تضادات سے بھرپور سیاست
20 اکتوبر 2019 2019-10-20

پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان اگر اس وقت حزب مخالف میں ہوتے تو وہ شاید اس وقت وہی الزام حکومت پر عائد کر رہے ہوتے جو اس وقت کی حزب مخالف ان پر عائد کر رہی ہے۔ ہر حکمران کو لگتا ہے کہ جو بھی شخص اس کی مخالفت کر رہا ہے وہ دراصل ملک کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ وہ حکومت کو لوگوں کی خدمت کرنے سے روک رہا ہے۔ اقتداری سیاست جو کہ اصولوں، نظریات اور اخلاقیات سے عاری ہو۔ اس کے نتیجے میں اقتدار حاصل کرنے والے ہر حکمران کو یہ لگتا ہے کہ اس کی حزب مخالف بلا جواز اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس پر بے جا تنقید کر رہی ہے۔ حکومت کو کام کرنے سے روک رہی ہے۔ ہر حکمران یہ بھول جاتا ہے کہ جب وہ حزب مخالف میں تھا تو اس نے حکومت وقت کو کیا کچھ کہا تھا۔ اسے گرانے اور کمزور کرنے کے لیے کونسے ہتھکنڈے استعمال کیے تھے۔ حکمران جو معیار اور کسوٹی دوسروں کے لیے طے کرتے ہیں وہ خود کو اس سب سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

مثلاً جب عمران خان اور ان کے سابقہ سیاسی کزن ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے 2014ء میں اسلام آباد پر یلغار کی تھی تو ان کا مؤقف تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے۔ لہٰذا وزیراعظم نواز شریف مستعفی ہوں اور دھاندلی کے معاملے پر کمیشن بنایا جائے اگر نواز شریف پر دھاندلی کے الزامات ثابت نہ ہوں تو وہ وزیراعظم کی کرسی پر واپس آ جائیں۔ 126 دن کے دھرنے کے بعد کمیشن بنا مگر منظم دھاندلی کے الزامات ثابت نہ ہو سکے مگر عمران خان کا مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر غصہ کم نہ ہوا۔

جب عمران خان نے دھرنا دیا تھا اور وہ اس وقت کی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے تھے تو وہ دھرنے اور احتجاج کے فضائل، افادیت اور ثمرات کے بارے میں بتایا کرتے تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور اس کے اتحادی دھرنے اور احتجاجی سیاست میں سے کیڑے نکالتے تھے۔ حکومتی وزراء دھرنوں اور احتجاجی سیاست کے نقصانات اور برے اثرات کے بارے میں قوم کو آگاہی فراہم کرتے تھے۔ اس وقت عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے دھرنا، لاک ڈاؤن، سول نافرمانی، ٹیکس نہ دینا اور بلوں کی عدم ادائیگی جمہوریت کی روح کے مطابق تھی اور ثواب کا کام تھا جبکہ حکومت کے نزدیک یہ سب کچھ ملک دشمنی اور ترقی کا راستہ روکنے کی سازش تھی۔

اس وقت صورت حال بہت دلچسپ ہے جو کچھ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور ان کے حامی تجزیہ نگار اور اینکر ز عمران خان کے دھرنے کے بارے میں کہتے تھے اب وہی کچھ تحریک انصاف کے وزراء اور اس کے حامی تجزیہ نگار اور اینکرز اب آزادی مارچ اور ممکنہ دھرنے کے بارے میں فرماتے تھے۔ عمران خان اگر مسلم لیگ (ن) کے نزدیک ولن تھے تو تحریک انصاف کے نزدیک مولانا فضل الرحمن ولن کا درجہ رکھتے ہیں جو رنگ میں بھنگ ڈالنے کی سنجیدہ اور بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ 70 سالوں سے بیان داغنے والے چہرے بدلتے رہتے ہیں مگر بیانات میں حیرت انگیز مماثلت اور یکسانیت پائی جاتی ہے۔ وہی غداری کے فتوے اور الزامات ملک دشمنی کے طعنے۔ وطن عزیز نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک میں بحرانی کیفیت ہے۔ معیشت کا دیوالیہ نکل چکا۔ یہ سب یہود و ہنود کی سازش ہے۔ یہ سب سنتے سنتے کان پک گئے ہیں۔ سیاستدانوں اور اصل حکمرانوں سے اگر کوئی اور چیز تبدیل نہیں ہوتی تو کم از کم بیانات ہی بدل لیں۔ وہی سبز باغ، وہی جھوٹے دعوے اور دلفریب خواب۔ وہی بے معنی اور بے مقصد نعرے اور کھوکھلے بیانات۔

صرف کرسیاں بدل جاتی ہیں، کردار بدل جاتے ہیں مگر حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔ غریبوں، محنت کشوں، کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کی زندگی مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ان کی تکالیف اور مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں مگر ان کی پروا کس کو ہے۔ اقتدار کے کھیل اور طاقت کی سیاست میں بھلا عوام کا کیا کام۔

تاجر ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ کاروبار مندے کا شکار ہیں۔ بیروزگاری اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کی اکثریت کے لیے روح اور جسم کا تعلق برقرار رکھنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ عوام کی اکثریت کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ مگر حکومتی وزراء اور خود وزیراعظم سب اچھا کا راگ الاپنے میں مصروف ہیں۔ اگر کچھ اچھا ہو جائے تو ساری حکومت اس کا کریڈٹ لینے کی دوڑ میں لگ جاتی ہے۔ کوئی اچھی خبر آجائے تو اسے اپنی حکومت کی فیوض و برکات کا ثمر بتایا جاتا ہے اور بری خبریں جو کہ تواتر سے آ رہی ہیں تو اس کے لیے سابقہ حکمران ذمہ دار ہیں۔

دوسری طرف اگر حزب مخالف سے پوچھا جائے کہ آپ کی تنقید تو جائز ہے ملک کے معاشی حالات واقعی خراب ہیں مگر ان مسائل کا حل بھی تو بتائیں تو وہ کہتے ہیں کہ وہ جیسے ہی حکومت میں آئیں گے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ بدقسمتی سے موجود حکومت نے اپنی غلط پالیسیوں سے معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے مگر حزب مخالف کے پاس بھی کوئی ٹھوس متبادل پروگرام اور پالیسیوں کا فقدان ہے جو اس بحران کا خاتمہ کر سکیں۔ کبھی عمران خان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو سٹے آرڈر ز کے پیچھے چھپنے کے طعنے کیا کرتے تھے مگر اب ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو سپریم کورٹ سے حکم امتناعی ملنے پر مبارک بادیں دی جاتی ہیں۔ اس وقت حلقوں کے کھولنے کا مطالبہ کیا جاتا تھا اب دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے اور حلقے کھولنے کے لیے تیار ہیں تضادات ہی تضادات ہیں۔


ای پیپر