اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ
20 ستمبر 2018 2018-09-20

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف انکی صاحبزادی مریم نواز اور انکے داماد کیپٹن صفدر کو ایوان فیلڈ ریفرنس میں دی جانے والی سزاؤں کو اپیلوں کے فیصلہ تک معطل کردیا۔ جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے ۔یقیناًیہ بڑی خبر ہے جس کے پاکستان کی آنے والی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ جولوگ کچھ دن پہلے تک نواز شریف کی سیاست کے خاتمے کا اعلان کر تے دکھائی دیتے تھے ان کے لئے اس فیصلے کو ہضم کرنا آسان نہیں ہو گا ۔ اپیلوں کے فیصلے کے بعد ہی وقت ہی بتاے گا کہ نواز شریف کا پاکستانی سیاست میں کیا کر دار ہو گا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ پوری قوت کے ساتھ واپس آتے ہیں تو جہاں مسلم لیگ ن کے مخالفین کے لئے خطرے کی بات ہو گئی وہاں مسلم لیگ ن میں شامل کچھ افراد کے لئے بھی مشکل گھڑی بن جائے گی ۔کیونکہ نواز شریف کے غیر لچک دار طرز عمل اور نظر انداز کرنے کی روش سے پارٹی کے اندر بھی کافی تفریق موجود ہے ۔بہرکیف ابھی تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے جس کا انتظار ہے ۔مسلم لیگ ن کے ورکرز کے لئے شریف فیملی کی سزاؤں کی معطلی جشن سے کم نہیں۔

یہ ساری صورتحال سیاسی بھونچال بن سکتی ہے ۔مگر کچھ سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ یہ سب ایک مرتبہ پھر سعودیہ کی ضمانت پر ایک ڈیل کے نتیجہ میں ممکن ہو رہا ہے ۔ نواز شریف اپنی بیٹی کے ساتھ دس بر س تک پاکستانی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے برطانیہ چلے جائیں گے اور وہاں ہی رہیں گے ۔اس کے بدلے ایک بھاری رقم سعودیہ کے ذریعے پاکستان منتقل ہو گئی جو امداد کی صورت میں ہو گی مگر درحقیقت وہ نواز شریف فیملی کی جانب سے رہائی کے بدلے ادا کی جائے گی ۔اس کے علاوہ بھی کچھ پس پردہ این آر او کرنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں ۔ با خبر صحافتی حلقے بھی شش وپنج کا شکا ر ہیں ۔ اور اس ساری صورتحال پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔بعض کے نزدیک آنے والے دنوں میں مزید عدالتی فیصلے مسلم لیگ ن کے لئے آکسیجن کا کام کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف کی محتاط پالیسی کے باعث شریف فیملی جس سیاسی بحران کا شکار ہے آنے والے دنوں میں اس کی شدت میں کمی ہوتی نظر آ رہی ہے ۔جو کہ یقیناًمسلم لیگ ن کے لئے خوش آئند بات ہے ۔سزاؤں کی معطلی پر شہباز شریف نے اپنے ٹویٹ میں قرآن کی یہ آیت لکھی ’’ترجمہ: اور کہہ دیں کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ہے۔بے شک باطل مٹنے کے لئے ہے۔‘‘13جولائی سے لیکر اب تک شہباز شریف فرنٹ فٹ پر نہیں آ رہے۔ بلکہ وہ پیچھے بیٹھ کر حالات و حاضرہ کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں۔اور اپنے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی کی حکومت نے گیس کے نرخ بڑھا دیے مگر شہباز شریف نے محض ایک مذمتی بیان پر ہی اکتفادہ کیا ۔ ن لیگ کے وزراء کی جانب سے ابھی تک حکومت کے خلاف کسی قسم کی کوئی ہارٹ لائن نہیں لی گئی ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نواز لیگ پھونک پھونک پر قدم اٹھا رہی ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ نیب سپریم کورٹ میں کیسے اس کیس کو لے کر چلتی ہے اورعدالتی محاذ آرائی کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟۔بطور ایک عام پاکستانی میر ی خواہش ہے کہ سیاسی معاملات عدالتوں سے باہر حل ہونا چاہیءں۔ عدالتوں کو سیاسی معاملات سے دور رکھنا نہایت ضروری ہے ۔سیاسی مداخلت سے ماحول خراب ہوتا ہے اور ادارے اپنی ساکھ کھوبیٹھے ہیں۔ ایسا رویہ ایک خطر ناک صورتحال کو جنم دے سکتا ہے ۔عدالتی جنگ اور اس کشمکش سے صرف اور صرف پاکستان کا امیج مجروع ہو رہا ہے ۔اس فیصلے کے بعد ایک لابی ایسی بھی ہے جو معزز ججز کو تنقید کا نشانہ بنا کر اپنے دل کا غبار سوشل میڈیا پرنکالے گی ۔ یہ امر ناقابل فہم اور تشویشناک ہے ۔ یہا ں

پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پانامہ لیکس میں بے نقاب ہونے والے دیگر 436افراد کے خلاف کب کارروائی عمل میں لائی جائے گی ؟۔بلا شبہ ملک میں احتساب ناگزیر ہے ۔مگریہ بھی ضروری ہے کہ یہ بغیر کسی دباؤ کے تمام کرپٹ افراد کے خلاف یکساں کارروائی کی جائے ۔تاکہ یہ تاثر نہ جائے کہ کسی خاص فرد یا جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کالم کے آخر میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ جہاں ایک طرف ملک کے سیاسی حالات دن بدن تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اورپی ٹی آئی کی حکومت اپنے پہلے ماہ میں ہی مہنگائی کے بم برسا رہی ہے وہاں دوسری طرف اپوزیشن اس نئی حکومت کو 100دنوں کا ریلیف کے نام پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ۔


ای پیپر