میٹھی جیل(9)
20 ستمبر 2018 2018-09-20

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ ہی حکومت سازی مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی و طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنا اور لکھنا غیر مناسب ہے لہٰذا حکومت کے پہلے 100 دن امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج نویں قسط پیش خدمت ہے۔

                                                                             وحید آج بھی اس مہربان خاتون کو یاد کرتا ہے جس کا نام اسے یاد نہیں ،وہ اس کی ہم وطن تو کیا اس کی ہم مذہب بھی نہیں تھی لیکن اس دیار غیر میں اس نے اپنے شوہر کے ہمراہ انسانیت کے رشتے سے اس کی مدد کی تھی۔دونوں میاں بیوی نے وحید کو سر چھپانے کا ٹھکانہ مہیا کیا ،رات کے کھانے اور صبح کے ناشتے کے بعد انہوں نے اس فون نمبر کے ذریعے متعلقہ شخص کا پتہ حاصل کیا اور اسے اس پتے پر اپنی گاڑی میں چھوڑنے بھی گئے۔اب وحید کو سر چھپانے کا ایک آسرا مل گیا تھا لیکن کام ابھی نہیں ملا تھا۔ تلاش پر لاہور کے ایک شخص ندیم نے جو وہاں یونین پیپر انڈسٹری میں کام کرتا تھا کوالالمپور کے بجائے بین تونگ میں فیکٹری کے کام کی پیشکش کی،اندھے کو ایک آنکھ بھی بہت لگ رہی تھی لہذا وحید نے بین تونگ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس فیکٹری میں معمولی سی اجرت پر کام بھی نعمت غیر مترقبہ معلوم ہورہا تھا ۔ بارہ یا پندرہ دن اس طرح سے گذرے کہ ایک ہاتھ میں لکڑی کا ڈنڈا رکھنا پڑتا کہ راستے میں اتنے سانپ تھے کہ ڈنڈے کی مدد سے انہیں ادھر ادھر کرکے فیکٹری تک پہنچنا پڑتا تھا ،ایک رات امیگریشن حکام نے فیکٹری پر چھاپہ مارا ۔ چھاپے سے افراتفری کا عالم یہ تھا کہ جس کا جدھر منہ تھا ادھر کو بھاگ نکلا، بہت سے پکڑے گئے کچھ بچ نکلنے میں کامیاب رہے، وحید کو شفٹ انچارج نے ٹشو پیپرز کے ایک بڑے ڈھیر کے نیچے چھپا دیا اور ہدایت کی کہ حرکت اور آواز نہ ہو۔ کئی گھنٹوں تک تلاشی کا عمل جاری رہا اور وحید دم سادھے ٹشو پیپرز کے ڈھیر میں پڑا رہا ، آخر ایک لمحہ ایسا آیا کہ اسے لگا کہ اب وہ کھڑکی سے چھلانگ لگا کر فرار ہوسکتا ہے ، سو اس نے اللہ کا نام لے کر چھلانگ لگادی اور چوٹوں خراشوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھاگا۔ قسمت نے یاوری کی اور وہ نکل گیا، ایک دن شفٹ سپروائز رکے گھر چھپا رہا اور بالاخر بس کے ذریعے واپس کوالالمپور پہنچ گیا۔ایک مرتبہ پھر وہ بے روزگار اور بے گھر تھا ، ندیم نے ایک مرتبہ پھر اس کی مدد کی اور اسے ایک فوٹوشاپ میں فوٹوگرافر کے طور پر کام دلادیا ۔ شاپ کا مالک بااثر تھا جس نے کسی اور نام سے وحید کی تصویر لگا کر کسی پرانے ورک پرمٹ پر اسے کام دیا تھا ،جس کے بدلے اس نے وحید کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں لے کر اسے کم اجرت پر ملازم رکھا تھا۔ کہانی سناتے ہوئے وحید کی آواز بھرا گئی اور اس نے کہا کہ ملایئشیا مزدوری کے لئے جانے کی جگہ نہیں خدا کے لئے اپنے پیاروں کو یہاں مت بھیجیں، یہ صرف اور صرف غلامی کی جدید شکل ہے ۔ بغیر کاغذات کے پکڑے جانے پر صرف خدا ہی آپ کو اپنے پیاروں سے واپس ملا سکتا ہے کہ حکومتی نظام اتنا ناقص ہے کہ آدمی زندہ ہے یا مر گیا پاکستان میں کسی کو پتا بھی نہیںچلے گا۔ پاکستانیوں کو پکڑکر ڈی پورٹ نہیں کیا جاتا بلکہ کیمپ میں پھینک دیا جاتا ہے جہاں کسی سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی کبھی سفارتخانے کے حکام ان کیمپوں میں پڑے لوگوں کی خبر لیتے ہیں۔ لوگ خارش ،دمہ،اور جلدی و دیگر متعدی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں جن کا موت کے سوا کوئی علاج میسر نہیں ہوتا ، صرف ایک وقت کے لئے خشک مچھلی کا راشن ملتا ہے یہ سڑی ہوئی بدبودار خوراک جسم وجاں کا رشتہ برقرار رکھنے کا واحد ذریعہ ٹھہرتی ہے۔ صرف بنگلہ دیش کی حکومت نے ملائی حکومت سے معاہدہ کررکھا ہے جس کے تحت اگر بنگالی پکڑا جائے تو اسے فوری طور پر ڈی پورٹ کیا جاتا ہے جبکہ بنگلہ دیش کی ائیر لائن اپنے شہریوں کو بغیر رقم کے بھی واپس اپنے ملک لے جاتی ہے لیکن پاکستانیوں کاوہاں کوئی پرسان حال نہیں ،کراچی ، لاہور ایبٹ آباد اور اندرون سندھ اور پنجاب کے کئی لوگ ہیں جو سالہا سال سے وہاں کیمپوں میں موجود ہیں لیکن ان کے پاکستان میں اہل خانہ کم وسیلہ ہونے کے باعث ان کی زندگی یا موت سے واقف نہیں ہیں۔وحید کے مطابق اس نے اڑھائی سال وہاں کسی دوسرے کے نام اور پرمٹ پر ملازمت کی لیکن امریکا جانے کا خیال ایک لمحے کے لئے بھی اس کے ذہن سے محو نہیں ہوا،اس نے فوٹو شاپ کے مالک کا اعتماد حاصل کیا اور اس کے دفتر تک رسائی حاصل کرلی موقع پاتے ہی لیٹر ہیڈ اور اپنے پاسپورٹ و دیگر کاغذات اپنے قبضے میں لے لئے ۔ اب اسے اپنی موجودہ ملازمت کے ذریعے امریکی سفارتخانے میں ویزے کے لئے درخواست جمع کرانا تھی مگر افسوس کہ

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند

کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

ایک ساتھی نیپالی ہندو ملازم جگن نے اس کی مخبری کردی اور مالک نے وحید کو طلب کرلیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ نیپالی اس وقت تک ملا ئشیا کا ویزا حاصل نہ کرسکتے تھے وہ بنگالی پاسپورٹ پر وہاں کام کررہے تھے،بہر حال مالک نے طلب کرکے وحید کو ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ وہ صبح اس کو امیگریشن دفتر کے حوالے کردے گا۔ راتوں رات وحید کو ایک مرتبہ پھر کھڑکی سے چھلانگ لگانا پڑی اور مہنگی ٹکٹ خرید کر پاکستان واپس لوٹنا پڑا، امریکا پہنچنا آسان نہیں تھا ۔ کہانی ہر لحظہ رنگ بدل رہی تھی ، میں دم سادھے وحید کے بولنے کا منتظر تھا کہ ایک ادنیٰ دنیاوی مقصد کو پانے کے لئے اس کی جدوجہد میں میری دلچسپی بڑھتی جارہی تھی کیونکہ کسی بھی مقصد کو پانے کے لئے کی گئی جدوجہد اسے عظیم بناتی ہے ،محرم الحرام تو خود جدوجہد اور قربانیوں کی علامت ہے اور مجلس کے شرکا سے ملاقات کے بعد اس کی گفتگو کچھ اور صورت اختیار کررہی تھی

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماںہونا

(جاری ہے)


ای پیپر