شہادت عظمیٰ
20 ستمبر 2018 2018-09-20

آج دس محرم الحرام ہے۔ آج ملت اسلامیہ دنیا بھر میں کربلا میں حضرت امام حسینؓ کی اسلام کی خاطر دی گئی بے مثال اور لازوال قربانی کی یاد منا رہی ہے۔ یہ نواسہ رسولؐ، جنت میں نوجوانوں کے سردار اور جگر گوشۂ بتول کے اپنے نانا کے دین کے اساسی اصولوں اور بنیادی تعلیمات کے احیاء کے لیے ریگزارِ نینوا میں جان دینے کا دن ہے۔ نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ نے تقریباً چودہ سو سال قبل اس وقت کے حکمران یزید کی موروثی اور خاندانی حاکمیت کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور مشکل راستے کا انتخاب کیا۔ تمام مؤرخین اس پر متفق ہیں کہ امیر معاویہ نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے یزید کی بیعت کا اہتمام کیا۔ حضرت معاویہؒ کے انتقال کے بعد یزید نے اپنے عمال اور گورنروں کے ذریعے بیعت کے لئے لوگوں کو بہ نوک شمشیر راضی کیا اور اپنے قرب و جوار کے تمام علاقوں میں لوگوں کو بیعت کے لئے

رضامند کر لیا۔ چنانچہ اکثرعلاقوں کے تقریباً سبھی لوگوں جبر کے ماحول میں یزید کی بیعت کر لی۔ صرف چند افراد نے بیعت سے صاف انکار کر دیا۔ ان میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت حسین بن علیؓ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ شامل تھے۔ جب یزید اور اس کے عمال کی طرف سے بیعت طلب کرنے میں سختی ہوئی تو حضرت حسینؓ مکہ مکرمہ آ گئے۔ مکہ میں قیام کے دوران اہل کوفہ نے آپ کو خطوط لکھے اور آپ سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے آپؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دی تاکہ وہ ان کی بیعت کرسکیں۔ انہوں نے تحریری طور پر حلفاً آپ کو یقین دلایا کہ جب آپ تشریف لائیں گے تو ہزاروں کی تعداد میں محبان آپ کے دستِ حق پرست پر بیعت علی الموت کریں گے۔ خطوط کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ بعض روایات کے مطابق کوفہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے 80 ہزار خطوط موصول ہوئے۔

اتنی گڑی تعداد میں جب خطوط موصول ہوگئے تو ذی الحج کے پہلے عشرے کے آخری ایام میں حج اکبر کو موقوف کرکے آپ احیائے نظام اسلام اور کلم�ۂ حق کی سربلندی کے لیےؓ مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف عازم سفر ہوئے۔ مدینہ پہنچے اور کوفہ کی طرف روانگی سے قبل اپنے چچا زاد مسلم بن عقیل کو وہاں بھیجا کہ صورت حالات کا جائزہ لیں۔ حضرت امام حسینؓ جب کوفہ کے قریب زیالہ پہنچے تو آپؓ کو خبر ملی کہ آپؓ کے رضاعی اور چچازاد بھائی کو اہل کوفہ نے شہید کر دیا ہے۔ اس موقع پر حضرت حسینؓ نے اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کر کے فرمایا ’’اہل کوفہ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے اور ہمارے تابعین ہم سے پھر گئے ہیں‘‘۔ کوفہ کے گورنر ابن زیادہ نے ان کی آمد کی اطلاع پر مقابلہ کے لئے اپنا ایک لشکر روانہ کردیا۔ یہ لشکر زیالہ سے روانگی کے بعد حضرت حسینؓ کو جا ملا۔ جس پر آپ نے ایک پہاڑی کے قریب پہنچ کر پڑاؤ ڈال لیا۔ حضرت امام حسینؓ نے ابن زیاد کے لشکر کی آمد کے بعد ان سے بات چیت کی۔ حضرت حسینؓ نے کہا کہ ان کو مدینہ واپس جانے دیا جائے یا ان کو سرحد پر بھیج دیا جائے تاکہ وہ اسلامی فوج کے ساتھ مل کر جہاد کرسکیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ان کو یزید سے ملنے کے لئے دمشق جانے کی اجازت دی جائے۔ یزید کے گورنر نے حضرت حسینؓ کی تینوں شرائط ماننے سے انکار کر دیا اور یزید کی بیعت پر زور دیا۔ حضرت حسینؓ نے اس پر انکار کر دیا۔ ابن زیاد کے لشکر نے دریائے فرات کے کنارے پر پڑاؤ ڈال رکھا تھا۔ انہوں نے حضرت حسینؓ اور ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کو فرات کے پانی سے روک دیا۔ گرمی، موسم اور تشنگی کی شدت عروج پر تھی۔ مگر سفاک اور بے رحم ابن زیاد کا لشکر کوئی رعایت دینے پر آمادہ نہ تھا۔

اس صورت حال میں 9 محرم کی رات حضرت حسینؓ نے اپنے تمام ساتھیوں کو اپنے خیمہ میں اکٹھا کیا اور چراغ گل کردیے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا ’’یزید میری بیعت چاہتا ہے وہ یہ نہ ماننے پر میری جان لینے کے در پے ہے، آپ تمام لوگ آزاد ہیں، وہ میری جان لے کر ٹل جائیں گے، آپ میں سے جس کا دل چاہے، وہ جا سکتا ہے میری طرف سے سب آزاد ہیں‘‘۔ اس کے بعد خاموش ہوگئے۔سب کو اذن عام دیدیا کہ جو جانا چاہتا ہے چلا جائے مگر ایک وقفہ کے بعد جب چراغ ووبارہ روشن کیا اور اس کی روشنی پھیلی اور آپ نے دیکھا کہ خیمہ گاہ میں موجود تمام اعوان و انصار اور اصحاب پر عزم چہروں کے ساتھ اپنی اپنی جگہ پر موجود تھے، کسی ے آپ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ اور یوں وفا اور اطاعت امام کا حق ادا کردیا ۔ اگلی صبح دس محرم تھی۔ ابن زیاد کے لشکر نے امام حسینؓ کے قافلے کا پانی بند کر رکھا تھا، اس دوران پانی لانے کے لئے جو بھی گیا یزیدی لشکر نے اسے شہید کر دیا۔ حضرت حسینؓ کے کم عمر صاحبزادے علی اصغر بھی شہید ہو گئے۔ آخر عصر کے وقت یزید ی لشکر نے حضرت حسینؓ پر حملہ کر کے ان کو حالتِ نماز میں جب رہ سجدہ میں سبحان ربی الاعلیٰ کے الفاظ ادا کر رہے تھے ،شہید کر دیا۔ خیموں کو نذرِ آتش کردیا گیا۔حضرت امام حسینؓ کے قافلے کے تمام مرد شہید ہو گئے۔ خواتین کو قیدی بنا لیا گیا مگر حضرت حسینؓ نے شہید ہو کر پوری اُمت کوپیغام دیا کہ جبر کے آگے سر کٹایا تو جا سکتا ہے جھکایا نہیں۔ حضرت حسینؓ نے یزید کے ہاتھ پر بیعت سے اس لئے انکار کیا تھا کہ وہ اسے جس انداز میں حکمران بنایا گیا تھا ، وہ سنت رسول ؐ اور سنت خلفائے راشدین کے منافی تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے مسلمانوں کے خلیفہ کا منصب اکابرین کی طرف سے نامزدگی کے بعد بیعت لے کر سنبھالا تھا۔ حضرت

عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا اسی طرح انتخاب ہوا تھا۔ لیکن یزید کو خلیفہ بنا تے وقت روشن اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی تھی، جسے امام حسینؓ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح خلافت کا ادارہ اور نظام تباہ ہو جائے گا۔ حضرت عمرؓ نے بیت المال قائم کر کے ایک نظام وضع کیا تھا اور اس سے کسی قسم کے ناجائز استعمال کو مکمل طورپر بند کر دیا تھا۔ یزید نے بیت المال ذاتی فائدے کے لئے استعمال کیا۔ حضرت حسینؓ نے اس پر بھی اعتراض کیا اور صدائے احتجاج بلند کی۔ حضرت حسینؓ نے جو شرائط پیش کی تھیں ان کے بعد ان کو شہید کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں تھا مگر انہیں بھوکا پیاسا رکھ کر تڑپایا گیا۔ ان کے خاندان کے معصوم بچے شہید ہو گئے اور بالآخر انہیں بھی شہید کر دیا گیا۔ حضرت حسینؓ کی شہادت میں سبق پنہاں ہے کہ غلط عمل کوئی بھی کرے اسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور اسلام کے اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی۔ یہی حضرت حسینؓ کا پیغام ہے اور یہی اسلام کا ابدی اصول ہے۔


ای پیپر