عمران خان نے جو کہا وہ کر دکھا یا ،شہبا زشریف کو کس جیل میں ڈالاگیا ،حیران کن خبر 
20 اکتوبر 2020 (18:39) 2020-10-20

 اسلام آباد:نیب کی طرف سے ریمانڈ کی استدعا مسترد ہونے کے بعد سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ،پہلی دفعہ کسی بھی سیاسی لیڈر کو عام قیدیوں کی طرح رکھا جائیگا ،ذرائع کے مطابق  قائد حزب اختلاف کو بیرک نمبر دو میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں احتساب عدالت کے رو برو پیش کیا گیا،شہبازشریف کو احتساب عدالت کے جج جوادالحسن کی عدالت میں پیش کیاگیا،نیب نے شہبازشریف کے مزید14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،وکیل امجد پرویزکے موجود نہ ہونے پر شہبازشریف نے خود دلائل دیئے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر اورمسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے لیے جیل کی سہولیات ختم ،عام قیدیوں کی طرح رکھا جائے گا، مسلم لیگ ن کے صدر کو جیل میں الگ کمرہ،بیڈ، ٹیبل لیمپ اور بی کلاس کی سہولیات ملیں گی۔یا درہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنہوںنے قوم کا پیسہ لوٹا انہیں اب جیل میں وی آئی پی سہولیات نہیں ملیں گی ، انہیں بھی عام قیدیوں کی طرح رکھا جائیگا ۔

شہبازشریف نے دعویٰ کیا مجھے نیب کی حراست میں 85 روز ہوگئے ہیں ،شہبازشریف کے بیان پر نیب کے تفتیشی افسران حیران رہ گئے ،شہبازشریف نے کہا کہ اس سے پہلے بھی نیب کے عقوبت خانے میں رہ چکا ہوں،21 روز یہ ملا لیں تو 85 دن بن جاتے ہیں ،نیب تفتیشی افسر نے کہاکہ شہبازشریف کو سوالنامہ دیا۔شہبازشریف نے کہاکہ اگر میں جواب نہیں دوں گا تو میرانقصان ہوگا،شہبازشریف نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ یہ بات عدالت کہہ چکی ہے میں کوئی جواب نہیں دوں گا،تفتیشی افسر نے کہاکہ شہباز شریف کو مختلف اکائونٹس دکھا کر سوال جواب کئے گئے ،احتساب عدالت نے نیب کی شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی ،شہبازشریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی ہدایت کردی ۔


ای پیپر