پہلے تھی نہ ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسی قربانی کوئی دے سکے گا ۔یہ قربانی دینے والی ہستی دوعالم کے سردارؐ کی سب سے پیاری بیٹی اور ہر مشکل میں ساتھ نبھانے والے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ کے جگر گوشے کی شکل میں تھی۔حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلا دی۔مگر یقیناًوہ قربانی ا للہ پاک نے اپنے سب سے پیارے نبیؐ کی عزیز ازجا ن بیٹی حضرت فاطمہؓ اور حضرت حسینؓ ابن علیؓ کی آنکھوں کی ٹھنڈک حضرت امام حسینؓ کی شکل میں قبول کرنا طے کر چھوڑی تھی ۔رسول پاکؐ نے حضرت حسینؓ کے پیداہوتے ہی اپنی پیاری بیٹی کو کربلا کے میدان میں حضرت امام حسینؓ کی شہادت سے باخبر کر دیا تھا۔یوں دیکھا جائے تو یہ آزمائش رسول پاکؐ اور حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی بھی تھی۔ان سب پاک ہستیوں نے حضرت امام حسینؓ کو اس آزمائش سے نپٹنے کے لیے ان کی فکری تربیت کرتے وقت ہر طرح سے تیار کیا ۔ایک بار آقا کریمؐ نے فرمایا کہ جتنی آزمائشیں مجھ پر آئیں کسی اور نبی پر نہیں آئیں۔بس ایک شہادت کا منصب رہ گیا تھاوہ بھی اللہ پاک نے آپؓ کے پیارے نواسے کی شکل میں آپؐ سے طلب کر لیا۔

امام حسینؓ 249جس کا بچپن شہر علم کے کندھوں پر سوار ہو کر مہر نبوت سے کھیلتے گزرا۔حسینؓ وہ جو علم کے دروازے کا دربان رہا ۔حسین وہ جس کے لیے اللہ کے پیارے اور محبوب نبیؐ اپنے سجدے طویل کر دیتے تھے۔جس کے شب وروز کی تربیت کائنات کی دو عظیم ہستیوں حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ نے کی ہو ۔اس حسینؓ کے علم دانش کی انتہا کیا ہو گی۔اسی علم کی وجہ سے آپؓ بہت دور تک نگاہ رکھتے تھے اور اسی علم کی وجہ سے آپؓ نے یزید کی بیت سے انکار کیا تھا۔اگر چہ آپؓ اپنے سفر کی حقیقت سے آگاہ تھے۔انہیں پتہ تھا کہ یہ سفر وسیلہ ظفر ہے ۔کوفہ میں ان کا بلاوہ کسی اور وجہ سے ہے ۔آپ یزید سے جنگ کے ارادے سے یا اقتدار کی خواہش کے لیے کوفہ کی طرف محو سفر نہیں ہوئے تھے۔بلکہ آپؓ ملعون یزید کو احتمام حجت کے لیے نصیحت دینے کے لیے اور کوفہ کے لوگوں کی دلجوئی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔اس لیے جب آپؓ کربلا کے مقام پر پہنچے تو اپنے رفقاء کو کہا کہ یہیں خیمے لگا دو ۔آپؓ کو اپنی منزل نظر آرہی تھی۔انجام کی پوری خبر کے باوجود آپ اپنے ساتھ اپنے گھر والوں چھوٹے معصوم بچوں کے ساتھ پورے حوصلے اور جوش کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔آج اس امتحان کا وقت آن

پہنچا تھا جس کے لیے انہیں بچپن سے تیار کیا گیا تھا۔آپؓ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھے جو آپؓ کے ایمان و استقامت کو آزما نے کے لیے آپؓ کی منتظر تھیں۔اللہ پاک نے اپنے تمام پیغمبروں کو مختلف آزمائشوں سے آزمایا ۔کسی کو بھوک249کسی کو جان کا خوف 249کسی کو مال کا نقصان 249ناموس کی حفاطت اولاد کی جدائی اور کسی کو پیاس کی شدت سے آزمایا۔اللہ پاک نے اپنے پاک پیغمبروں پر یہ آزمائشیں ایک ایک کر کے نازل کیں۔مگر اب وقت اپنے سب سے پیارے نبیؐ کے گھر سے قربانی لینے کا تھا۔آج اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیبؐ کے نواسے سے ایک ساتھ ہی تمام قربانیاں طلب کر لیں تھیں۔جان کا خطرہ بھی آپؓ کے سامنے تھا ۔ناموس بھی نشانے پر تھی۔بھوک و پیاس سے نڈھال اولاد بھی آپؓ کے ساتھ تھی۔دنیا میں بہادر سے بہادر شخص اپنے ساتھ ہر طرح کا سلوک برداشت کر لیتا ہے۔اپنی جان اپنے مقصد کے لیے ہر وقت قربا ن کرنے کو تیار بھی بہت سے لوگ ہوتے ہیں۔مگر کوئی بہادر سے بہادر شخص اپنی اولاد کو اپنے سامنے بھوک و پیاس گرمی کی شدت سے تڑپتے دیکھ کر اپنے حوصلے برقرار نہیں رکھ سکتا۔مگر امام حسینؓ کے سامنے یہ سب آزمائشیں ایک ساتھ کھڑی تھیں۔یہ امام حسینؓ ہی تھے جنہوں نے نہ صرف اپنی ذات پر دشمن کا ہر جبر برداشت کیا بلکہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے معصوم بچوں کو بھوک اور پیاس سے تڑپتے بھی دیکھا ۔اپنے ساتھیوں کو زخموں سے نڈھال بھی دیکھا۔ بیمار ساتھی بھی آپؓ کے سامنے تھے۔اپنی بیٹیوں 249 بہنوں اور اپنی دوسری رشتہ دار خواتین کے چہروں سے ان کے اندر کا کرب بھی محسوس کیا۔بڑی سے بڑی تکلیف بھی آپؓ کے ارادے کو متزلزل نہ کر سکی۔آپؓ کو صرف اپنے رب کی رضا کی فکر تھی۔اسی مقصد کے لیے آ پ نے ہر مصیبت کا ہر تکلیف کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔حق و باطل کی یہ جنگ جو خیر کی بالا دستی اور شر کو ختم کرنے کے لیے برپا ہوئی ۔اس کا مقصد دنیا کو یہ سبق دینا مقصود تھا کہ اصول کے سامنے حق کے سامنے کوئی رشتہ249کوئی تعلق249 کوئی مشکل رکاوٹ نہیں بن سکتی۔واقعہ کربلا ایک نظریہ حیات ہے ایک مکتبہ فکر ہے جس کے اندر انسانیت کی پوری تاریخ پوشیدہ ہے۔آج کے دور میں ہمیں واقعہ کربلا سے سبق لیتے ہوئے اپنی زندگیوں میں ایمان اور دین اسلام کی سر بلندی کی خاطر جابر سلطان اور ظالم طاقتوں کے سامنے کلمہ حق کہنے کی ہمت اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسلمان آج پوری دنیا میں سخت مصیبتوں اور مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔لگتا ہے آج بھی امت مظلوم کربلا میں ہی ہے ۔ جابر اور ظالم طاقتیں آج بھی مسلمانوں پر ظلم کیے جارہی ہیں۔ ہر طرف خون مسلم بکھرا پڑا ہے ۔آج ہماری نہ جا ن محفوظ ہے نہ مال 249 ہماری اولاد بھی دشمن کے نشانے پر ہے ۔ہماری زندگیاں آج خوف کے سائے میں ہیں۔ہم ہر طرف سے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ایک طرف بھارت میں مسلمانوں کو ان کے مذہب کی بنا پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مسلمانوں کے لیے ان کی مذہبی رسومات کی انجام دہی مشکل سے مشکل ہوتی جارہی ہے ۔بھارت میں مسلمانوں کو صرف اس شک کی بنا پر بدترین تشدد کا نشانہ بنا یا جارہا ہے کہ انہوں نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ صرف شک کی بنا پر اتنا تشدد کہ ہر روز کوئی مسلمان بے دردی سے شہید کردیا جاتا ہے۔ابھی چند روزپہلے سفاکی کی انتہا ہو گئی جب بھارتی فوج نے ایک کشمیری نوجوان کوشہید کرنے کے بعد گاڑی کے پیچھے باندھ کے سڑکوں کا چکر لگایا ۔کہاں مر گئے انسانیت کا سبق پڑھانے والے خود کو مہذب کہلانے والے لوگ۔کہاں گئیں وہ تنظیمیں جنہیں مسلم خواتین کے سر پہ دوپٹہ اوڑھنا ظلم لگتا ہے ۔

نام نہاد مذہب کہلانے والی دنیا جو آج جانوروں کے حقوق کا تو دفاع چاہتی ہے ۔مگر کسی کو بھی مسلمانوں پر ہونے والہ یہ ظلم نظر نہیں آرہا ہے۔۔اس مہذب دنیا کو بھارت کی ہندو حکومت کی سفاکی کیوں نظر نہیں آرہی ہے۔غیر مسلم دنیا تو ایک طرف ہماری مسلم دنیا سے بھی کوئی واضح اور دوٹوک پیغام بھارتی حکمرانوں تک نہیں پہنچ رہا ہے ۔ کشمیر میں مسلمانوں کے بچے شہید ہورہے ہیں۔جوان بچیوں کی عزتیں بھی دشمن کے نشانے پر ہیں۔فلسطین میں پچھلی کئی دہائیوں سے یزیدی طاقتیں مسلمانوں پر ظلم و ستم کیے چلے جارہی ہیں۔شام اور یمن میں آج بھی مسلم خون بہایا جا رہا ہے ۔برما کی حکومت بڑی درندہ دلی سے مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہے ۔مگر امت مسلمہ کی بے حسی کی وجہ سے اغیار مسلمانوں پہ ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔

آج امام حسینؓ کی ذات پاک کو عملی شکل میں خر اج پیش کرنے کے لیے ان کے افکار کو مد نظر رکھا جانا چاہیے۔پوری دنیا میں مسلمان آج سخت مشکل میں ہیں۔مگر دنیا میں کہیں بھی آج مسلمانوں میں یزیدی طاقتوں کے خلاف کلمہ حق کہنے کی ہمت نظر نہیں آرہی ہے ۔حسینؓ نے اپنے بچے قربان کر دئیے مگر آج بھی حسینؓ زندہ ہے ان کے ساتھیوں کی قربانیوں کی داستانیں آج بھی زندہ ہیں۔حسینؓ کا فلسفہ عشق بھی زندہ ہے۔وہ اپنا سب کچھ قربان کر کے اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہو گئے۔دنیا کے لیے ایک بہادری اور استقامت کا ایک لازوال سبق دے گئے۔امام حسینؓ امت کا کل بچانے کے لیے اپنا آج قربان کر گئے تھے مگرہم اپنا آج بچانے کی کوشش میں مسلسل مار کھار رہے ہیں۔ہمیں حضرت امام حسینؓ کی قربانی کا واقعہ تو یاد ہے ۔مگر ہماری زندگیوں میں عملی طور پر اس قربانی کا کوئی نمونہ آج کے دور میں نظر نہیں آرہا ہے۔صرف دس دنوں کے لیے ان کی یاد میں جلسے جلوس اور محفلیں سجائی جاتی ہیں۔اگر مسلمانوں نے دنیا میں عزت سے جینا ہے تو انہیں امام حسینؓ کے دئیے ہوئے بہادری اور جانثاری کے اسباق کو اپنی زندگیوں میں شامل رکھنا ہے۔

ہم کہتے ہیں اور ہر سال کہتے ہیں کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد 249مگر مجھے کوئی یہ بتا دے آج کس کربلا کے بعد اسلام زندہ ہوگا۔ کس ظلم پہ امت خواب غفلت سے جاگے گی ۔ابھی آج سوشل میڈیا پہ ایک خبر دیکھی جس میں کچھ بھارتی لوگ مسجد میں سور چھوڑ گئے۔مسلمان آج بدترین دور سے گزر رہے ہیں ۔ اس امت میں حضرت حسینؓ کے چاہنے والے تو لاکھوں کروڑں کی تعداد میں موجود ہیں ۔لیکن آج کوئی دین حق کے لیے وقت کے یزیدوں کو للکارنے کی ہمت نہیں کررہا ہے ۔اگر مسلمان آج بھی حضرت امام حسینؓ کی پیروی کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں پہ ظلم نہیں کر سکے گی ۔


ای پیپر