مولانا ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
20 اکتوبر 2019 2019-10-20

یار دوست پوچھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان ایسا کیوں کر رہے ہیں، انہوں نے تو کبھی ایسا نہیں کیا بلکہ تہتر کے آئین کے تناظر میں ہمیشہ کوئی راستہ نکالا،دُور کی بات ہی کیوں جائے پرویز مشرف کے مارشل لا کو آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دیا گیا اور پھر وہ بھی عین آئینی راستہ تھا جب بلوچستان میں تبدیلی کی راہ ہموار کی گئی جس کے نتیجے میں مسلم لیگ نون کی سینیٹ میں اکثریت کی راہ روکی گئی۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ مولانا غصے میں ہیں مگر جب میں یہ جواب مولانا کے حامیوں کے سامنے رکھتا ہوں تو وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا سرکاری ملازمین بھی غصے میں ہیں، ڈاکٹر بھی غصے میں ہیں، تاجر بھی غصے میں ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ صحافی اور تجزیہ کار بھی غصے میں ہیں جنہوں نے عمران خان کی حکومت لانے کے لئے دن رات ،جھوٹ سچ سب ایک کئے۔

ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ مولانا کے پیچھے کو ن ہے تو اس کا جواب کون سیانا بندہ دے کہ بہت ساروں کے پاس ان تمام ملاقاتوں کی تفصیل موجود ہے جو حال ہی میں ملک کے اہم ترین حلقوں کی تاجر برادری کے ساتھ ہوئیں۔وہ نہیں مانتے کہ ملک میں غربت ہے کہ جس ملک میں غربت ہے وہاں تو لوگ چوہے کھاتے ہیں، کیا یہاں لوگ چوہے کھاتے ہیں۔ مہنگائی کی بات کی جاتی ہے تو کیا ہمارے سکولوں کے باہر بڑی اور قیمتی گاڑیوں کی قطاروں میں کوئی کمی واقع ہوئی۔جب کوئی یہ بات کرتا ہے کہ کرپشن بہت ہے اور کرپٹ لوگوں کے لئے پھانسی کی سزا ہونی چاہئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خود تاجروں میں اتنے کرپٹ ہیں کہ اگر پھانسی کی سزا کا فیصلہ ہو گیا تو ملک کے ستر فیصد تاجر پھانسی چڑھ جائیں گے۔ ان تاجروں کو کچھ سوچنا چاہئے اورملکی ترقی میںا پنا کردارادا کرنا چاہئے جس طرح سیالکوٹ کے تاجروں نے اپنا ائیرپورٹ تک بنا لیا تو کیا ہمارے کراچی کے تاجر شہر کا کوڑا تک نہیںاٹھا سکتے۔ یہ سوال اس لئے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ ماضی میں تحریکیں ہمیشہ کہیں اور سے چلتی رہی ہیں اور اب بھی یہی یقین ہے کہ پیچھے کوئی نہ کوئی ضرور ہے، یہ بات سیاسی ایمان اور عقیدے کا حصہ ہوتی چلی جا رہی ہے کہ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے کہ بھلا یہ خود سے کب ہوتا ہے کہ ایک درخت اگے، وہ خودبخود کٹے،نیچے گرے اوراس کے تختے بنیں، وہ تختے ایک کشتی کی صورت جڑ جائیں اور وہ کشتی ملاحوں، بادبانوں اورچپوو¿ں کے بغیر ہی مسافروں کو منزل تک پہنچا دے، کیا ایسا ہوتا ہے؟

اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر یہ تاجروں نے اپنی ہڑتال کیوں مولانا کے آزادی مارچ کے ساتھ جوڑ لی ہے۔میں نے انجمن تاجران پاکستان کے جنرل سیکرٹری نعیم میر سے پوچھا کہ کیا یہ محض اتفاق ہے تو وہ بولے ، ہمیں کیا علم کہ کون سے مولانا کب مارچ کر رہے ہیں، ہمارے تو اپنے مسائل ہیں، ایف بی آر کی طرف سے ہمارے ساتھ مسلسل وعدہ خلافی کی جا رہی ہے، ہم اس سے پہلے بھی ہڑتال کر چکے، ہم تاجر بچاو¿ مارچ بھی کر چکے۔ فیصل جبوانہ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر ہیں، خاندان ایسا کہ جھنگ سے ہمیشہ اپنے وقت کے طاقت ور ترین امیدوار کو پچھاڑ کر آزاد جیتتا آیا ہے ، کمال کی سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں، انہیں دال میں کچھ کالانظر آتا ہے تونعیم میر کہتے ہیں، فیصل جبوانہ اپنے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم سے پوچھ کر بتا دیں کہ ہم تاجر کس روز ہڑتال کریں، ہم ان پر چھوڑ دیتے ہیں کہ مسائل تو انہوں نے حل نہیں کرنے۔میں نعیم میر سے کہتا ہوں کہ آپ مارچ اور ہڑتال اکٹھے ہورہے ہیں، یہ مولانا سے عجب اتفاق ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم مولانا سے اس وقت اتفاق کریں گے جب وہ انجمن تاجران پاکستان کی پرچی بھر کے ہمارے رکن بنیں گے، ابھی ہمارا اور ان کا کوئی تعلق نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس اتفاق کو سازش سمجھنے والے بھی درست کہتے ہیں اور اس اتفاق کو سازش نہ سمجھنے والے بھی درست کہتے ہیں، اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ایک وقت یہ دونوں کیسے درست کہہ سکتے ہیں تو میرا جواب ملا نصیرالدین والا ہے کہ اعتراض کرنے والے بھی درست کہتے ہیں۔

ہمارے جن دوستوں کو جناب عمران خان کا دھرنا درست لگتا تھا انہیں مولانا فضل الرحمان کا دھرنا غلط لگتا ہے اور ہمارے وہ دوست جنہیں مولانا فضل الرحمان کا دھرنا درست لگتا ہے انہیں عمران خان کا دھرنا غلط لگتا تھا۔ اصل میں یہ دونوں بھی درست کہتے ہیں کہ حساب کے عدد 6 کی مخالف سمتوں میں کھڑے ہیں، جو اس کو نیچے سے دیکھ رہے ہیں انہیں یہ چھ لگتا ہے اور جو اوپر سے دیکھ رہے ہیں انہیں یہ نو لگتا ہے مگر ایک سوال دلیل کے ساتھ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں کون سی بات آئین اور قانون کے منافی ہے۔ کیا مولانا ہائی کورٹ کی طرف سے روکے جانے کے باوجود مارچ کر رہے ہیں ،نہیں، ہائی کورٹ نے توکہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ کیا مولانا فضل الرحمان سول نافرمانی کی کال دے رہے ہیں تو مجھے ابھی تک ان کا کوئی ایک بیان بھی ایسانہیں ملا۔ کیا مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے پاکستانی بینکنگ چینل کے بجائے ہُنڈی کے ذریعے پیسے بھیجیں ، نہیں نہیں، مولانا ایسی بات کیسے کر سکتے ہیں۔کیامولانا نے یہ کہا ہے کہ بجلی کے ہوش ربا اضافے وا لے بل ادا کر نے کی بجائے جلا دئیے جائیں تو مجھے یہ بھی نہیں لگتا کیونکہ انہیں علم ہے کہ بل ادا نہ کر کے کوئی اپنی بجلی نہیںکٹوائے گاکہ پھر اسے بتانا پڑے گاکہ اس کی بیوی کو گرم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور گیزر چلانا پڑتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کیا غلط کر رہے ہیں کہ یہ سوال کیا جائے کہ مولانا ایسا کیوں کر رہے ہیں۔

ہاں ! ایک مو¿قف ضرور ہے کہ مولانا جو کچھ کر رہے ہیں وہ غلط تو نہیں مگر کچھ جلدی کر رہے ہیں، انہیں ایک ،آدھ برس مزید انتظار کرنا چاہئے تھا۔ یہ بات زیادہ تر پیپلزپارٹی والے کر رہے ہیں اور شائد وہ چاہتے ہیں کہ اس ایک برس میں عوام کی آہوں اور سسکیوں کے ساتھ چیخیں بھی نکلیں اور وہ اس تبدیلی کو پوری انجوائے کر لیں جسے کچھ ووٹربھی اپنے ووٹ کے ساتھ لائے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے تو مولانا کے دھرنے سے لاتعلقی کے اعلان پریوٹرن لے لیا ہے اوردوسر ی طرف وزیراعظم عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ مولانا فضل الرحما ن کے پاس سات روزتک دھرنادینے کی صلاحیت موجود ہے مگر وہ یہ بتانا بھول گئے کہ مولانا کا دھرنا ان کے دھرنے جیسا ہومیوپیتھک اور ممی ڈیڈی نہیں ہوگا جس میں روزانہ شام کو ہونے والی کسی فلمی سی پکنک کامنظر ہوتا تھا۔ایک طرف تاجروں کی ملک گیر ہڑتال ہو گی اور دوسری طرف آزادی مارچ ہو رہا ہو گا تودل دھڑک رہا ہے کہ نومبر اور دسمبر خیر والے نہیں ہو ں گے اور اگرافواہوں کے مطابق واقعی فوج طلب کر لی گئی تو پھر ہمیں اپنے ملک کے لئے خصوصی دعائیںمانگنی چاہئیں۔ ناتجربہ کار ڈرائیورجوش اور جنون میں ملک کی گاڑی کو پہاڑ سے ٹکرانے لے جا رہا ہے۔میں نے اپنی صحافتی زندگی میں اس سے بری ڈرائیونگ اور تباہ کن حادثے کا خوف اس سے پہلے نہیں دیکھا۔ میں اب مولانا کے بارے نہیں پوچھتا کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں بلکہ اب میرا سوال عمران خان سے ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں، اگر انہیں ڈرائیونگ نہیں آتی تو وہ ڈرائیونگ سیٹ چھوڑ کیوںنہیں دیتے، وہ اپنے بارے نہیں سوچتے، رسک لیتے ہیں تو وہ مسافروں اور گاڑی کے بارے ہی سوچ لیں، ہفتہ دس دن سوچنے کے لئے بہت ہوتے ہیں۔


ای پیپر