PPP and PML-N have started a game of rigging after the defeat in the elections
20 نومبر 2020 (10:31) 2020-11-20

پاکستان میں انتخابات کے بعد جونہی نتائج آتے ہیں تو ہارنے والے دھاندلی کا واویلا شروع کر دیتے ہیں جب کہ عام انتخابات کے دوران جماعتیں اور امیدوار اپنی مہم کے دوران بالکل مطمئن نظر آتے ہیں۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جو سیاسی پارٹیاں کامیابی حاصل کرتی ہیں وہ انتخابات کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے شفاف اور منصفانہ ترین انتخابات قرار دیتی ہیں مگر ہارنے والی پارٹیاں انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دینا شروع کر دیتی ہیں اور یہی پارٹیاں جب خود انتخابات جیتتی ہیں تو ان کے خیال میں صرف وہی انتخابات ملکی تاریخ میں آج تک شفاف اور منصفانہ ہوئے ہیں اور اسی طرح وہی پارٹیاں جو پہلے انتخابات میں کامیاب ہوئی ہوتی ہیں ان انتخابات کو جعلی، انجینئرڈ ، دھاندلی زدہ، غیر منصفانہ قرار دینا شروع کر دیتی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ہر پارٹی کا خیال ہوتا ہے کہ بس وہی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست سے دوچار نہیں کر سکے گی جب ان کا یہی خوش کن خیال پورا نہیں ہوتا تو ان کے ذہن میں آتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے، اسٹیبلشمنٹ ہی انہیں ہرانا چاہتی تھی اور جیتنے والی پارٹی مقتدر حلقوں کی مدد سے جیتی ہے اور انہیں کھڈے لائن لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پھر وہ پارٹیاں اپنے ہارے ہوئے امیدواروں کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے احتجاجی تحریک کے اعلانات شروع کر دیتی ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہر بار ایک جیسے الزامات ہی لگائے جاتے ہیں اس ساری صورتحال میں عوام بے چارے سوچتے ہیں کہ وہ کہاں جائیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعد ایک بار پھر وہی صورتحال ہے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے انتخابات میں شکست کے بعد دھاندلی دھاندلی کا کھیل شروع کر دیا ہے یعنی جن انتخابات میں انہیں کامیابی نصیب ہوتی ہے وہ درست اور جن میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ غلط۔ یہ صورتحال کسی طور پر ملک کے مفاد میں نہیں ہے، اس سے ناصرف ملک میں انارکی بڑھ رہی ہے بلکہ آج جو وطنِ عزیز کی حالت ہے اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ گزشتہ روز وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں انتخابی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے اپوزیشن کو بھی اس میں معاونت کا کہا ہے۔ ان کا کہنا بالکل بجا ہے کہ ایسی انتخابی اصلاحات کی جائیں جس سے ہارنے والے دھاندلی کا شور شرابہ نہ کر سکیں۔ 

پاکستان میں عام لوگ اور بالخصوص سیاسی اشرافیہ کے بعض طبقات چہرے کی تبدیلی سے بہت سی توقعات وابستہ کرتے ہیں لیکن جب ان کی توقعات پوری نہیںہوتیں تو ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری عمومی حکمتِ عملی میں اداروں کی مضبوطی اور بالادستی کے مقابلے میں فرد کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے جب ادارے مضبوط، شفاف اور جوابدہ ہوں گے تو فرد بھی ان کے تابع رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ 2008ء، 2013ء اور 2018ء کے انتخابات میں جو بھی بے ضابطگیاں ہوئیں چاہے وہ ادارہ جاتی سطح پر ہوئیں یا انفرادی سطح پر الیکشن کمیشن اپنے ہی بنائے ہوئے اصول و ضوابط سمیت کوڈ آف کنڈکٹ پر کچھ نہیں کر سکا جو اس کی انتظامی اور قانونی ذمہ داری کے زمرے میں آتا تھا۔ اس کی وجہ الیکشن کمیشن کے سیاسی مسائل کے ساتھ ساتھ انتظامی اختیارات میں کمی بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی کیا اصلاحات کی جائیں کہ الیکشن کمیشن کسی سیاسی یا غیر سیاسی قوتوں کے دباؤ کے بغیر اپنے فیصلے کر کے ملک میں شفاف انتخابات کے عمل کو یقینی بنا سکے۔ الیکشن کمیشن کے قوانین اس طرح واضح اور غیر مبہم ہوں کہ عام افسر تو درکنار خود چیف الیکشن کمشنر بھی اثر انداز نہ ہو سکے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جس طرح سے ہمارے دیگر ادارے سیاسی استحصال کا شکار ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن کا ادارہ بھی اس بحران سے نہیں بچ سکا۔ پڑوسی ملک بھارت میں جونہی انتخابات کا اعلان ہوتا ہے ہے تو الیکشن کمیشن ملک میں سپریم ڈی فیکٹو گورنمنٹ بن کر بیورو کریسی پر مکمل کنٹرول سنبھال کر سیاسی حکومت کی طاقت محدود کر دیتا ہے۔ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن انتہائی با اختیار ادارہ بن جاتا ہے اور تمام تر اختیارات کا آزادانہ استعمال کر سکتا ہے اور پوری سرکاری مشینری چیف الیکشن کمشنر کے ماتحت ہو جاتی ہے اور پولنگ کے دوران جو لوگ بھی بد عنوانی کے الزامات میں ملوث ہو کر عدلیہ کے سامنے لائے جاتے ہیں ان کو بھی الیکشن کمیشن کے پاس بجھوا کر ان کی رائے لی جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی رائے بجھواتا ہے اور وہ نا اہلی بھی ہو سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی رائے کو ہر فورم پر حتمی سمجھا جاتا ہے۔

پڑوسی ملک بھارت جس کا ہمارا صدیوں کا ساتھ ہے۔ ہماری بے شمار قدریں مشترک ہیں اگر وہاں پارلیمانی جمہوریت کامیاب ہو سکتی ہے تو ہمارے ہاں کیوں نہیں۔پارلیمانی نظام کو اس کی صحیح روح کے مطابق چلانے کے لئے یہ سوچنا پڑے گا کہ خود ہمیں کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ہماری نظمِ حکمرانی کے وہ کون سے پہلو ہیں جن کے بارے میں عوام کی بڑی اکثریت شدید تحفظات رکھتے ہوئے نالاں نظر آتی ہے۔ ان خامیوں اور خرابیوں کا ادراک کرنے کے بعد عزمِ و بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں انتخابی عمل میں اصلاحات کی بڑی گنجائش ہے جس سے انتخابات کے بعد محاذ آرائی اور بے یقینی کی کیفیت ختم ہو سکتی ہے۔ انتخابات کا انعقاد ایماندارانہ، منصفانہ، غیر جانبدارانہ ہو، قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہو اور دھونس دھاندلی کے بغیر انجام پائے۔ یہ وہ دستوری تقاضا ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کئی لازمی شرائط اور بھی ہیں۔ یہ فرض الیکشن کمیشن کو سرانجام دینا ہے۔ لیکن کیا اس فرض کی انجام دہی کے لئے درکار اختیارات اسے حاصل ہیں؟ اس مقصد کے لئے انتخابی نظام میں بعض کلیدی نوعیت کی تبدیلیاں ضروری ہو گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے سلسلے میں سابقہ ججوں کی بجائے اچھی شہرت کے حامل سابقہ بیورو کریٹس کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کا کام عدالتی نوعیت کی بجائے خالصتاً انتظامی نوعیت کا ہوتا ہے جس کے لئے انتظامی تجربہ رکھنے والے اچھی شہرت کے افسران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اس نوعیت کے تمام اقدامات پارلیمان کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔ کیونکہ پارلیمان کو نظر انداز کر کے کیا جانے والا ہر عمل ماورائے جمہوریت اور آئین ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ اس لحاظ سے خطرناک ہے کہ اگر آئین کسی بھی سطح پر بائی پاس کیا گیا تو یہ اپنی افادیت کھو بیٹھے گا۔ اس کے لئے ہم سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو حکومت کے خلاف تحریک کو ترک کر کے پارلیمان کو مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ وزیرِ اعظم کی انتخابی اصلاحات کی پیشکش پر مثبت طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے حقیقت پسندی پر مبنی قابلِ عمل اصلاحات لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ان کی ذرہ سی لغزش اور بے جا ہٹ دھرمی اس ملک کو نئے بحران میں مبتلا کر سکتی ہے۔


ای پیپر