شہادتِ حسین یزیدی عزائم کی ناکامی کا استعارہ
20 ستمبر 2018 2018-09-20

عاشورہ کی اسلامی تاریخ سے وابستگی بڑی اہمیت کی حامل ہے درجنوں واقعات اسلامی صفحات پر یومِ عاشورہ کی مناسبت سے درج ہیں جن سے نسلوں کو روشنی ملتی ہے اس تاریخی دن وہ خونی واقعہ پیش آیا جس کی نظیر آسمان نے نہ دیکھی، اس ماہ کے پہلے عشرے میں حضرت امام حسین ؓ نے اپنے پاکیزہ اور پاکباز خانوادہ کے ساتھ بھوکے پیاسے رہ کر جامِ شہادت نوش فرمایا۔ شہادتِ حسین ؓ بلاشبہ تاریخِ اسلامی کا عظیم سانحہ ہے جو آج بھی اہلِ ایمانی کے دلوں کو بے تاب کئے جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر قوم نے اس واقعہ سے سبق اور عبرت حاصل کی اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خلافتِ راشدہ کے بعد اسلامی ریاست سیدھے راستے پر نہ رہی ،خلافت ملوکیت میں بدل گئی اور اس کے آگے چل کر جبر اور مطلق لعنانیت کی شکل اختیار کر گئی اس کی بنیادی وجہ دین کی اصل روح کا نظروں سے اوجھل ہو جانا تھا۔

انسانی تاریخ شاہد ہے کہ اقتدار پرستی کا مزاج کسی بھی اصول اور نظریہ کا پابند نہیں ہوتا اس کے سامنے صرف ایک مقصد ہوتا ہے مذہب، انسانیت اور اخلاق کے تمام اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ہوسِ حکمرانی کی تکمیل۔ حضرت امام حسین ؓ کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ کے طور پر اسلامی نظامِ اجتماعی کے تحفظ کی خاطر اپنی قیمتی جان قربان کر دی۔ اس طرح شہادتِ حسین ؓ حق کی حفاظت کے لئے آخری حد تک خود کو لٹا دینے اور سب کچھ نچھاور کر دینے کا آخری استعارہ اور روشن علامت بن گئی۔ دراصل اسلام کی زندگی کربلا جیسے واقعات میں ہی پوشیدہ ہے سب سے بڑا جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا ہے، جب بھی وقت کے جابر و ظالم طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہونے کی ضررورت پیش آئی ، حسینی جذبہ سے سرشار سرمایہ امت کی نگہبانی کرنے والوں نے اس سے کبھی دریغ نہیں کیا امام حسین ؓ نے شہادت کا جو نمونہ پیش کیا وہ محض اپنی ذات تک محدود نہیں انہوں نے اپنے پورے خاندان کو شیر خوار بچوں سمیت داؤ پر لگا دیا ۔شائد صرف نواسۂ رسولؐ کی شہادت حصولِ مقصد کے لئے کافی تھی لیکن نوجوانانِ جنت کے سردار حضرت امام حسین ؓ کے سامنے پوری انسانیت کے لئے یہ نظیر قائم کرنا تھی کہ حق کی علم برداری اور دین کا احیاء اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دین سے محبت رکھنے والا اس کے لئے اپنی کسی عزیز سے عزیز متاع کو بھی اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے گریز نہ کرے۔ روزِ اول سے ہی اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حضرت امام حسین ؑ کی شہادت کی اصل حقیقت اور فلسفہ کو عام نہ ہونے دیا جائے تا کہ نئی نسلوں کے لئے وہ قوتِ فکر و عمل کے ماخذ اور سر چشموں کی حیثیت سے ان کے ذہنوں میں باقی نہ رہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ واقعہ کربلا کے پیغام کو عام کرنے اور اس کی روح سے لوگوں کو روشناس کرانے کی کوشش کی جائے اور یہی ہمارا سچا خراجِ عقیدت ہے۔ امام حسین ؓ کی شہادتِ عظمیٰ کا واقعہ اسلام کی تاریخِ عزیمت کا ایک روشن باب ہے یہ فدائیت اور اسلام کی راہ میں قربانی کا وہ عظیم ترین نمونہ ہے جس کی ابتداء حضرت اسماعیلؓ سے ہوتی ہے۔ جب بھی شمعِ حق کو بجھانے کے لئے باطل کی تیز و تند ہوائیں چلتی ہیں اللہ تعالیٰ ان کا رخ موڑنے اور ان کا زور توڑنے کے لئے ایسی شخصیات کو مبعوث فرماتے اور میدانِ عمل لاتے ہیں جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس شمع کو گل ہونے نہیں دیتے۔ بظاہر حضرت حسین ؓ اور ان کے رفقاء کی شہادت سے یزیدی فتح کے زعم میں خوش و مسرور ہوئے اہلِ حق نے شہادت کی منزل پائی لیکن یزیدی عزائم کی ناکامی کا استعارہ بن گئے، یزید نے شکست کھائی گو کہ میدانِ جنگ جیتا ہے جب کہ اس کی جیت کی جو تمنا تھی وہ حضرت امام حسین ؓ کی بیعت سے پوری ہوتی لیکن آپؓ نے بیعت نہ کر کے شہادت کا منصب پا کر باطل کے لئے یہ چیلنج قائم کر دیا کہ حق کو کبھی زیر نہیں کیا جا سکتا اور یہ پیغام دیا کہ کربلا کی جنگ اسلام کی بقاء اور کلمے کے احیاء کے لئے لڑی گئی۔انسانی تاریخ حق و باطل کے ٹکڑوں کے بے شمار واقعات اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے ان واقعات میں

بہت مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے جب حق کی طاقتوں کو باطل کی صفوں کے مقابلہ میں مادی شکست و مغلوبیت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن یہاں اس حقیقت کو ہمیشہ ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے کہ حق و باطل کی جنگیں جب بھی ہوئیں وہ اصول کی کی جنگیں تھیں اور نظریات پر لڑی گئیں۔ اصول و نظریات پر لڑی جانے والی جنگوں میں مادی غلبہ اور جغرافیائی فتوحات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی درحقیقت اس قسم کی جنگوں میں فتح اور کامیابی کا اصلی معیار اس مقصد کا حصول اور اس مقصد کی کامیابی ہوتی ہے جس کے لئے کوئی فریق ایسی جنگ لڑتا ہے۔ حق و باطل کی آوہزش کی طویل تاریخ کے ایک یادگار موڑ پر شیطانی طاقتیں یزید کے روپ میں ابھری اور پوری شدت کے ساتھ حق کے مقابلہ میں صف آراء ہوئیں اور دوسری طرف حق پرستی نواسہء رسول حضرت امام حسین ؓ کے لباس میں تھی اور یہ بات ممکن نہ تھی کہ امام حسین ؓ دنیا میں موجود ہوتے اور دینِ خدا کے تحفظ کے لئے کوئی اقدام نہ کرتے۔


ای پیپر