20 ستمبر 2018 2018-09-20

گزشتہ چند سال سے میانی صاحب قبرستان کی اراضی پر مبینہ قبضوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر آپریشن جاری ہے۔ میانی صاحب قبرستان سے متعلق اس کیس کی لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس علی اکبر قریشی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر رہے ہیں اور آئے روز ایسے کئی متاثرین اور ان کے وکلاءسے ملاقات ہوتی ہے جن کے گھروں کو انصاف کے بنیادی تقاضے پورے کئے بغیر مسمار کرنے کے احکامات جاری کئے جا رہے ہیں۔ عدالتی تاریخ میں شاید یہ واحد ایسا کیس ہے جو گذشتہ کئی سال سے سنا جا رہا ہے اور حتمی فیصلہ نہ ہونے کے باعث اس کا جاری کردہ ہر حکم عبوری حکم کہلاتا ہے۔ یہ کیس درجنوں عبوری احکامات جو کہ اب کئی پلندوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں پر مشتمل ہے، گھروں، عمارتوں درباروں اور احاطوں کی مسماری کے لیے جاری ہونے والے ہر حکم کو عبوری قرار دے کر متاثرہ افراد کو دادرسی کے حق اور فورم سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ایک طرف لوگوں کو ان کی زندگی بھر کی کمائی سے بے دخل کر کے وہاں قبریں بنا دی گئی ہیں لیکن حکم کا درجہ آج بھی عبوری ہے اور ہائیکورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک اس معاملے کی سماعت کرنے والے جج صاحبان اس بنیاد پر ان کا کوئی بھی موقف سننے کو تیار نہیں ہیں کہ یہ عبوری حکم ہے جس کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی اورجب مرکزی کیس کا فیصلہ ہو گا تب اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ چونکہ اتنے سالوں سے زیر سماعت یہ مرکزی کیس آیندہ بھی کئی سال تک نمٹتا نظر نہیں آتا۔ اس لئے اس کے حتمی فیصلے تک نہ جانے کتنے گھروں کو مردوں کی رہائش گاہ کا درجہ مل چکا ہو گا۔ سینئر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلی عدلیہ نے ایک ایسا موقف اپنا لیا ہے جو بذات خود انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی کسی سائل کو دادرسی کے حق سے محروم کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس کیس کی زد میں اب تک جتنے بھی لوگ آئے ہیں ان کے خلاف یکطرفہ حکم جاری کر دیا جاتا ہے اور متاثر ہونے والے شخص کو ایسی قانونی بندش کا سامنا ہے جو قانون کی بنیادی منشاءکے خلاف ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی ایسا قانون نہیں جس میں اپیل کا حق نہ دیا گیا ہو، ہر خطرناک سے خطرناک مجرم کو بھی پھانسی پر چڑھانے سے قبل اپیل کا ہر حق دیا جاتا ہے۔ لیکن میانی صاحب کے معاملے پر انصاف کا ہر بنیادی تقاضا نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں میانی صاحب کمیٹی اور لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج کے خلاف احاطہ عدالت میں متاثرین کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کیا، جن میں ایک وکیل صاحب اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔ احتجاجی متاثرین اور ان کے وکلاءکا کہنا تھا کہ انھیں میانی صاحب قبرستان کمیٹی کی جانب سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور عدلیہ بھی اس معاملے میں اتنی حساس نظر آ رہی ہے کہ نہ کسی وکیل اور نہ کسی دلیل کی ضرورت ہے، گھنٹوں میں لوگوں کی عمر بھر کی کمائی کا نام و نشان مٹانے کے احکامات جاری کئے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان کے پہلے چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان نے بطور فوجی صدر اقتدار سنبھالنے کے بعد سات جون 1962 کو میانی صاحب قبرستان کے تخفظ کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا، جس میں قبرستان سے ملحقہ متعدد آبادیوں کے کئی رہائشیوں کو بتائے بغیر ان کی زمینوں کو زبردستی شامل کر لیا گیا۔ آرڈیننس کے مطابق میانی صاحب قبرستان کو کل 1248 کنال اراضی کا مالک بنا یا گیاتھا۔لاہور ہائیکورٹ کے موجودہ جج جسٹس علی اکبر قریشی نے اس معاملے پر 2008 میں ازخود طور پر کاروائی شروع کی تھی، لیکن پرویز مشرف کے دوسرے پی سی او کے تحت حلف لینے پر انھیں اکتیس جولائی 2009 کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کیس پر مزید کاروائی نہیں ہوئی، تاہم 2014 میں ان کی لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج کے طور پر دوبارہ تعیناتی ہوئی اور منصب سنبھالتے ہی انھوں نے دوبارہ اس کیس کو سننا شروع کیا اور تب سے اب تک یہ سماعت مسلسل جاری ہے۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ عدلیہ کی تاریخ میں وہ واحد کیس ہے جس میں عدل کا بنیادی حق عدلیہ نے ہی ازخود طور پر چھین لیا ہے، اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے ممبر پنجاب بار کونسل چوہدری غلام سرور نے بتایا کہ میانی صاحب قبرستان سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے ازخود کارروائی کا آغاز کیا بعد ازاں اسے رٹ پٹیشن میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کیس میں اب تک جتنے بھی لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان کو اعلی عدلیہ نے قانونی اصطلاح عبوری حکم کہہ کر کوئی بھی ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔ عدلیہ نے بنیادی آئینی و انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے لیکن قبرستان کے نام پر ہر حق کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت ہر معاملے کا جو مناسب سمجھے فیصلہ کر سکتی ہے لیکن عدلیہ کی آزادی کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ بنیادی حقوق سلب کر لیے جائیں اور کسی بھی شخص کا موقف سنے بغیر اس کے خلاف فیصلہ کر دیا جائے اور پھر اسے کہیں اپیل کا حق بھی نہ دیا جائے۔ معروف وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے اس قانونی پہلو پر بتایا کہ یہ معاملہ انصاف سے محروم کرنے کی بدترین مثال ہے۔ قانونی کارروائی میں اپیل کا حق نہ دینا نہ صرف آئین کے آرٹیکل10-Aبلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی منافی ہے۔ اس کے علاوہ سول کورٹ نے ضابطہ دیوانی کے تحت شہادتیں قلمبند کرنے کے بعد کسی کی ملکیت کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور عدالت عالیہ اپنے آئینی دائرہ اختیار میں یہ کام نہیں کر سکتی۔انھوں نے بتایا کہ لاہورہائیکورٹ سمری ٹرائل کے تحت ملکیت کے فیصلے کر رہی ہے اور یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 10-Aکی خلاف ورزی کو ثابت کرتا ہے۔ متاثرین کے ایک اور سینئر وکیل مقبول حسین شیخ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں سب سے بڑی قانونی قباحت لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے براہ راست کارروائی کرنا ہے، لاہور ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ نہیں بلکہ اپیلٹ کورٹ ہے، ہائیکورٹ کی جانب سے براہ راست کارروائی سے سول اور سیشن عدالت کا دائرہ کار ختم ہو گیا ہے جو قانونی حق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ براہ راست کارروائی سے متاثرہ افراد کو بیک وقت انصاف کے دو فورمز سے محروم کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میانی صاحب قبرستان کمیٹی مجرمانہ کردار ادا کر رہی ہے، 1962 میں اگر ان افراد کی زمینیں قبرستان میں شامل کی گئی تھیں تو کمیٹی کی قانونی ذمہ داری تھی کہ ریونیو ریکارڈ میں اس کا اندراج کیا جاتا اور اس اراضی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی جاتی۔ لیکن اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں مجرمانہ غفلت کے باعث چند ماہ قبل تک اس اراضی کی کھلے عام خرید و فروخت ہوتی رہی اور رجسٹریاں بھی بنتی رہیں۔ ریونیو حکام بھی ہر خریدار کو کلیرنس دیتے رہے اور محکمے کی اس مجرمانہ غفلت کی سزا غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس آپریشن کو شروع کرنے سے قبل میانی صاحب کمیٹی کو قبرستان کے موجودہ رقبے کی نشاندہی کرانا چاہیے تھی تاکہ معلوم ہو سکتا کہ قبرستان کا موجودہ رقبہ کتنا ہے۔کیونکہ اگرکل کو یہ ثابت ہوا کہ قبرستان کی اراضی 1248کنال سے بڑھ چکی ہے تواس وقت شائد کوئی بھی اس نقصان کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔سینئر وکلا کی رائے میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہئے اور لاہورہائیکورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے لئے لارجر بنچ تشکیل دیا جائے جو لوگوں کو ان کی زندگی بھر کی کمائی سے محروم کرنے سے قبل ہر قانونی پہلوکا جائزہ لے اور اس صورتحال کے قصور واروں کا تعین بھی کرے۔ کچھ ماہرین کے خیال میں اس معاملے کو اس طرح بھی حل کیا جا سکتا ہے کہ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے فاضل جج اس کیس کا حتمی فیصلہ جاری کریں اور آئندہ سے آنے والے اس نوعیت کے مقدمات کا الگ الگ فیصلہ کیا جائے تا کہ متاثرین کا اپیل اور شنوائی کا بنیادی حق پامال نہ ہو سکے۔


ای پیپر