Pakistan is committed to protecting children's rights, Foreign Office spokesman
20 نومبر 2020 (11:53) 2020-11-20

اسلام آباد: بچوں کے عالمی دن کے موقع پر ترجمان دفتر خارجہ نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان ہر بچے کے بڑھنے ، سیکھنے ، کھیلنے اور پھلنے پھولنے کے حق کی تصدیق کرتا ہے، بچوں کے حقوق ، تحفظ کو برقرار رکھنے کے پابند ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری کی جانب سے پیغام جاری کیا گیا کہ پاکستان نے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں، پاکستان چائلڈلیبر، جبری شادیوں اوروائلنس کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے، پاکستان بچوں کوخوراک ، تعلیم اور صحت مند ماحول کا حق فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے رواں سال اگست میں پسماندہ بچوں کو خوراک اور غذائیت کی فراہمی اور ان نشوونما کے لیے غذائیت کی کمی کو دور کرنے کے لئے احساس نشوونما پروگرام کا افتتاح کیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ احساس نشوونما پروگرام کے تحت اس وقت 9 اضلاع میں 22 نشوونما مراکز کام کر رہے ہیں،اس سال کے آخر تک احساس نشوونما پروگرام کو 12 اضلاع کے 52 مراکز تک بڑھایا جائے گا جبکہ پروگرام کے الگ الگ سلسلوں کے تحت ، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کے بچوں کو مفت تعلیم اور وظائف فراہم کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19 وبائی مرض نے ترقی پذیر ممالک میں بچوں کے لئے کثیر الجہتی چیلنجز کو اجاگر کیا ہے،بڑھتے ہوئے قرضے ، بے روزگاری ، غربت اور بیماری بچوں کی نشو ونما میں رکاوٹ اور ان کی کمزوری کا باعث بنتے ہیں جبکہ بچوں کے عالمی دن کو کوویڈ 19 وبائی مرض کے تناظر میں بچوں کی صحت اور ان کی سماجی و اقتصادی زندگی پر اثرات کو کم کرنے کے عالمی عزم کو تقویت دینے کے لئے ایک یادگار یاد دہانی کے طور پر کام کرنا چاہیے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بچوں کے عالمی دن پر بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں بچوں کی حالت زار کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے،دنیا کی سب سے بڑی جیل(مقبوضہ جموں کشمیر) میں مقیم یہ بچے عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ کی فوری توجہ کے مستحق ہیں،مقبوضہ جموں کشمیر میں پندرہ ماہ سے طویل جسمانی اور ڈیجیٹل محاصرے میں گھروں کے انہدام ، من مانی نظربندیاں، طاقت کے استعمال سے بچوں کو صدمہ پہنچایا جا رہا ہے،مقبوضہ جموں کشمیر میں بچو ں کو زندگی ، تعلیم اور صحت سے متعلق ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے جبکہ عالمی برادری کو مقبوضہ جموں کشمیر میں مظلوم بچوں کی حالت زار کا نوٹس لینا چاہےے،عالمی برادری کوبھارت پر زور دینا چاہئے کہ وہ اپنی غیر قانونی اور غیر انسانی پالیسیوں اور طرز عمل کو فوری طور پر بند کرے اور مقبوضہ جموں کشمیر یں بھارت کی پالیسیاں بچوںسے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن تحت عائد ذمہ داریوں کے منافی ہیں۔


ای پیپر