دھرنا روکنے کی تدبیریں
20 اکتوبر 2019 2019-10-20

دھرنا ، سر پر آن پہنچا، اسی ہفتے کے اختتام پر 27 اکتوبر بروز اتوار مولانا فضل الرحمان اپنے لائو لشکر کے ساتھ طبل جنگ بجاتے آزادی مارچ شروع کریں گے۔ حالات سازگار رہے (جس کی کوئی امید نہیں) تو 31 اکتوبر جمعرات کو اسلام آباد میں پڑائو ڈالیں گے ایک بار بیٹھ گئے تو بس بیٹھ گئے۔’’ کوئی ہمیں اٹھائے کیوں‘‘ والی کیفیت ہوگی۔ عقل کے پیچھے لٹھ لیے مشیر وزیر تو پھبتیاں کسنے میں مصروف ہیں لیکن ماضی کھنگالنے اور مستقبل اجالنے کے خواہش مندوں کا کہنا ہے کہ مولانا کو روکیں چل پڑے تو بڑی خرابی ہوگی، دور اندیش لوگ دور کی سوچتے ہیں ان کا کہنا درست ہے کہ ’’مگس کو باغ میں جانے نہ دینا ،کہ نا حق خون پروانے کا ہوگا‘‘ مولانا کا دھرنا ملک اور ملک چلانے والوں کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ حکومت مولانا کو سمجھانے کی بجائے دھرنا روکنے کے چکر میں سب کچھ بھول گئی۔ کشمیر، کمر توڑ مہنگائی، ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر اور سب سے بڑھ کر ریاست مدینہ، مدینہ جانا تھا کوفہ کے راستے پر چل پڑی۔ دھرنا کیسے روکا جائے، مذاکرات کیے جائیں؟ پیغام بھیجا، جواب ملا ’’دل اور دروازے کھلے ہیں مگر آتے ہوئے استعفیٰ لیتے آنا، پرویز خٹک ٹھٹھک گئے یہ کیسے ممکن ہے مکالمہ ہوا، ممکن نہیں تو آرام سے بیٹھو ہمیں نا ممکن کو ممکن بنانے دو، شیخ رشید کو جانے کہاں سے خبر ملی کہ ’’جن کی زبان سمجھی جاتی ہے وہ فضل الرحمان سے رابطے میں ہیں لیکن شاید ان کے علم میں نہیں کہ مولانا نے تمام رابطوں میں مائنس ون کی بات کی ، انہوں نے برملا کہا کہ۔

میں قطرہ ہو کے بھی طوفاں سے جنگ لیتا ہوں

مجھے بچانا سمندر کی ذمہ داری ہے

رابطے برحق، مولانا پرانے کھلاڑی ،کسی اناڑی کی طرح بائونسر نہیں ماریں گے، رابطوں سے واقف ایک تجزیہ کار نے تسلی دی کہ دھرنے والوں کو روکنے کی ضرورت نہیں ہدایت آجائے گی، کب آئے گی؟یہ تو ہدایت کاروں کے سوچنے کی بات ہے۔ مولانا کے ایک کمانڈو نے واضح کردیا کہ جے یو آئی آزادی مارچ کے فیصلے پر یو ٹرن نہیں لے گی، حکومت کی حکمت عملی کیا ہے۔ دھمکیاں، ناکہ بندی، گرفتاریاں، لیگل نوٹس، عدالتوں میں درخواستیں اور ان سب کے بعد مذاکراتی کمیٹی، کچھ طے نہیں کیا کرنا ہے بقول حفیظ جالندھری۔

ارادرے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں

کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ایسا نہ ہوجائے

پرویز خٹک مذاکرات کا ڈول ڈال رہے ہیں وزیر داخلہ کھلی دھمکی دے رہے ہیں مولانا گھر سے نہیں نکل سکیں گے۔ دھمکی پر مولانا نے اے بی سی پلان کی گردان شروع کردی، مولانا جانے کس مٹی کے بنے ہیں کہ دھمکیوں سے مرعوب ہوتے ہیں، نہ ہی ترغیب و تحریص سے دام میں آتے ہیں، دھمکی دی گئی کہ مارچ کیا تو ٹھیک دھرنا دیا تو دھر لیے جائو گے۔ مولانا ٹس سے مس نہ ہوئے ایجنڈا پوچھا گیا جواب ملا ایک نکاتی ایجنڈا، بڑے کا استعفیٰ، سارے مسائل حل ہوجائین گے۔ دھرنا اسپیشلسٹ حکومت تدبیریں سوچنے میں مگن اپنے 126 دنوں کے دھرنے کے لیے جو حربے آزمائے تھے ان ہی حربوں سے دھرنا ناکام بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ٹرانسپورٹرز سے کہہ دیا جو شکل و صورت اور چال ڈھال سے مولوی لگے اسے بس میں مت بٹھائو، بقول مولانا راشد سومرو ہم نے ایڈوانس بکنگ کرالی تھی ٹرانسپورٹرز نے معذرت کے ساتھ رقم واپس کردی سوال ہوا پھر اسلام آباد کیسے پہنچیں گے۔ بولے اونٹ گاڑیوں گھوڑا گاڑیوں، کشتیوں اور کچھ نہ ملنے پر پیدل اسلام آباد پہنچنا ہے سو پہنچیں گے۔ ہمارے لیڈر نے واضح کردیا ہے کہ ’’اڑان والوں اڑانوں پہ وقت بھاری ہے، پروں کی اب کے نہیں حوصلوں کی باری ہے‘‘ آزادی مارچ سندھ سے شروع ہوگا، کراچی سے گھوٹکی تک پیپلز پارٹی میزبان، رخت سفر بھی مہیا کرے گی، لیکن صادق آباد پر پی ٹی آئی والے راستہ روک لیں گے۔ پشاور اور خیبر پختونخوا سے کیسے نکلنا ہے، بلوچستان سے کیسے پہنچنا ہے، روکنا حکومت کی ذمہ داری رکاوٹیں عبور کرنا مولانا کے سوچنے کی بات ،جس نے اے بی سی ڈی پلان بنایا انہوں نے متبادل راستوں کا تعین بھی کیا ہوگا۔ وزیروں مشیروں کے بقول منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ تو سولہ ترجمان اور شیخ رشید سمیت وزیر مشیراتنے پریشان کیوں ہیں، سب کچھ بھول گئے صرف دھرنا یاد رہا۔ دھرنا ہو نہ ہو مولانا نے پورے سیٹ اپ کو اپ سیٹ کردیا ہے۔ کہا کرتے تھے احتجاج کرنا ہے شوق سے کرو کنٹینر دیں گے دو وقت کا کھانا بھی ملے گا۔ اب کیا ہوا ہے۔ پولیس نے اعلان کردیا کہ شرکا کو ٹکنے نہ دیا جائے۔ کیٹرنگ، ٹینٹ، ہوٹل، موٹل، سائونڈ سسٹم اور دیگر اشیا دینے والا حوالات کی ہوا کھائے گا۔ عدالت عالیہ نے دھرنے سے منع نہیں کیا، شہریوں کو مشکلات سے بچانے کا کہا ہے۔ پولیس نے اپنے طور پر تو احکامات جاری نہیں کردیے کسی نے تو کرنے کو کہا ہوگا۔ ’’اپنے کہے پر آپ ہی پچھتا رہے ہیں لوگ۔‘‘ دراصل سیاست ایسا کھیل ہے جس میں ’’ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ‘‘ اس کا کوئی علاج نہیں اتنی منصوبہ بندی اور اقدامات پر خبریں سننے اور پڑھنے والوں نے کہنا سننا شروع کردیا ہے کہ دھرنا نہیںہوگا۔ منیر نیازی مرحوم کی روح سے معذرت کے ساتھ کہ ’’یہ دھرنا اب نہیں ہوگا، یہ کچھ دن بعد میں ہوگا‘‘ حق اور سچ کی ترجمانی کرنے والے دانشور، صحافی اور سابق بیورو کریٹ اوریا مقبول جان کا خیال ہے کہ دھرنا 15 نومبر کو ہوگا۔ درست، پندرہ بیس دن لاٹھیاں، ڈنڈے چلیں گے۔ آنسو گیس کے شیلوں کو اسٹوروں میں پڑے زنگ لگ رہا ہے انہیں استعمال کیا جائے گا۔ اس عرصہ میں ’’وقت آئینہ صاف کردے گا‘‘ اور دھرنے کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوجائے گا یا پھر نہیں ہوگا تو کچھ اور ہوگا، دو صورتیں ہوں گی شرافت سے دھرنے پر بیٹھنے دیا جائے، ’’بیٹھے رہوتصور جاناں کیے ہوئے‘‘ ہمیں کچھ نہ کہو ادھر ادھر نہ دیکھو قومی اسمبلی پر حملہ کرنے، پی ٹی وی کے ہیڈ کوارٹر میں گھس کر توڑ پھوڑ اور ٹرانسمیشن بند کرانے جیسی کوئی غیر قانونی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔ جو ہماری حرکتوں پر خاموش رہے تھے وہ جیل میں ہیں، کسی ڈی ایس پی کو گھسیٹنے اور گرفتار کارکنوں کو بزور رہا کرانے کی کوئی کوشش نہ کی جائے ۔ دوسری صورت خطرناک اور ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ، اس کی نشاندہی شوکت یوسفزئی نے اشاروں اشاروں میں کردی ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو راستہ روکنے کی اجازت دے دی جائے اس سے ملک بھر میں خانہ جنگی کا خطرہ ہوگا، بہتر ہوگا کہ بہتر حکمت عملی سے معاملات نمٹائے جائیں، صورتحال اچھی نہیں بقول اقبال ساجد۔

جہاں بھونچال بنیاد و فصیل و در میںر ہتے ہیں

ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

ماہر علم نجوم پروفیسر غنی جاوید ان ہی دنوں میں سیاسی پارہ چڑھنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ستمبر کے بعد سے صورتحال خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ بہت کچھ ہونے والا ہے۔ حالات محاذآرائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اکتوبر ہی میں محاذ آرائی شروع ہوجائے گی۔ 5 سے 18 نومبر محاذ آرائی میں تیزی آئے گی۔ صورتحال 45 دن جاری رہے گی، 12جنوری نتیجہ خیز دن ہوگا، اہل ذکر و فکر کا کہنا بجا ہے کہ مولانا کے جانثار حکومت کے لیے مشکل پیدا کریں گے۔ احتجاج شدت اختیار کرگیا تو قسمت کے ستارے شاید ساتھ نہ دیں زیادہ بگاڑ نہ بھی ہوا تو دیواروں میں دراڑیں پڑجائیں گی۔ عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں۔ خدا وہ وقت نہ لائے کہ وہ بھی تنگ آمد بجنگ آمد پر آمادہ ہو کر سڑکوں پر نکل آئیں اور دھرنا 126 دن کی شکل اختیار کرلے دھرنا طویل ہوا تو اللہ نہ کرے کوئی شیخ رشید کنٹینر پر کھڑے ہو کر جلائو گھیرائو کا راستہ دکھا دے اور ٹیکس نہ دینے اور بل پھاڑنے کا عملی مظاہرہ ہونے لگے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے ملک کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، آمین۔


ای پیپر