Whenever the next general election is held, the PTI will not be able to win due to its bad governance
20 نومبر 2020 (10:24) 2020-11-20

گلگت بلتستان کے الیکشن نتائج سے پی ڈی ایم کے لیے منزل اور واضح ہوگئی ہے ، حکمران اشرافیہ کی طاقت سے خائف ہوکر روائتی انداز میں  سیاست کرنے کی سوچ رکھنے والے بعض اپوزیشن رہنمائوں کو ایک اور جھٹکا لگ گیا ، پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے ایسے عناصر کا یہی کہنا تھا کہ یہ حکومت اپنے ہی بوجھ تلے آکر گر جائے گی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگلے عام انتخابات جب بھی ہوئے پی ٹی آئی اپنی بیڈ گورننس کے باعث جیت نہیں سکے گی ، جب ان سے سوال کیا جاتا کہ اگلے انتخابات سویڈن کے الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں کیا ؟ 2018 ء میں جو کھیل کھیلا گیا ، بے تحاشہ پری پول رگنگ ، طرح طرح کے مقدمات ، سہولت کار عدلیہ کی مدد سے ناپسندیدہ رہنمائوں کی نااہلیاں اور سزائیں ، پھر الیکشن ڈے پر مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر آر ٹی ایس ڈرامے کے ذریعے آخری وقت تک مزید سیٹوں کا حصول ، اگر یہ سب پہلے ہو چکا ہے تو پھر اگلے عام انتخابات میں کیوں نہیں ہوسکتا ؟ تو ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں ہوتا تھا ، اصل میں ایسے عناصر یہی چاہتے تھے کہ انہیں میدان عمل میں نہ نکلنا پڑے ، اقتدار کے اصل مراکز نے سیاست کرنے کے لیے جو محدود دائرہ کھینچا ہے اس کے اندر ہی رہا جائے خواہ سو جوتے ، سو پیاز بیک وقت ہی کیوں نہ کھانا پڑیں۔یہی وہ بنیادی خرابی ہے جیسے پی ڈی ایم اور نواز شریف نے چیلنج کیا ہے ، مولانا فضل الرحمن بھی اسی بیانیے کی ایک توانا آواز ہیں ، قوم پرست جماعتیں تو بہت پہلے ہی سے اس موقف کی حامی ہیں ، اب پیپلز پارٹی اور اے این پی نے بھی اسکی  وکالت کرنا شروع کردی ہے ، اپوزیشن اتحاد سے باہر رہنے والی جماعت اسلامی بھی یہی رائے رکھتی ہے ، پی ڈی ایم میں اس بیانیے کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں، ماضی کے کچھ تلخ تجربات کے باعث باہمی اعتماد میں جو کمی اور ایک دوسرے کے بارے میں جو خدشات پائے جا رہے تھے وہ وقت گزرنے کے ساتھ بڑی حد تک دور ہو رہے ہیں ، سو یہ تو سب کو سمجھ آچکا کہ اصل مسئلہ کیا اور کہاں ہیں ، ایسے میں اپوزیشن جماعتوں کے کچھ ارکان اب بھی تذبذب کا شکار ہیں ، ان کا خیال ہے کہ تحریک زیادہ آگے چلی گئی تو ردعمل ان کے لیے ناقابل برداشت ہوسکتا ہے ، اس مرحلے پر یا آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی جماعتوں میں موجود ایسے عناصر دائیں ، بائیں ہو بھی گئے تو صرف اپنا ہی نقصان کرائیں گے ، پاکستان کی موجودہ سیاسی کشمکش اصل فریقوں کے لیے بھی راستے محدود کررہی ہے ، اس کے باوجود جس کا جہاں زور چل رہا ہے کام دکھا رہا ہے ، گلگت بلتستان کے الیکشن کو ہی دیکھ لیں ، اصل ٹارگٹ تو وہاں من پسند حکومت قائم کرنا تھا، اس سلسلے میں فیصلہ ساز حلقوں نے الیکشن بلکہ پی ڈی ایم کے قیام سے بھی پہلے بتا دیا کہ یہ علاقہ نیا صوبہ بنے گا ، پھر پی ڈی ایم بن گیا تو اپوزیشن رہنمائوں نے کھل کر کہنا شروع کردیا کہ اس اقدام سے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر ہڑپ کرنے کی کارروائی کو ٹھوس جواز ملے گا ، بہر حال منصوبہ سازوں نے جو خاکہ بنا رکھا ہے اسکے مطابق گلگت بلتستان میں اپنی حکومت لازمی تھی ، دوسرا ٹارگٹ مسلم لیگ ن کو بری طرح سے ہرانا تھا تاکہ نواز شریف کے بیانیے کی نفی کا تاثر دیا جاسکے ، پارٹی کے دس انتہائی مضبوط امیدوار غیر سیاسی عناصر نے الیکشن 2018 کی طرز پر پہلے ہی زبردستی لوٹے بنا دئیے، اس کے باوجود  مریم نواز نے چند دنوں میں کئی بڑے بڑے جلسے کرکے حریفوں کو مشکل میں ڈالے رکھا ، مگر طے شدہ نتائج ہی سامنے آئے ، پیپلز پارٹی کے ساتھ باقاعدہ ہاتھ ہوگیا ، اچھے امیدوار اور زبردست انتخابی مہم چلانے کے بعد اب بلاول بھٹو زرداری بھی دھاندلی پر احتجاج کررہے ہیں، بچا کھچا شک بھی نکلنے کے بعد یہ تو طے ہوگیا کہ اپنا حق لینا ہے تو ‘‘ ساڈا حق ایتھے رکھ ‘‘ کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ، انجام سے بچنے کا ڈرامہ کسی کو انجام تک پہنچے سے نہیں بچا سکتا ،بچائو کے لیے آگے بڑھ کر حملہ آور کا ہاتھ پکڑنا پڑتا ہے ، بیانیہ تو واضح ہے اور سب کو یہ بھی پتہ ہے کہ تبدیلی  کا واحد راستہ بھی یہی ہے ، ترجمان اعلیٰ شیخ رشید کے ذریعے دہشت گردی کی ممکنہ واردات سے ڈرایا جائے یا براہ راست الرٹ جاری کیے جائیں اب کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں ، کورونا کی آڑ میں سیاسی تحریک روکنے کی کوشش بھی الٹ پڑے گی ، ویسے کراچی ، کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی کی تین سچی  پیش گوئیاں کرنے پر شیخ رشید کے خلاف مقدمہ تو بنتا ہے ، اگر ریاست انکاری ہو تب بھی پی ڈی ایم کو یہ معاملہ شدت سے اٹھاتے رہنا چاہیے ، کبھی نہ کبھی تو حساب ہوگا ، حساب سے یاد آیا کسی نے ایک اہم  اپوزیشن رہنما سے پوچھا کہ ثاقب نثار بھی پچھلی حکومت کے خلاف کی جانے والی سازش کا مکمل کردار ہیں ، جلسوں میں ان کا نام کیوں نہیں کیا جاتا ؟ تو جواب ملا بے شک ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے لیکن سابق چیف جسٹس بھی موجودہ وزیر اعظم کی طرح ایک کٹھ پتلی تھے ، جہاں اصل مسئلہ ہے وہاں درستگی کے بعد ہی کسی اور جانب بڑھا جاسکتا ہے ، ایسا نہیں کہ اپوزیشن اتحاد کا دبائو سرے سے نظر انداز کیا جارہا ہے ، اگر ایسا ہوتا تو گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کو سادہ اکثریت محروم رکھنے کے بجائے کلین سویپ کرایا جاتا ، آزاد امیدوار وغیرہ کا فارمولا اسی لیے چلایا گیا تاکہ طاقتور حلقوں کی پی ٹی آئی کو سپورٹ کا تاثر کچھ کم کیا جاسکے ، یہی بات ان دنوں میڈیا کو بھی بتائی جارہی ہے کہ عمران حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے خود ہی کر رہی ہے ، ہمارا کوئی تعلق نہیں ، ہم تو اپنے اصل کام تک محدود ہیں ، ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے وغیرہ وغیرہ، اس کے ساتھ ہی یہ تجویز بھی دی جارہی ہے کہ اسمبلیوں کی مدت پانچ سال کی بجائے چار سال کرلی جائے تو بہتری آسکتی ہے ، دلچسپ بات ہے کہ خود حکومتی مشینری ، بیورو کریسی نیب ،ایف آئی اے ، پولیس ، پیمرا حتیٰ کہ بعض منصف خود بتاتے رہتے ہیں کہ ان پر کہاں سے بہت زیادہ دبائو آرہا ہے ، ویسے بھی طرح طرح کی حکومتیں بنتے ، گرتے دیکھ کر عام آدمی کو  بھی خوب اندازہ ہوچکا ہے کہ کس معاملے پر کہاں سے پریشر آتا ہے ، اب تو یہ باتیں گلی محلوں میں ہو رہی ہیں ، اپوزیشن جماعتوں کو دبانے کے لیے کئی حربے استعمال کیے گئے مگر کوئی بھی موثر ثابت نہیں ہو رہا، آجکل یہ تکنیک استعمال کی جارہی ہے کہ اپوزیشن کے رہنمائوں کے انٹرویوز اور بیانات کو غلط رنگ دے کر میڈیا کے ذریعے ہی پھیلایا جائے ، یہ بھی پھوکا فائر ہے کیونکہ سوشل میڈیا کمیونیکشن کے اس دور میں حقیقت لمحوں میں سامنے آجاتی ہے ، جیسے کراچی میں پوری کوشش کے بعد بھی تبدیلی کا رنگ پھیکا پڑ چکا ہے، اب تقریباً طے ہوچکا کہ پی ٹی آئی اپنے ڈھیر سارے ارکان اسمبلی سمیت پٹ چکی ہے ، ایک اہم ترین فنانسر اور سپورٹر کے مطابق سب نکمے نکلے ، سو یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم کو بحال کیا جائے ، اس طرح شہری سندھ میں ناصرف پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دیا جاسکے گا بلکہ مستقبل میں سیاسی حریفوں کواسمبلیوں میں فوری جواب دینے کے لیے مضبوط ٹیم بھی بنائی جاسکے گی ، اس حوالے سے سربراہی کے لیے سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا نام سامنے آنے پر مصطفی کمال بھڑک اٹھے ،کیونکہ 2018 کے الیکشن سے پہلے ان کو یہی کچھ کہہ کر باہر سے بلوایا گیا تھا مگر بعد منصوبہ تبدیل کرکے سارا شہر پی ٹی آئی کو سونپ دیا گیا  ، مصطفی کمال ہاتھ ملتے رہ گئے تھے ، بہرحال نئی سکیم پر کام جاری ہے ، ایک پیغام فیض آباد کے تازہ دھرنے کے ذریعے بھی دیا گیا ہے ،بظاہر شرکا ایک نیک مقصد کے لیے بڑے جوش و خروش سے آئے ، پھر توقع کے عین مطابق ایک سادہ کاغذ پر معاہدہ کرکے لوٹ گئے ، کیا یہ اتنے ہی سادہ ہیں کہ ان کو پتہ نہیں موجودہ حکومت سفارتی تنہائی کو اس سطح پر لے آئی ہے کہ جہاں ہم فرانس تو کیا بھوٹان کے سفیر کو بھی نکالنے کا تصور نہیں کرسکتے۔


ای پیپر