Campaigns to target unarmed protesters are becoming more violent
20 نومبر 2020 (10:37) 2020-11-20

عراق جس سنگین بحران سے دوچار ہے، اگر سیاستدانوں، ارکان پارلیمنٹ اور ملٹری ایجنسیوں نے صورتحال کو بہتر بنانے اور تیسرے فریق کا راستہ بند کرنے کے مؤثر اقدامات نہ کئے تو یہ ملک نیا شام ثابت ہو سکتا ہے۔ غیر مسلح مظاہرین کو نشانہ بنانے کی مہم جوں جوں مزید پُرتشدد ہو رہی ہے، جلد مظاہرین جواب میں تشدد کی راہ اختیار کر لیں گے۔ چہروں پر ماسک چڑھا کر جرائم کا ارتکاب کرنے والے نامعلوم افراد جو کہ تیسرے فریق کے طور پر پیش کئے جا رہے ہیں، انہی ملیشیاؤں کے ارکان ہیں جو تنخواہیںعراقی حکومت سے وصول کرتے ہیں مگر وہ غیر ملکی طاقتوں کے وفادار اور انہی کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ اکتوبر میں شروع ہونیوالے ان مظاہروں میں 450کے لگ بھگ مظاہرین ہلاک جبکہ بیس ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ بغداد میں جمعہ کے روز مظاہرین پر حملہ سنگین ترین تھا، جب نامعلوم افراد نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں 25 افراد کو ہلاک ہو گئے۔ اس حملے کے دوران پولیس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے۔

کوئی شخص حملہ آوروں کو نام سے شناخت نہیں کر سکتا۔ مگر یہ بات کوئی راز نہیں کہ عصائب اہل حق یا کوئی دوسری ملیشیا اس کارروائی میں ملوث تھی اور منظم تشدد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ عراقی ریاست کا کنٹرول بتدریج کمزور تر ہوتا جائیگا۔ یہ ملیشیائیں اس لئے محاذ آرائی کی جرأت کر رہی ہیں کیونکہ کوئی انہیں نام سے نہیں پکارتا؛ انہیں سرکاری سطح پر کبھی متنبہ نہیں کیا گیا اور وہ خود پر لگی نیم سرکاری چھاپ کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ان ملیشیاؤں کے اخراجات پورے کرنا عراقی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر وہ عراقی حکومت کے احکامات کی پابند ی نہیں کرتیں۔ انہیں تابع فرمان بنانے کی عراقی حکومت کی اب تک کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ عراقی فوج جو کہ مکمل طور پر ایک ریاستی ادارہ ہے، ان کی سرگرمیوں کو صرف دیکھتا ہے، مداخلت نہیں کرتا حالانکہ فوج کیلئے انہیں کچلنا کوئی مشکل نہیں۔ ان ملیشیاؤں کو فوج میں ضم کرنے کی باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں، حالانکہ وہ ریگولر فورس نہیں، پھر ان کا رویہ ایسا ہے کہ جیسے غیر ملکی ہوں۔

بڑی طاقتوں اور ہمسایہ ملکوں میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ عراق میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو؛ مگر ان سب کو اس بات پر سخت تشویش ہے کہ تہران اس ملک کی فیصلہ سازی اور سیاسی اداروں کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ ایران کو داخلی سطح پر سنگین مالی، معاشی اور داخلی سکیورٹی کی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان حالات میں تہران کی نظریں عراق پر ہیں جس کی حکومت انتہائی کمزور ہے۔ یہاں اسے مظاہرین کا سامنا ہے جو کہ عراق کے سیاسی نظام میں تبدیلیوں کیلئے سرگرم ہیں، اس لئے تہران کی نظر میں انہیں دبانا ضروری ہے۔

مظاہرین سے متعلق ریاست کو خوف کا شکار بنانے والا حلقہ دراصل ایک ایسی تبدیلی کی کوشش میں ہے جس میں ریاست کے دیگر ادارے بھی اس کے کنٹرول میں آ جائیں، جس میں داخلی اور خارجی وزارتیں شامل ہیں۔ بدترین انتشار کے باوجود مظاہروں کا یہ حیران کن پہلو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے کہ غیر حقیقی مطالبات کے باوجود مظاہرین دراصل حکومت کی آئینی حیثیت مستحکم بنا رہے ہیں، کیونکہ وہ سسٹم میں رہتے ہوئے تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، بغاوت کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنا نہیں چاہتے۔ وہ ریاستی اداروں کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کے سب سے بڑے مطالبات جلد انتخابات، کرپشن میں ملوث افراد کا احتساب، آئین اور قانون کی حکمرانی اور آئینی اداروں کے فعال کردار پر زور دینا ہے، جو کئی سال سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس ملیشیائیں اور کچھ سیاسی قوتیں مظاہرین کے مطالبات مسترد کر چکی ہیں کیونکہ وہ موجودہ صورتحال کو بہتر بنانا ہی نہیں چاہتیں، کہ اسی میں ان کی بقا ہے۔

دیکھا جائے تو مظاہرین ایک آئینی ریاست کی طاقت کی نمائندگی کرتے ہوئے سیاسی نظام کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ مجموعی صورتحال کی بہتری کیلئے اصلاحات کرے۔ سٹریٹ پاور کے دباؤ کے بغیر یہ منزل حاصل کرنا ممکن نہیں، اس لئے مظاہرین کا تحفظ دراصل عراقی ریاست کا تحفظ یقینی بنانا ہے، اسی طرح مظاہرین پر گولیاں برسانے والوں کے ہاتھ روکنا درحقیقت جدید عراقی ریاست کے سر پر منڈلاتے بدترین خطرے کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے۔ گولیاں برسانے والے کوئی اور نہیں، وہ ملیشیائیں ہیں جو کہ عراقی فوج کی جگہ لینے میں ناکام رہیں، آج تک عراقی ریاست پر ایک بڑا مالی بوجھ اور اس کی بربادی کی وجہ بنی ہوئی ہیں۔

(بشکریہ: عرب نیوز۔17-11-20)


ای پیپر