اقتصادی بر یک تھر و، وقت کی اہم ضر ور ت
20 اکتوبر 2019 2019-10-20

مو جو دہ حکو مت نے آ سما ن کی جا نب سید ھی برھتی ہو ئی مہنگا ئی کا ہمیشہ یہی جوا ز پیش کیا کہ اقتصا دی بر یک تھر و ہ کے لیئے مہنگا ئی میں ا ضا فہ ہو نا ناگز یر ہے۔ لیکن مشا ہد ے میں آ ر ہا ہے کہ حکو مت کی غلط پا لیسیو ں کی بناء پر تا دمِ تحر یر و طنِ عز یز میں معا شی جمو د کا عمل جا ری ہے۔ تا ہم حکومت معاشی جمود توڑنے کے لیے اقدامات کا اعلان کر رہی ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقتصادی سمت سازی کی منزل ابھی دور ہے۔با وجو د اِس امر کے کہ حکو مت کے پا س اب مز ید غلطیو ں کی کو ئی گنجا ئش با قی نہیں بچی، ابھی چند ہی روز پہلے وفاقی وزیر فواد چودھری کا ایک ایسا بیا ن سا منے آ یا جس کے تحت عو ام کی رہی سہی ا مید بھی دم تو ڑتی نظر آ ئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکو مت 400 محکمے ختم کر رہی ہے۔ عوام نوکریوں کی طرف نہ دیکھیں۔ اور یہ کہ نوکری نجی سیکٹر دیتاہے، اگر حکومت کی نوکریوں کے لیے دیکھنا شروع کردیں گے تو معیشت کا فریم ورک بیٹھ جائے گا۔ کیا کو ئی انہیں یا د دلا ئے گا کہ جب صورتحال اس حد تک درد انگیز اور ناقابل عمل ہے تو وزیراعظم نے ایک کروڑ نوکریوں کا اعلان کیوں کیاتھا؟ پھر بھی وفاقی وزیر کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے روزگار کا ماحول بنانا ہے۔ انہوں نے کہا یہ 70ء کی دہائی کی سوچ تھی۔ سوال یہ ہے کہ سوچ کے بحران اور فقدان کا شکار تو حکومت ہے، اب وہ ہزاروں لاکھوں بیروزگار جن کو ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے لارے لپے دیئے گئے ہیں ان کے تالیف قلوب کے لیے یہی انداز گفتگو رہ گیا ہے۔ کم از کم بیروزگاری کے ستائے ابنائے وطن کے احساسات اور امنگوں کا کچھ تو خیال کیا ہوتا۔تا ہم حا ل ہی میں سرمایہ کاری کی خوش کن اطلاعات بھی ہیں۔ مشیر اور معاون خصوصی غیرملکی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے حوالہ سے آئندہ چند ماہ میں اہم اعلانات کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم سے متعدد اہم تجارتی، صنعتی اور کاروباری وفود نے ملاقاتیں کی ہیں او رپاکستان میں سرمایہ کاری میں اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ ہانگ کانگ کی ہوچی سن پورٹ ہولڈنگز کمپنی نے 24 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے۔ وفد نے کراچی پورٹ پر نئے کنٹینر ٹرمینل کے لیے وزیراعظم عمران خان سے تبادلہ خیال بھی کیا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ کے مطابق وائٹ کالر کرائم میں پاکستان 9 درجے بہتری سے 112 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بدعنوانی سے متعلق شکایات کا دگنا ہونا نیب پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ امریکی جریدہ فوربز کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی سیکٹر سے امیدیں بڑھنے لگی ہیں۔ ڈیوڈ بلوم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پر امن پاکستان کا آئی ٹی شعبہ کشش کا سامان پیدا کرسکتا ہے۔ عالمی سودے پاکستان کی کمزور معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں۔ ملک نے آئی ٹی کے شعبہ کو امریکی کمپنیوں، سرمایہ کاروں میں متعارف کردیا ہے۔ ادھر سٹیٹ بینک آف پاکستان نے فارن ایکسچینج کے غلط استعمال، چوری چھپے رقم بیرون ملک منتقلی اور ضیاع کو روکنے کے لیے تجارت سے متعلق قوانین پر فریم ورک تیار کرلیا ہے جس کے بعد تجارت سے متعلق اینٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور بینک قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔ سٹیٹ بینک سے فارن ایکسچینج کمپنیوں کے سربراہان اور مجاز ڈیلرز کو جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ فارن ایکسچینج کے غلط استعمال اور ضیاع کو روکنے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں اور مجاز ڈیلرز موجودہ فارم میں کلائنٹ کی درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ سٹیٹ بینک کے سرکلر کے مطابق انڈر انوائسنگ کے ذریعے غیرملکی کرنسی غیرقانونی طور پر بیرون ملک منتقل ہوتی ہے اور تاجر برآمدی سامان کی مکمل اور درست معلومات فراہم نہیں کرتے۔ تجارت کی آڑ میں چوری چھپے رقم کی بیرون ملک منتقلی منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے کمرشل بینکوں کو بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ صارفین کو نئے قوانین سے متعلق آگاہی فراہم کریں۔ انڈر انوائسنگ کی روک تھام کیلئے تجارتی سامان کی مکمل تفصیلات بینکوں کو جمع کرانا ہوں گی۔ تجارتی مال کی مکمل مالیت درج کرانا لازمی ہوگا اور تجارتی سامان میں کمی بیشی یا ردو بدل قانونی جرم تصور کیا جائے گا۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف حکام کی گائیڈ لائن کی روشنی میں سٹیٹ بینک نے رقوم کی بیرون ملک منتقلی کے نظام کی نگرانی مزید کڑی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مذکورہ اقدام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔لیکن فی الحا ل حالت یہ ہے کہ معتبر وزرا کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ ہوری ہے۔ متعلقہ اداروں کے نوٹس میں بھی لایا جاچکا ہے مگر ایف آئی اے اور ایف بی آر حکام کارروائی کے لیے کسی کے منتظرمعلوم ہوتے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے مگر اس بات کی ضمانت کوئی تو دے کہ جعلسازی اور چوری چھپے بیرون ملک رقوم کی منتقلی کی سدباب میں ادارہ جاتی سطح پر کس قسم کا میکنزم بروئے کار لایا گیا ہے اور قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ جن وزراء، مشیر اور معاونین خصوصی نے بیرون ملک میں جمع لوٹے گئے اربوں ڈالرز کی وطن واپسی کے عمل سے معذوری کا سبب کیا تھا۔

ایک اخباری اطلاع میں کہا گیا ہے کہ خام مال کی درآمدات میں کمی کے باعث صنعتی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ مشیر تجارت رزاق دائود نے کہا کہ آٹو سیکٹر کی گرتی پیداوار خام مال کی درآمدات میں کمی کا ایک اہم سبب ہے۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ بے نامی قانون میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آرہی۔ ایک آٹو مینوفیکچرر کمپنی نے پیداوار کم ہونے کے باوجود ملازمین کی چھانٹی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا کی ایک اور رپورٹ کے مطابق ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے کے لیے آئی ٹی استعمال کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں نکلا۔ ان متفرق بیانات اور رپورٹوں پر ارباب بست و کشاد کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ معیشت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ملک میں ان دو محاذوں پر پیدا شدہ سیناریو میں لازم ہے کہ تجارتی اور صنعتی برادری کو اعتماد میں لیا جائے، ان کے خدشات دور کیے جائیں۔ مارکیٹ میں استحکام لایا جائے، سٹاک مارکیٹ میں مندی کے رجحان کی کیمسٹری پر نظر ڈالی جائے۔ اس ہفتے کے دو ران سٹا ک ما ر کیٹ کا ہنڈ ر ڈ انڈ یکس چھ سو پو ا ئنٹس سے زیا دہ نیچے گرا ہے۔ عوام کو ریلیف مہیا کرنے کے لیے مائیکرو اکنامک پیش رفت اور مہنگائی کے سیل رواں کو روکا جائے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح اس سال مزید بڑھ کر 6.1 فیصد سے 6.2 ہوجائے گی۔ اس انتباہ کا مطلب صاف واضح ہے کہ غریب اور بدحال لوگوں کی قوت خرید جواب دے جائے گی۔ ایک رپورٹ کے مطابق سبزیوں، دالوں، دوائوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ سستی ترین سبزیوں کی قیمتیں میں بھی دو سے تین فیصداضافہ کیا گیا ہے۔ لوگ دال روٹی بھی بمشکل اپنے بچوں کو دینے کے قابل رہ گئے ہیں۔ مہنگا ئی میں اضا فہ تو رہا ایک طر ف، اس پہ طر ہ یہ ہے کہ بڑ ھتی ہو ئی مہنگا ئی پہ کو ئی چیک اینڈ بیلنس بھی نہیں۔ چنا نچہ سر کا ری مہنگا ئی کے بعد اس میں دو کا ند ارو ں کی جا نب سے بھی مز ید مہنگا ئی کا عنصر شا مل ہو جا تا ہے۔ جس کا لا محا لہ ا ثر عوا م ہی کی جیب پر پڑ تا ہے۔


ای پیپر