اب بھاشا ڈیم پر بھی اعتراضات
20 ستمبر 2018 2018-09-20

پاکستان میں پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کے خدشے کے باعث سپریم کورٹ آف پاکستان نے کچھ ماہ قبل نئے ڈیموں کی تعمیر کی مہم کا آغاز کیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے فوری طور پر دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس نے ڈیموں کی تعمیر کیلئے سرمائے کی کمی کو پورا کرنے کیلئے عطیات فنڈ بھی قائم کرنے کا حکم دیا۔ اس فنڈ میں اب تک اربوں روپے اکٹھے ہو چکے ہیں۔جبکہ کچھ روز قبل وزیراعظم عمران خان نے بھی چیف جسٹس ڈیم فنڈ کی حمایت کرتے ہوئے ایک نیا فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور چیف جسٹس فنڈ کے ساتھ اکٹھا کر دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے خاص کر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ ڈیم فنڈ کیلئے بڑھ چڑھ کر ڈالرز میں عطیات جمع کروائیں۔ وزیراعظم کی اس اپیل کے بعد جہاں ایک طبقے میں اس مہم کو مقبولیت حاصل ہوئی، وہیں ایک طبقے نے اس مہم کی مخالفت بھی کی ہے۔ اس حوالے سے خاص کر پیپلز پارٹی نے کھل کر مخالفت کی ہے۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے بھی دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کردی ہے۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرکو صوبائی خودمختاری کیخلاف قرار دے دیا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کی ہمشیرہ بختاور بھٹو زرداری اور دیگر پی پی رہنما سوشل میڈیا پر چلنے والی ڈیم مخالف منفی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ گلگت کے علاقہ میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے اعلان سے بعد سے ہی فائرنگ کے واقعات ہونا شروع ہو گئے۔ ان واقعات کو دیکھ کر چیف جسٹس نے بھی کہاکہ مجھے یہ کوئی سازش لگ رہی ہے کہ فوری طور پر وہاں گولیاں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ آخر یہ سازش ہے کیا ؟ سازش یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا وہ علاقہ جہاں دیامر بھاشا ڈیم بننے جا رہا ہے اس علاقے کو بھارت اپنا علاقہ کہتا ہے۔ حالانکہ یہ پاکستان کا علاقہ ہے لیکن بھارت یہاں ڈیم بننے نہیں دینا چاہتا۔بھارت نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھی بھاشا ڈیم کی مخالفت شروع کر دی ہے۔یہ وہ علاقہ ہے کہ اگر یہاں پر ڈیم بنتا ہے تو ایک تو یہاں سے ساڑھے چار ہزار میگا واٹ بجلی بنے گی۔ بہت سارا پانی اکٹھا ہو گا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس ڈیم کے بننے سے تربیلا ڈیم کی 35 سال عمر بڑھ جائے گی۔ اس ڈیم کے لیے پاکستان میں فنڈ بھی اسی لیے اکٹھا ہو رہا ہے کیونکہ اس کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ فنڈ ، آئی ایم ایف اور دیگر اداروں نے کہا ہے کہ ہم فنڈ نہیں دیں گے۔

ایک اور بات بھی اہم ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم جہاں تعمیر ہونے جا رہا ہے وہ بہت اہم جگہ بھی ہے اور یہ دریائے سندھ جہاں سے شروع ہوتا ہے اس کے بالکل قریب ہے۔یہ علاقہ قراقرم ہائی وے سے چین کے ساتھ جا کر ملتا ہے۔ یہ علاقہ سی پیک کے لیے بھی بڑا اہم ہے۔ اس علاقہ میں جیسے ہی ڈیم بنانے کا اعلان ہوا اچانک وہاں دہشتگردی شروع ہو گئی۔ یہ ایک بہت اہم بات ہے اور سب لوگوں کو اس معاملے پر نظر رکھنی چاہئیے کہ یہ جو واقعات وہاں ہوئے ہیں ان واقعات کا تعلق ڈیم کی تعمیر کو روکنے کی کوشش سے ہے۔ گذشتہ دنوں دہشتگردوں نے گلگت میں سیشن جج ملک عنایت الرحمن کی گاڑی پر حملہ کیا۔سیشن جج ملک عنایت الرحمن شہید عارف کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے گلگت سے تانگیر جا رہے تھے کہ دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔ حملے میں خوش قسمتی سے سیشن جج گلگت ملک عنایت الرحمن محفوظ رہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں فاضل عدالت نے قرار دیاکہ ڈیموں کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔ میرے خیال میں ایسا ہونا بھی چاہیے ۔ کیونکہ قومی و عوامی مفاد کے منصوبوں کی کسی ایک گروہ کی طرف سے مخالفت درست نہیں۔ بھارتی قانون میں بھی قومی مفاد کے منصوبوں کی مخالفت غداری کے زمرے میں آتی ہے لہذا ہمارے ہاں بھی ایسی ہی مثال قائم ہونی چاہیے۔پہلے ہی کالا باغ ڈیم بدقسمتی سے سیاست کی نظر ہو چکا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس منصوبے کو سیاست کی نظر کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مکمل ہو۔

پاکستان میں ایک طرف پانی کی اس قدر قلت ہے کہ دور جدید میں بھی لوگ چھپڑوں ٹوبوں، نہروں اور کھالوں سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف پانی کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم جہاں بارشوں اور دریاؤں کا پانی سنبھال نہیں پاتے وہیں زیر زمین ، آبشاروں اور چشموں کے پانی کو بڑی بے رحمی سے ضائع کر رہے ہیں۔ ہم نے یہ روش نہ بدلی تو کٹاس مندر کے تالاب کے چشمے خشک اور زیر زمین پانی گہرائی کی اس حد تک پہنچ سکتی ہے کہ اس تک رسائی ناممکن کی حد تک مشکل ہو جائے گی۔ پانی کے حوالے سے ہماری کوئی حکمت عملی نہیں، کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ پوری دنیا میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنایا جاتا ہے ہم وہ بدقسمت قوم ہیں جو صاف دستیاب پانی کو سمندر کی نذر کر دیتے ہیں۔ اس پر ذرا سی شرم اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں نہ ہی اپنی نسلوں کی بقا کا ادراک اور فکر ہے۔

بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی مخالفت کرنے والے ملک و قوم کے دشمن ہیں۔ وزیر اعظم اور چیف جسٹس نے ملکی بقاء اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کے لئے ڈیمز بنانے کی جو مہم شروع کررکھی ہے اس پر پوری قوم ان نے ساتھ ہے۔ جو عناصر ان ڈیمز کی مخالفت کررہے ہیں وہ ملک و قوم کے غدا ر ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے دوراقتدار میں ملک و قوم کو قرضوں میں ڈبودیا اور پیسہ لوٹ کر اپنے بیرون ملک اثاثوں میں اضافہ کیا۔میں قوم سے اپیل کرتاہوں کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے بھاشا اور مہمندڈیمز کی تعمیر کے اعلان پر بھر پور تعاون کریں ۔ ڈیموں کی تعمیر قوم کی زندگی ہے۔ اسی طرح کالا باغ ڈیم بھی پاکستان کی بقا ء اور سا لمیت کے لئے انتہائی ضروری ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔


ای پیپر