ڈاکٹر یا قصائی
20 اکتوبر 2019 2019-10-20

قصائی بنیادی طور پر کسی قوم یا ذات کا نام نہیں ہے۔ دراصل یہ ایک پیشہ ہے جو صدیوں سے بلکہ ازل سے چلا آ رہا ہے۔ ہر وہ شخص جو چرند پرند سے لے کر چوپایا حتیٰ کہ کسی انسان تک کی انا کو ذبح کر دے قصائی کہلاتا ہے۔ قصائی کو عام انسان سے ذرا ہٹ کر بے رحم اور سخت دل تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ اس کو جانور ذبح کرتے ہوئے خوف اور ڈر محسوس نہیں ہوتا۔ قصائی بڑی بے رحمی اور پتھر دلی سے چو پائے کے گلے پر چھری پھیر دیتا ہے۔ جبکہ قصائی کے مقابلے میں عام آدمی پرندہ ذبح کرنے سے بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے اور نرم دلی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اسی طرح روز مرہ زندگی میں آئے دن ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ قصائی کی دکان پر گاہک کی لڑائی ہو گئی اور قصائی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، چھری گاہک کے پیٹ میں گھونپ دی۔ بات پہنچی تیری جوانی تک اور معاملہ بگڑ گیا۔ میں نے اٹھائیس سال قبل غلام عباس کے افسانے ’’کتبہ‘‘ کا مطالعہ کیا تھا۔ جب یہ افسانہ پایہ تکمیل کو پہنچا تو مجھ پر ایک عجیب و غریب فسوں اور ڈپریشن طاری ہو گیا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا اس افسانے کی گرفت میری دماغی اور دلی کیفیت پر مضبوط ہوتی گئی۔ مجھ پر انسانی ناپائیداری، خواہشات ، احساسات اور جذبات کے بہت سے پہلو وا ہوتے گئے۔ لفظ ’’کتبہ‘‘ نے میری ذہنی استعداد اور صلاحیت میں اس قدر ارتعاش پیدا کی کہ آج تک میں جب بھی قبرستان جاتا ہوں تو میری پہلی نظر قبروں پر لگے ’’کتبوں‘‘ پر پڑی ہے اور میرے اندر میں چھپے ناپائیداری، فضا اور حسرت ناتمام جیسے جذبات جا گ اٹھتے ہیں۔ افسردگی، بے چارگی، لارچاگی دامن گیر ہو جاتی ہے اور میں فوراً پکاراٹھاتا ہوں

میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں

آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں

اس کے بعد میں صاحب اسرار ہونے کا حق کھو بیٹھا ہوں۔ سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک ایک رحمت بھی ہے اور زحمت بھی ہے۔ آپ کی ہر طرح کی معلومات میں ٹھوس اضافہ بھی ہوتا ہے مگر بہت سے معاملات میں گمراہ ہونے کے خدشات حد درجہ موجود ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں ملتان کے ایک دوست نے ایک’’کتبہ‘‘ شیر کیا۔ کتبے پر عبارت یوں تھی کہ فلاں بنت فلاں (نام ظاہر نہیں کروں گا) عمر 37 سال۔ تاریخ وفات اتنی… تاریخ دفن اتنی… نام قاتلہ ڈاکٹر فلاں بنت فلاں… استفسار پر پتہ چلا کہ اناڑی سرجن نے دوران ڈلیوری ہی مریضہ کا کام تمام کر دیا۔ موت برحق ہے۔ اس کا وقت بھی مقرر ہے ۔ اس سے منحرف یا انحراف کی گنجاش بھی نہیں ہے۔ مگر احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دینا لاپروائی، غفلت اور بے حسی کو جنم دیتا ہے۔ جو تمام مسائل کی جڑ ہے۔

ہمارے ہاں الٹی گنگا بہنے کا رواج ہے۔ عقل کے اندھوں کو مجنوں نظر آتی ہے اور لیلیٰ نظر آتا ہے اور ویسے بھی میں یہ بات گوش گزر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی کام بار بار سر انجام دینے سے انسان کے اندر ٹھوس اعتماد کی فضا بھرپور طریقے سے قائم ہو جاتی ہے اور بے حسی، پتھر دلی جیسے جذباتجنم لے لیتے ہیں اور اندر کا قصائی جاگ جاتا ہے۔ ڈاکٹر کا پتہ انتہائی مقدس ترین پیشوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس لیے ان کو ’’مسیحا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں انسان کے شریر میں بے شمار بیماریاں جنم لے چکی ہیں۔ بائیس کروڑ آبادی میں شاید سینکڑوں لوگ مکمل صحت یاب ہوں گے۔ اس کی بنیادی وجہ تو ملاوٹ، ناقص غذا، جعلی مشروب اور معاشرے میں پایا جانے والا دباؤ اور ڈپریشن ہی گردانا جاتا ہے۔ ان تمام بیماریوں کا علاج ڈاکٹروں کے پاس ہے جس ملک میں ادویات مہنگی اور ڈاکٹروں کی بے حسی اور بے جا فیس آسمانوں سے باتیں کرتی ہوں۔ اس معاشرے میں اخلاقیات اور سماجی رویے دم توڑ جاتے ہیں۔ جب ڈاکٹر ہسپتالوں کی بجائے اپنے ذاتی کلینکوں پر مریضوں کا چیک اپ کریں گے تو مادہ پرستی کی حد ہو جائے گی۔ جب فیس نہ ہونے پر مریض کی انا ذبح کی جائے گی تو معاشرے میں انسانیت اٹھ جائے گی۔ جب نمونے کے طور پر ملنے والی ادویات کو فروخت کیا جانے لگے گا تو لالچ اور حرص کی انتہا ہو جائے گی۔ جب ڈاکٹر خود اس کمپنی کی دوائی مریض کو لکھ کر دے جو کمپنی ڈاکٹر کی گاڑی کے ٹائر، گھر میں فریج ، اے سی، فرنیچر اور فائیو سٹار ہوٹلوں کی بکنگ تک مہیا کرے گی تو ڈاکٹر پھر اپنے اندر کے قصائی کو پوری طرح باہر اجاگر کر دے گا۔ جب کمپنیاں ڈاکٹر کو بیرون ممالک کی سیریں کروائیں گی تو ڈاکٹروں کی انسانیت اور مسیحا پن مر جائے گا۔ جب ڈاکٹر صرف چند ہزار روپوں کی خاطر نارمل ڈلیوری کو آپریشن میں تبدیل کر دے گا تو اس کا وجود کسی شیطان سے کم نہیں ہو گا جو ڈاکٹر نارمل شخص کو دل کا مریض قرار دے دے گا اور جعلی Stunt ڈلوا کر اپنا کمیشن وصول کرے گا تو وہ ڈاکٹر کسی ’’آڑھتی‘‘ اور کمیشن ایجنٹ سے کم نہیں ہو گا اور تعلیم نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا ہو گا بلکہ اس کے اندر کی انسانیت کو مار دیا گیا ہو۔ اس طرح کے لاکھوں معاملات ڈاکٹرز کی ذات او رپیشے کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں اور روز بزوز ناسور کی شکل اختیار کر رہے ہیں اور دوسری اہم بات کے ان حضرات کے اندر سے خوش اخلاقی اور رحم دلی نکل چکی ہے اور ان کے رویے بیورو کریٹک ہو چکے ہیں۔ یہ احباب اپنے آپ کو اعلیٰ و ارفع اور الگ تھلگ مخلوق بلکہ ’’خلائی مخلوق‘‘ تصور کرنا شروع ہو گئے ہیں۔

موجودہ حکومت جو ہر دوسرے جلسے اور ہر دھرنے میں اس بات پر زور دیتی تھی کہ ہم برسر اقتدار آتے ہی صحت کے شعبے کو اولین ترجیح دیں گے اور شعبہ صحت کو جدید سہولتوں سے آراستہ و پیراستہ اور مزین کریں گے مگر ان کا یہ وعدہ بھی غلط ثابت ہوا اور اب تک ہنوز دلی دور است‘‘ والی بات ہے۔ موجودہ حکومت کو آئے ہوئے چودہ مہینے ہونے کو ہیں صحت تو کیا صحت مند عوام بھی بیمار ہو گئے ہیں ۔ ڈاکٹر ہسپتالوں کی بجائے کلینکوں تک محدود ہونے شروع ہو گئے۔ ہسپتالوں میں ادویات تک کا نام و نشان نہیں ہے۔ادویات مہنگی سے مہنگی ہو چکی ہیں اور موت انتہائی سستی ہو گئی ہے۔ اگر اس شعبے کو بہتر نہ کیا گیا؟ عوام کو صحت جیسی نعمت میں دشواریاں آنے لگیں؟ ادویات مہنگی سے مہنگی ہونے لگیں؟ ڈاکٹر کی فیس اور زیادہ ہو گئیں۔ جعلی آپریشن میں بہتات ہو گئی۔ موت ارزاں ہو جائے گی …تو وہ دن دور نہیں کہ چو پائے قصائیوں کو دیکھتے ہی بھاگ جائیں گے اور مریض ڈاکٹروں کو دیکھتے ہی عدم سدھارنا شروع ہو جائیں ۔نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔


ای پیپر