دھرنوں سے اب ڈرناکیوں۔۔؟
20 اکتوبر 2019 2019-10-20

ہمارے گائوں میں ایک اونچی جگہ ہوتی تھی جو غالباً آج بھی ہے ۔اس ڈھلوان پرچڑھ کر گائوں کے اکثر نوجوان اوربچے اکٹھے ہوکرکبڈی،کرکٹ،گلی ڈنڈا اور آنکھ مچولی سمیت دیگرچھوٹے موٹے گیم کھیل کر انجوائے کرتے۔ ایک دن ہم اس ڈھلوان پر چند دوستوں کے ساتھ بیٹھ کرگپ شپ لگارہے تھے کہ پاس ایک بچے نے دوسرے کوکان سے پکڑتے ہوئے کہاکہ اس طرح کان سے پکڑکرپہلے میں آپ کوتھپڑماروں گاپھراس طرح تم مجھے کان سے پکڑکرتھپڑمارنا۔اس نے کہاٹھیک ہے ۔ہمیں بھی ایک تماشاملااس لئے ہم نے اپنی نظروں کے ساتھ ساری توجہ بھی ان دونوں بچوں کی طرف مرکوزکردی۔جس بچے نے یہ کھیل شروع کیا تھا اس نے دوسرے بچے کے کان کوپکڑتے ہوئے پوری طاقت سے اس کے چہرے پرایک تھپڑمارا۔اس کے بعدچہرے کوملتے ملتے دوسرے بچے نے پہلے والے کے کان کوہاتھ میں پکڑتے ہوئے ان کے چہرے پرایسے زور کا تھپڑ رسید کیاکہ وہ دردسے بلبلانے،چیخنے اور چلانے لگا۔نہیں نہیں ۔میں نے اتنے زورسے تھپڑ مارنے کانہیں کہا تھا۔اپنے چہرے کوملتے ہوئے وہ روتے جا رہا تھا اور دوسرے بچے کوگالیوں پرگالیاں دیئے جارہاتھا۔ پھر کیا ہوا۔۔؟یہ توہمیں یادنہیں لیکن آج مولانافضل الرحمن کے آزادی مارچ اورممکنہ احتجاجی دھرنے پرجب 126دن ڈی چوک میں دھرنادے کراسلام آباد کو یرغمال بنانے والوں کی چیخ وپکار،آہ وبکا،رونادھونااورگالم گلوچ ہم دیکھتے ہیں توہمیں فوراًوہ گالیاں دینے والا چیختا چلاتا بچہ یادآجاتاہے۔مارچ اوردھرنے کاکھیل پہلے کس نے شروع کیا۔۔؟ایک منتخب اورجمہوری حکومت کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں اپنے لائولشکرسمیت 126دن کاتاریخی دھرناکس نے دیا۔۔؟اپنے تعلیم یافتہ اورقوم کادرددل رکھنے والے پارٹی عہدیداروں اورکارکنوں کے ہمراہ پی ٹی وی سنٹرپردھاواکس نے بولا۔۔؟ڈی چوک میں دھرنا سجا کر قوم کوبجلی اورگیس کے بل جلانے کی تعلیم کس نے دی۔۔؟ قوم کوظالم حکمرانوں سے اپنے حقوق چھین کرلینے کے لئے گھروں سے نکلنے، احتجاج، مارچ اور دھرنا دینے کادرس کس نے دیا۔۔؟سادہ لوح عوام کو جلائو اور گھیرائو کے مفت مشورے کس نے دیئے؟ گستاخی معاف۔ اس وقت ملک میں جوکچھ ہورہاہے یہ سنت عمرانی پرمن وعن عمل ہی توہے۔ہماری اس سادہ لوح قوم کواحتجاج،مارچ اوردھرنوں کاکیاپتہ تھا ؟ انہوں نے توآج تک کسی حکمران کے سامنے زبان بھی نہیں کھولی ۔سابق وزیراعظم نوازشریف سے ہماراکوئی لینادیناتھانہ ہی اب یہ مولاناہمارے کوئی رشتہ دارہیں ۔نوازشریف جب اقتدار سے دوپائوں اورخالی ہاتھ جیل گئے توہم نے بھی کہاکہ اچھاہوا۔نوازشریف کے اقتدارسے جانے پرجتنی خوشی تمہیں ہوئی اس سے کہیں زیادہ خوش ہم بھی ہوئے۔ حکمران اگر رعایا کو گھر کی لونڈی سمجھے،غریبوں کے حقوق ہڑپ کریں۔جعلی پولیس مقابلوں اوربے انصافیوں کو ہوا دیں۔ اللہ کوبھول کرظلم وستم کواپناشعاربنائے تو انہیں پھرجیل ہی جانا چاہیئے۔ نواز شریف یوں جیل نہیں گئے۔ بطور حکمران ان سے ایسی کوئی غلطی، گستاخی، گناہ، جرم اورظلم ایساکوئی ضرورسرزدہوا کہ جن کی وجہ سے وہ اس مقام تک پہنچے۔کسی ظالم ،گناہ گاراورمجرم کواگران کے کالے کرتوتوں کی سزاملے توہمیں اس پر بھلا کیا اعتراض ؟ لیکن ہاں ایک منتخب حکومت اورجمہوریت کے خلاف مولاناکے احتجاج،مارچ اوردھرنے پرماضی کی طرح ہمیں اعتراض ضرورہے مگرانتہائی معذرت کے ساتھ اس احتجاج،مارچ اوردھرنے کے جدامجدبھی وزیراعظم عمران خان اوران کی تحریک انصاف خود ہے۔ عوام کواپنے حقوق اورظلم کے خلاف باہرنکلنے کادرس وزیراعظم عمران خان نے ہی دیاکسی اورنے نہیں ۔عوام اگرایک منتخب وزیراعظم نوازشریف کے خلاف گھروں سے نکلے توپھروہ آج کے ان کے خلاف کیونکرنہیں نکلیں گے ؟ ملک وقوم کے مفادمیں اٹھائے جانے والے ہراقدام اورحق وسچ کی ہم نے ہمیشہ حمایت کی لیکن اپنے کرتوت چھپاکردوسروں کی طرف انگلی اٹھانے کونہ ہم نے پہلے اچھاسمجھااورنہ ہی اس حرکت کوہم آج اچھی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ جمہوریت سے ہمیں بھی حدسے زیادہ محبت ہے لیکن مولاناکے آزادی مارچ کوجولوگ آج جمہوریت پرحملہ قراردیکرآسمان سر پر اٹھا رہے ہیں یہ محب وطن اور جمہوریت کے علمبردار تحریک انصاف کی اسلام آباد پر یلغار کے وقت کہاں سوئے ہوئے تھے؟ جولوگ آج مولانا کو اتحاد و اتفاق اورسیاسی مصلحت کی تعلیم دے رہے ہیں ان کی زبانیں پی ٹی آئی دھرنے کے وقت کیوں خاموش رہیں؟ ہم نہ پہلے کبھی جمہوریت کے خلاف رہے اورنہ ہی آج ہماری جمہوریت سے کوئی دشمنی ہے۔اوروں کی طرح ہم بھی چاہتے ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت پلے پھولے مگر،،جیساکروگے ویسا بھرو گے،، سے توہمیں کیا ؟ کسی کالے کافر کوبھی انکارنہیں ۔یہ توقانون فطرت ہے کہ انسان جوبوتاہے وہی پھر کاٹتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈی چوک میں 126دن کاتاریخی دھرنا دیکر جوبیج بویاتھاآج اسی کے کاٹنے کاوقت آ گیا ہے۔ ایک منتخب جمہوری حکومت کے خلاف اگر وزیراعظم عمران خان احتجاج اورآزادی مارچ کرکے دھرنانہ دیتے توآج مولانا کو بھی آزادی مارچ کاخیال کبھی نہ آتا۔ مولانا کا مارچ آج اگرغلط ہے توپھرتحریک انصاف کے دھرنے اور مارچ کوبھی کسی طرح ٹھیک نہیں قراردیاجاسکتا۔ہم روزاول سے ہی یہی کہتے آرہے ہیں کہ جوچیزتم اپنے لئے پسندنہیں کرتے وہ دوسروں کے لئے بھی پسندنہ کرو مگرافسوس اقتدارکی رنگینیوں میں مدہوش ہوکرہمارے یہ نادان حکمران دوسروں کے لئے ایسے ایسے کھڈے کھودجاتے ہیں جس میں یہ پھر خود منہ کے بل گرجاتے ہیں ۔مولاناکااحتجاج اور دھرنا وزیراعظم عمران خان کی سنت پرعمل نہ بھی ہوتویہ قدرت کی طرف سے ان کے لئے ایک وارننگ ضرورہے۔یہ اقتدار،کرسی ،طاقت اورحکمرانی ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہنی۔آج عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں توکل کونوازشریف دوبارہ وزیراعظم بن سکتے ہیں۔حقیقی حکمرانی توصرف اللہ ہی کی ہے ۔یہ زمینی حکمرانی، اقتداراورکرسی تواس رب کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے جواس میں کامیاب ہواوہ دونوں جہانوں میں سرخروہوجاتاہے لیکن جوحکمران طاقت کے نشے میں خداکوبھول جاتے ہیں وہ پھر کوٹ لکھپت،اڈیالہ جیل اورنیب دفاترکے چکر پر چکر لگاتے پھرتے ہیں۔عوام کوکیڑے مکوڑے اوراحتجاج کرنے والوں کودوسری دنیاکی مخلوق سمجھنے والوں کوایک بات یاد رکھنی چاہیئے کہ کل کوکوٹ لکھپت ،اڈیالہ جیل ،ٹارچرسیل اورنیب کے حراستی مراکزان کی بھی منزل ہوسکتی ہے۔ویسے چھاننی اگراٹھ کے کوزے کوکہے آپ میں دوسوراخ ہے توپھردنیااس پرصرف ہنستی نہیں بلکہ قہقہے بھی لگاتی ہے۔اقتداراورکرسی کے چکرمیں ایک طویل دھرنے اورناچ گانے کے ذریعے اسلام آباد کو تماشا بنا کر آسمان کو سر پراٹھانے والوں کودوسروں کواخلاقیات کادرس دینے سے پہلے کم ازکم ایک باراپنے گریبان میں ضروردیکھناچاہیئے۔جولوگ کل تک چوکوں اورچوراہوں پرسرعام احتجاج،جلسے،جلوس،مارچ اوردھرنوں کوعوام کابنیادی حق اورظالم حکمرانوں کے خلاف فرض قرار دیتے رہے ان لوگوں کواب احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں، تاجروں،اساتذہ اورغریب عوام پرلاٹھیاں اورڈنڈے برساتے ہوئے کچھ شرم کرنی چاہیئے۔ان کواب یہ زیب نہیں دیتاکہ یہ مولانایاکسی اوراحتجاج کرنے والے کاراستہ روکیں۔عقل کے ان کوروں نے سادہ لوح عوام کوجوشعوردیاتھایہ تو اس کی شروعات ہیں۔ایسے ہی موقع پرتوکسی شاعرنے کہاتھاکہ

ابتدائے عشق ہے روتاہے کیا

آگے آگے دیکھئے کہ ہوتاہے کیا


ای پیپر