The government has provided irrefutable evidence of Indian state terrorism inside Pakistan
20 نومبر 2020 (10:28) 2020-11-20

حا ل ہی میں ہما ری حکو مت نے پاکستان کے اندر بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید شواہد پیش کردیئے ہیں اور پاکستان پرامید ہے کہ ان شواہد کے بعد عالمی برادری بھارت پر دبائو ڈالے گی۔ حکومت کی یہ توقعات بجا ہیں، امن عالم کی خاطر عدم استحکام اور انتشار کی ان کوششوں کا عالمی برادری کو ضرور نوٹس لینا چاہیے، مگر واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ بھارت ہی کے معاملے میں دیکھ لیں کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے بڑھ کر مداخلت، عدم استحکام، انتشار اور دہشت گردی کا ثبوت کیا ہوگا۔ مگر اس کے با وجو د دنیا کے رویے میں نمایاں تبدیلی ظاہر نہیں ہوئی۔ تا ہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پاکستان مایوس ہوکر بیٹھ جائے اور ننگی جارحیت کے یہ ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرنا روک دیئے جائیں، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی مداخلت اور جارحیت کے یہ ٹھوس شواہد مزید صراحت کے ساتھ پیش کیے جائیں اور ثابت کیا جائے کہ بھارت کے جارحانہ عزائم اور اقدامات کس طرح دو ایٹمی قوتوں کے تصادم کا اندیشہ پیدا کر رہے ہیں اور اس خطے کے امن کو اس سے کس قدر خطرات درپیش ہیں۔ دنیا کے اس دُہرے معیار کا محاسبہ بھی کیا جانا چاہیے کہ جہاں پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد بھارتی الزامات کو بڑے شدو مد کے ساتھ اُٹھایا جاتا ہے لیکن بھارت جو اپنی جارحانہ پالیسی کے ذریعے جنوبی ایشیا کے لیے غیرمعمولی خطرات کا سبب بن رہا ہے دنیا اس سے چشم پوشی کی مرتکب ہے۔ بے شک اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھا رت پاکستان سے پا نچ گنا بڑا ملک ہے۔اسی لحا ظ سے اس کی دنیا کے د یگر مما لک کے سا تھ تجا رت زیا دہ ہے، تا ہم اگر اس وجہ سے اس کے جرا ئم کی پر دہ پو شی کی جا ئے تو  عقلِ سلیم یہ سمجھنے سے قا صر ہے کہ پھر اقوا مِ متحد ہ کا ادارہ کس مر ض کی دوا ہے۔ اب جبکہ پوری دنیا انٹر نیٹ ٹیکنا لو جی کی بنا پر سمٹ کر ایک گلوبل گا ئو ں کی شکل اختیار کر چکی ہے،حیر ت کی بات ہے کہ فلسطین اور مقبو ضہ کشمیر کے مظلو مو ں کی چیخیں دنیا کے کا نو ں تک نہیں پہنچ ر ہیں۔ اقوا مِ عا لم سے یہ سوال پو چھنا بنتا ہے کہ آ خر کب تک دنیا میں جس کی لا ٹھی اس کی بھینس کا اصو ل نا فذ العمل رہے گا؟ کیا یہ سمجھ لیا جا ئے کہ انصا ف نا می چڑیا کا  ہمارے کر ہِ ا ر ض سے کو ئی تعلق نہیں؟ پاکستان کی شکایات اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں سے جائز ہیں کہ بھارتی الزام تراشی کی رو میں بہنے کے بجائے اگر اقوا مِ متحد ہ جیسے اداروں اور تنظیموں نے بھارت کے اصل کردار کو عیاں کرنے والے ثبوتوں پر توجہ دی ہوتی اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہوتیں تو بھارت کی جانب سے عالمی اور علاقائی امن کو لاحق خطرات یقینا کم ہوتے۔ پاکستان کو عالمی اداروں کو ان ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیے پرعزم اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ یہ کام عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ، دانشور حلقوں، سیاسی رہنمائوں، عالمی امن کے لیے متحرک تنظیموں اور معاشی ترقی کے شراکت داروں کو ساتھ ملا کر کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی جارحیت کے باوجود اگر دنیا کو اپنی بات منوانے میں ہمیں کسی دشواری کا سامنا ہے تو اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری جانب سے اپنا مؤقف اس زوردار انداز سے بیان نہیں کیا جاتا، فی زمانہ جس کی اشد ضرورت ہے۔ کیا یہ بات حقیقت پہ مبنی نہیں کہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بیا ن دینے میں ہما را کو ئی ثا نی نہیں؟ ہر سا ل پانچ فر وری کو ہم مقبو ضہ کشمیر میں ہو نے وا لے مظا لم کی یا د تا زہ کر نے کے لئے چھٹی کر تے ہیں ، ریلیا ں نکالتے ہیں ، مقبو ضہ وا دی کو بھا رتی تسلط سے آ زا د کرانے کا نئے سر ے سے عہد کر تے ہیں ، مگر اس کے بعد؟؟؟اقوام متحدہ بے شک سب سے معتبر عالمی پلیٹ فارم ہے مگر اس پلیٹ فارم پر بیان کی گئی بہت سی باتیں عالمی توجہ حاصل نہیں کر پائیں، اس لیے مساوی پلیٹ فارمز کی سطح پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی جارحیت اور اس کے مضمرات کے حوالے سے پاکستان کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ یہ عالمی رائے ساز حلقوں میں پاکستانی مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں اور اگر پاکستان کی جانب سے یہ کوشش کامیابی کے ساتھ سرانجام دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ بھارت کا اصل چہرہ دنیا پر عیاں نہ ہو۔ ہماری جانب سے آج تک ایسی مربوط کوشش نظر نہیں آئی مگر بھارت کو اس ناکامی کا فائدہ حاصل ہوا ہے اور اس خلا میں بے بنیاد بھارتی الزامات اور پراپیگنڈے کو پھیلنے کا موقع ملا ہے۔ عالمی رائے ساز حلقوں میں بھارت کو بروقت روکنے کی ضرورت تھی اور ایسا نہ ہونے کے جو نتائج ہیں وہ بھی ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ چنانچہ اب ضروری ہے کہ اس خلا کو پُر کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے اور پاکستان اپنا مؤقف دنیا کے سامنے پوری تفصیل اور شواہد کے ساتھ پیش کرے۔ لائن آف کنٹرول پر آئے روز کی بھارتی جارحیت دوسرا اہم معاملہ ہے جس پر دنیا کو خبردار کرنا ضروری ہے۔ رواں سال بھارت لائن آف کنٹرول کی اڑھائی ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کر چکا ہے۔ ان واقعات پر عموماً بھارتی سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا جاتا ہے، مگر ضروری ہے کہ متاثرہ علاقوں کی کوریج اور نقصان کی تفصیلات کو جاننے کے لیے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور غیرملکی سفارت کاروں کے دوروں کا بھی مناسب بندوبست کیا جائے۔ اس قسم کے دورے منعقد کیے جاتے ہیں مگر بھارت کا جارحانہ چہرہ عیاں کرنے کے لیے ایسے واقعات کی تفصیلات کو مزید عام کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا کو بھی اس کام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جہاں بھارتی جارحیت، مداخلت اور دہشت گردی کے شواہد اور تفصیلات موجود ہوں۔ یہ معلومات کا دور ہے تو کیوں نہ اس معرکے کو اس کے اصل میدان میں لڑا جائے۔ سی پیک کے منصوبوں کو ہم پاکستان کے تابناک معاشی مستقبل کا سنگ میل سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس راستے کی بڑی بڑی رکاوٹیں کیا ہیں۔ چنانچہ ان رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے بھی اسی دم خم کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے جس عزم کے ساتھ ہم سی پیک کی ترقیاتی سرگرمیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ یقینا اس حوالے سے کام ہو بھی رہا ہے، بھارت کے ناپاک منصوبوں کا توڑ کیا جارہا ہے، مگر یہ شواہد دنیا تک پہنچنے چاہئیں۔ وزیراعظم صاحب کا کہنا یہ ہے کہ ان ثبوتوں کے بعد دنیا خاموش نہیں رہ سکتی، بلاشبہ امن عالم کے لیے دنیا کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ مگر دنیا کو اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لیے ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔ایک شے ہو تی ہے جسے انگر یز ی میں فا لو اپ کہا جا تا ہے۔ بے شک ہم نے کا فی سے ز یا دہ ثبو ت فر اہم کر دیئے ہیں، مگر ضر ور ت اس امر کی ہے کہ ہم وقتاً فو وقتا ًدنیا کی تو جہ اس جا نب مبذول کر اتے رہیں ۔


ای پیپر