In three decades, more than one lakh Kashmiris have been martyred by the Indian occupying forces
20 نومبر 2020 (10:34) 2020-11-20

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو جانچنے کے لیے آزاد تحقیقاتی کمشن کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین دہائیوں میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو بھارتی قابض افواج شہید کرچکی ہیں۔ 23  ہزار سے زائد کشمیری خواتین بیوہ بنادی گئی ہیں۔ خواتین کی بے حرمتی کے گیارہ ہزار سے زائد واقعات ہوئے ہیں۔ ایک لاکھ آٹھ ہزار بچے یتیم ہوئے ہیں اور ایک لاکھ نو ہزار سے زائد گھر مسمارو نذرآتش کیے گئے ہیں۔ وادی میں ایسی خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے جن کے نوبیاہتا شوہروں کوبھارتی افواج نے لاپتہ کردیا اور تاحال ان کا علم نہیں ہے۔

مقبوضہ وادی میں ہزاروں افراد کے شہید ہونے کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ نابینا اورمعذور ہوئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ہے کہ بھارتی فوجی پیلٹ گنز کو مہلک ہتھیار نہیں سمجھتے اوراس کا بے دریغ نہتے عوام کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ نومبر 2018 میں شوپیاں کے علاقے میں بیس ماہ کی معصوم حبا کو پیلٹ گن کا نشانہ بنایاگیا۔ آپریشن کے باوجود یہ ننھی پری حبا اپنی دائیں آنکھ کا نور کھو چکی ہے۔ کٹھوعہ کی آٹھ سالہ معصوم آصفہ بانو کو کون بھول سکتا ہے؟ جسے اغوا کرکے اجتماعی بے حرمتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔

پیلٹ گنز کا شکار اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے 5ویں جماعت کے طالبعلم 9سالہ آصف احمد شیخ کہتے ہیں کہ ٹی وی پر کارٹون دیکھنا، گلیوں میں دوسرے کے ساتھ کھیلنا، گھنٹوں تک کتابیں پڑھنا بس اب یہی خواب دیکھتا ہوں میں۔ بارہ مولا سے تعلق رکھنے والے دہم جماعت کے طالبعلم 17سالہ الفت حمید کہتے ہیں کہ میں اپنے گاؤں کی لڑکیوں کو سلائی اور ٹیلرنگ سکھاتا تھا، لیکن میرے زخموں کی وجہ سے اب ایسا نہیں ہے، میں اپنے کلاس 10کے بورڈ امتحان میں لکھ تک نہیں سکا'۔ ایسی ہی کچھ کہانی بارہ مولا کے ایک اور 17سالہ طالبعلم بلال احمد بھٹ کی ہے جو کہتے ہیں کہ جب میں سری نگر کے ہسپتال میں گیا تو وہاں بہت لوگ تھے اور ڈاکٹرز نے مجھے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ ان کے پاس بستر موجود نہیں۔ یہ صرف ان 3بچوں کی کہانی نہیں بلکہ یہ ان ہزاروں کشمیریوں میں شامل ہیں جنہیں مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ سے اندھا کردیا گیا، درجنوں نے اپنی جانیں گنوا دیں۔ ان کی تصاویر ان 109 صفحات پر مشتمل کتاب میں شامل ہیں جو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بین الاقوامی برادری کی توجہ ظالمانہ طرز عمل کی طرف مبذول کروانے کے لئے شائع کی گئی۔ یہ کتاب واشنگٹن میں پاکستانی سفارتحانے میں دکھائی جانے والی متعدد نمائش میں شامل تھی۔ پیلٹ گن کے متاثرین کی ان تصاویر نے دنیا کو دنگ کردیا اور عالمی سطح پر مذمت نے بھارت کو یہ دعویٰ کرنے پر مجبور کردیا کہ اس نے اپنی فوج کو ان بندوقوں کے استعمال نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم کشمیریوں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر 5اگست کے بھارت کے غیرقانونی اقدام کے بعد سے بھارتی سکیورٹی فورسز پیلٹ گنز کا استعمال کر رہی ہیں۔یہ بھارتی بے رحمی اور سفاکی کی محض چند ایک مثالیں ہیں جس کے پس پردہ سنگین جرائم کا پورا سمندر چھپا ہے۔ بھارتی فوج کو سیاہ قوانین کے ذریعے کشمیریوں کے قتل عام کا لائسنس دیا گیا ہے۔ بھارت نے کسی ایک اہلکار کو جنگی جرائم اورانسانیت سوز مظالم پر سزا نہیں دی۔ انسانیت سوز مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی سے مظلوم اور نہتے کشمیریوں کا کیا پیغام جارہا ہے؟ اس پر مہذب دنیا کو سوچنا ہوگا۔ عالمی برادری کی جانب سے کارروائی نہ ہونے سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا اور اسے فولادی پردے میں چھپا رکھا ہے۔ اس فولادی پردے کے پیچھے بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم چھپے ہوئے ہیں۔ بھارت کے نزدیک حق آزادی کی بات کرنے والا ہر کشمیری دہشت گرد ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی جان، عزت وآبرو اپنے معنی واہمیت کھوچکی ہے۔ وادی چنار میں گھر گھر تلاشیوں اور چھاپوں کے نام پر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، لیکن بھارتی ظلم وبربریت کا کوئی ہتھکنڈا بہادر کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کرسکا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم مودی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکلز 35Aاور370کا خاتمہ کر کے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے احتجاج پر بھارتی مظالم، کرفیو، ظلم و ستم اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال نے مہذب معاشرے میں بھارت کو جہاں تنہا کردیا وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے معصوم عوام کو اپنے حق آزادی کے قریب کردیا۔ بلاشبہ پاکستان کی جانب سے بھرپور سفارتی محاذ پر لابنگ اور گزشتہ پانچ دہائیوں میں پہلی بارUNOکا کشمیر ایشو پر ہنگامی اجلاس بھارت کو سفارتی محاذ پر شکست اور پاکستان کی کامیابی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ وہاں ظلم و تشدد کی نئی لہر اور گرفتاریوں سے جیلیں کم پڑگئی ہیں، عوام کا جینا دوبھر کردیا۔ پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ بھارت اپنے روایتی مظالم سے بری طرح عالمی سطح پر بے نقاب ہوچکا ہے۔ جس شدت سے مظالم بڑھ رہے ہیں مسئلہ کشمیر اسی رفتار سے اجاگر ہورہا ہے۔ کشمیری اپنا حق خود ارادیت حاصل کرکے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ 

مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں اور وہ پاکستان کے نام پر قربانیاں دے رہے ہیں اس لیے یہ پاکستان ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے اور کشمیری حریت پسندوں کو بھارتی استبداد سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب نے اسرائیل اور بھارت کے مظالم کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہے اور فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو اسرائیل اور بھارت کا حق تسلیم کرلیا ہے۔ اب بھارت اور اسرائیل چاہے جو کرتے پھریں ، پاکستان سمیت دنیا کے سارے ممالک ان کے ساتھ تعلقات میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔


ای پیپر