اخلاقی قوت……
20 اکتوبر 2020 (11:28) 2020-10-20

وزیراعظم عمران خان نے اپنے تازہ ترین ٹی وی انٹرویو میں بڑی پتے کی بات کی ہے کہ سیاستدانوں کی طاقت ان کی اخلاقی قوت ہے جب کہ بندوقیں تو فوج کے پاس ہوتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات کسی پہلے سے طے شدہ ایجنڈے کے تحت نہیں کی بلکہ انٹرویو کے دوران محض روا روی میں کہہ دی ہے۔ شاید خود انہیں بھی اس جملے کی حیثیت اور اس سے وابستہ تلخ ترین واقعات اور ان کے اثرات کا پورا ادراک نہ ہو۔ یہ بات انہوں نے اس طے شدہ انٹرویو میں اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی، اس میں اپوزیشن اتحاد کی تشکیل اور اس اے پی سی اور اسکے بعد مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے نواز شریف کے خطاب کے بعد کہی۔ غالباً ان کے قریبی حلقوں نے اس نئی سیاسی ڈویلپمنٹ اور نواز شریف کی تقریر کے اثرات کو ضائع کرنے کے لیے یہ ضروری سمجھا، جس کے بعد ان کے میڈیا منیجرز نے سما ٹی وی کے ندیم ملک کے ساتھ اس انٹرویو کا اہتمام کیا۔ اس انٹرویو میں عمران خان ایک سیاستدان کے طور پر اچھا کھیلے اور وہ سب کچھ کہہ دیا جو وہ کہنا چاہتے تھے چاہے اس کا انٹرویو نگار کے سوال سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے نواز شریف کے بارے میں انتہائی سخت الفاظ اور لب و لہجہ اختیار کیا اور اس معاملے میں رسمی وضعداری اور ادب آداب کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری نہیں سمجھا۔ بلکہ ان پر غداری جیسے سنگین الزامات بھی لگا دیے۔ ان کی مبینہ کرپشن کے بارے میں پہلے جیسا ہی سخت رویہ اپنایا اور پہلی بار اپنی طاقت کا اسی انداز میں برملا اظہار کیا جس کا اظہار وہ اپنی کپتانی کے دنوں میں کرتے تھے۔ انہوں نے یہ تو کہا کہ اگر جنرل ظہیر الاسلام نے نواز شریف سے استعفیٰ مانگا تھا تو نواز شریف ان کو برطرف کر دیتے۔ لیکن اسی نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے کی کوشش کی تو ان کے اس اقدام کا عمران خان نے اسی انٹرویو میں تمسخر اڑایا۔

عمران خان کی یہ بات بہت اہم ہے کہ سیاستدانوں کی اصل طاقت ان کی اخلاقی قوت 

ہے۔ اور حقیقت یہی ہے کے اس اخلاقی قوت کے بل پر وہ عوامی طاقت و قبولیت حاصل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ادارے ان کا احترام بھی کرتے ہیں اور ان کے سیاسی و نفسیاتی دباؤ میں بھی رہتے ہیں۔ لیکن کیااس ملک کے سیاستدان اپنی اس طاقت کو جانتے ہیں اور اس اخلاقی قوت کے لیے اپنے عمل سے کوئی مثال بھی قائم کرتے ہیں اگر اس امر کا جائزہ لیا جائے تو اس میدان میں ہم خاصے تہی دست ہیں۔ اگر آج کے دو بڑے سیاسی حریفوں عمران خان اور نواز شریف ہی کا جائزہ لیں تو ہمیں سخت مایوسی ہو گی۔ ماضی میں اپنی اپنی ذاتی زندگیوں میں دونوں سنگین الزامات کی زد میں رہے ہیں لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران بھی ان کے ہاں اخلاقیات کی حیثیت ثانوی بلکہ اس سے بھی نیچے رہی ہے۔ عمران خان کو پوری اپوزیشن تواتر کے ساتھ سلیکٹڈ وزیراعظم کہہ رہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جائز طریقہ سے منتخب نہیں ہوئے بلکہ مقتدر حلقوں نے انہیں زبردستی جتوایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کے یہ الزام زیادہ شدومد سے لگانے والے نواز شریف خود بھی بار بار سلیکٹڈ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم رہے ہیں۔ خودبلاول بھٹو بھی کچھ عرصہ قبل ان پر یہ الزام  لگا چکے ہیں۔دونوں لیڈران کرام کے ذاتی اور شخصی رو یے بھی کسی اخلاقی بالاتری کا اظہار نہیں کرتے۔ دونوں کمزوروں کے ساتھ توہین آمیز انداز میں اور طاقتوروں کے ساتھ جھک کر ملنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ نواز شریف کے اردگرد ان کے مخالفین کے مطابق جتنے کرپٹ اور نیب زدہ لوگ موجود ہیں، خود عمران خان بھی اس معاملے میں جہانگیر ترین خسرو بختیار اور علیم خان جیسے لوگوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ اگر نواز شریف کے حواریوں نے جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت پر حملہ کیا تھا تو عمران خان کی حکومت نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد حسن صدیقی کو برطرف کیا ور جسٹس فائز عیسیٰ کے لیے وہ سب سامان پیدا کیا جو عدلیہ کی آزادی کے لیے کوئی خوشگوار تجربہ نہیں ہے۔ دونوں رہنماؤں نے عام انتخابات الیکٹ ایبلز پر مکمل انحصار کر کے اپنی سیاسی اور اخلاقی حیثیت واضح کر دی۔ ان میں سے بہت سے الیکٹ ایبلز صرف مقتدر حلقوں اور افراد کے زور پر آئے تھے۔ اگر عمران خان نے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی ناصرف طویل عرصہ تک بلدیاتی انتخابات کو ٹالا بلکہ جب باامر مجبوری انتخابات کرائے تو ان اداروں کو عملاً بے بس کر کے رکھا۔ اگر شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز پر مالی الزامات ہیں تو وزیراعظم کی بہن علیمہ خان بھی اس اعزاز سے محروم نہیں۔ دونوں رہنماؤں کا انداز حکمرانی بھی جمہوریت کے نام پر شخصی بالادستی کے انداز کا ہے۔ اگر نواز شریف اور شہباز شریف نے اپنے پسند کے لوگوں کو سرکاری کارپوریشنوں، خود مختار و نیم خودمختار اداروں کی سربراہی کسی میرٹ کے بغیر دی تو یہ کام موجودہ حکومت بھی مسلسل کر رہی ہے۔ اگرنواز شریف دور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل نہیں پکڑے جاتے تو عمران خان کے دور میں بھی سانحہ ساہیوال کے ملزمان آزادانہ گھومتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ سرکاری وسائل اوراختیارات کا جتنا غلط استعمال نواز دور میں ہوتا رہا ہے۔ عمرانی دور میں بھی وہ اسی طرح جاری ہے۔ عافیہ صدیقی اگر نواز حکومت کے دعووں کے باوجود رہا نہیں ہو سکیں تو عمران خان کے بلند بانگ وعدوں کے باوجود بھی جیل میں ہی ہیں۔ اگر نواز شریف پر مودی سے یاری کا الزام ہے تو خود عمران خان بھی انہیں بار بار فون کرتے ہیں جو خود ان کے بقول وہ سنتے ہی نہیں ہیں۔ اپنے اعلانیہ منشور پر اگر نواز شریف نے دس پندرہ فیصد سے زیادہ عمل نہیں کیا تو اس معاملے میں عمران خان کا بھی ریکارڈ بہت اچھا نہیں ہے۔ ا صل بات یہ ہے کہ عمران خان نواز شریف یا دوسرے سیاسی لیڈروں کو محض اخلاقی قوت کی بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنے کردار اور عمل سے اپنی اور اپنی جماعت کی اخلاقی حیثیت بہتر کرنی چاہیے کہ اسی میں ان کی کامیابی ہے لیکن اب تک کا ریکارڈ تو مایوس کن ہی ہے۔اوراس ریکارڈ کے ساتھ تو بالا دستی بندوق ہی کی ہوگی۔


ای پیپر