یہ انتشار، یہ خلفشار
20 نومبر 2019 2019-11-20

نواز شریف اور شہباز شریف بغرض علاج ملک سے باہر چلے گئے ہیں… جب واپس آئیں گے اس میں چار ہفتے یا زیادہ بھی لگ سکتے ہیں، تب ان کی سیاست سرگرمی دکھائے گی… اس وقت تک ان کی جماعت کی بقیہ لیڈر شپ اگرچہ متحرک رہے گی اور شہباز شریف صاحب بھی امکاناً اپنے ساتھیوں کو پرجوش رکھنے کی خاطر رابطے میں رہیں گے لیکن مولوی مدن والی بات دونوں بھائیوں خاص طور پر برادر اکبر کے سرزمین وطن پر دوبار قدم رکھنے پر سامنے آئے گی… مولانا فضل الرحمن کا مارچ دوسرے مرحلے یا پلان بی کی منزل کو عبور کرنے سے پہلے دم توڑ گیا ہے… اب ان کا کہنا ہے آئندہ برس فروری مارچ کا انتظار کیجیے اور نتائج دیکھیے… یہ حقیقت میں کیا ہوں گے خود مولانا موصوف بتانے سے قاصر ہیں… چیف الیکشن کمشنر سردار احمد رضا خان اگلے ماہ دسمبر کی پانچ تاریخ کو ریٹائر ہو رہے ہیں… الیکشن کمیشن آف پاکستان کئی ماہ سے ادھورا پڑا ہے… سندھ اور بلوچستان کی نشستیں خالی ہیں… تمام تر جتن کے باوجود پر نہیں ہو رہیں… اب ریٹائرڈ جسٹس سردار رضا کے بطور سربراہ چلے جانے کے بعد یہ اہم قومی و انتخابی ادارہ جو پہلے سے لولا لنگڑا ہے سر کٹا ہو کر رہ جائے گا… اسی بنا پر پی ٹی آئی کا فارن فنڈنگ کیس جو اس کی جان کو اٹکا ہوا ہے مزید التوا کا شکار ہو گا… اپوزیشن شور مچا رہی ہے کہ اس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے… مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا… یوں یہ معاملہ بھی وقتی طور پر ٹھپ سمجھئے… آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا مسئلہ صبح و شام کی قیاس آرائیوں کا موضوع بنا ہوا تھا… اس کا نوٹس جاری ہو چکا ہے… تادم تحریر منظر عام پر نہیں آیا لیکن دن اب تھوڑے رہ گئے ہیں… قیاس غالب ہے سپہ سالار پاکستان نے اپنے عہدے کی توسیع کے وزیراعظم کے فیصلے کو قبول و منظور فرما لیا گیا ہو گا (اگرچہ وہ راحیل شریف کی مانند اس کے خواہش مند نہیں)… امید واثق ہے صاحب موصوف آئندہ تین برس کے دوران بھی قوم کے دفاعی امور بلکہ خارجہ پالیسی اور دیگر ریاستی معاملات یہاں تک کے معیشت کے بندوبست میں اپنی سرپرستی و نگرانی جاری رکھیں گے… معاشی شعبے میں ان کے قدوم میمنت لزوم کی وجہ سے آج نہیں تو کل معیشت سدھر جائے گی… جو کام عمرانی حکومت کے سویلین سے نہیں ہو پا رہا اس کے عقدے شاید ہمارے عظیم جنرل کے ناخن تقدیر سے کشا ہو جائیں اگرچہ یہ ان کا شعبہ نہیں مگر دنیا امید پر قائم ہے ادھر چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم عمران خان کی گزشتہ سوموار کو حویلی مانسہرہ موٹروے کے افتتاح پر کی جانے والی تقریر کے ردعمل میں نہلے پر دہلا مارا ہے Shut up call دی ہے… کہا ہے کہ وزیراعظم کو ہمیں مشورہ دیتے وقت کہ امیر کے لیے قانون اور ہے غریب کے لیے اور والے فرق کو ختم کریں… احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا… ہم ایک وزیراعظم کو نکال چکے ہیں … نا اہل بھی قرار دے چکے ہیں… ایک سابق آرمی چیف کے بارے میں فیصلے کا صدور ہونے والا ہے… جہاں تک کسی کو باہر جانے کی اجازت دینے کا مسئلہ ہے… وہ وزیراعظم نے مرحمت فرمائی تھی ہم نے نہیں… ہمارے سامنے صرف قانون طاقتور ہے کوئی انسان نہیں… تھوڑے سے وسائل سے کام چلا رہے ہیں… لہٰذا ججوں پر تنقید کرتے وقت احتیاط سے کام لیا جانا چاہیے…

یہ ہے لمحۂ موجود کا قومی منظر … کوئی کل سیدھی نہیں… خلفشار نہیں پھیلے گا… انتشار جنم نہیں لے گا تو کیا ہو گا… سو وہ طوفان بلا خیز کی مانند قوم پر چڑھا آ رہا ہے… کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا… فرض کیجیے مولانا کو جو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آئندہ ماہ فروری یا مارچ تک موجودہ نظام تلپٹ ہو جائے گا… وہ پوری ہو جاتی ہے تو کیا انتشار ختم ہو جائے گا… خلفشار باقی نہیں رہے گا… ایک آدمی اور اس کی کابینہ کے چلے جانے یا اسے نکال باہر پھینکنے سے کیا فرق پڑے گا… آج مولانا کو چین نہیں آ رہا… انہیں نے دارالحکومت پر یلغار کر ڈالی ہے کل کوئی اور اُٹھ کھڑا ہو گا… ہم رجعت قہقری کا نمونہ بنے رہیں گے… ایک کے بعد دوسرا بحران سر اُٹھاتا رہے گا…کچھ علاج اِس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں… ایک چکر ہے جس میں پوری قوم کو مبتلا کر دیا گیا ہے… کسی نے افلاطون سے پوچھا یہ جو تم صبح و شام نظام عدل پر مبنی سماج اور ریاست کی دہائی دیتے رہتے ہو اور نئی نسلیں ہماری خراب کرتے ہو… تو یہ ہے کونسی، کبھی وجود میں آ بھی آ سکے گی، اس نے جواب دیا عدل نام ہے ایسی حالت کا جس میں ہر شے اپنے صحیح مقام پر موجود رہے… ادھر اُدھر نہ ہو … پھر کوئی ٹکراؤ نہیں پیدا ہو گا… ہنگامی صورت حال جنم نہ لے گی… ہر کوئی اپنی ذمہ داری متعین دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے سر انجام دے گا… لامحالہ اس کے نتیجہ میں انصاف جنم لے گا کیونکہ کم لوگوں کو شکایت کا موقع ملے گا… قرآن مجید میں اس سے بڑھ کر بات کی گئی ہے کہ توازن برقرار رکھو تول میں فرق نہ آنے دو… کوئی چیز ادھر سے اُدھر نہ ہونے دو… دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مشینری کا ہر پرزہ اپنی اپنی جگہ برقرار رہے اور فرائض بھی سر انجام دیتا رہے… بحران اس کے باوجود جنم لے گا تو اس سے نمٹنا آسان تر ہو گا… شکایات کے مواقع کم ہوں گے… گاڑی آگے کی جانب بڑھتی رہے گی… جن قوموں نے اس کا تجربہ کیا ہے وہ بقیہ دنیا کے مقابلے میں ایک نئی کامیابی، ترقی اور عام آدمی کی خوشحالی کے بہتر تجربے کر چکے ہیں لیکن

ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے

ہر کوئی ماسوائے حکومتی پارٹی کے اس کا حل از سر نو نئے انتخابات حل تجویز کرتا ہے… اپوزیشن والوں کی یہی ڈیمانڈ ہے … دانشور اسی کی جانب اشارہ کرتے ہیں … اپوزیشن کی تمام جماعتیں آس لگائے بیٹھی ہیں کہ 2020ء کا چناؤ انہیں 2018ء کے مقابلے میں زیادہ نشستیں دلوائے گا… بھرپور عوامی نمائندگی سے سرشار فرمائے گا… پارلیمانی نظام حکومت کے اندر وسط مدتی انتخابات اچنبھے کی بات نہیں ہوتی لیکن اے لوگو مسئلہ یہ آن پڑا ہے جب سے یہ ملک بنا ہے عام انتخابات تو ہماری ستر سالہ قومی زندگی میں خدا جھوٹ نہ بلوائے زیادہ نہیں دس گیارہ مرتبہ تو ہو چکے ہوں گے تو کیا کسی ایک کے نتیجے میں سکون نے جنم لے لیا… استحکام وجود میں آ گیا … حکومتوں نے اپنی مدتیں پوری کر لیں… مارشل لاء نہیں لگے… غیر آئینی اداروں نے اپنا تسلط جمائے نہیں رکھا… تحریکوں نے جنم نہیں لیا… خلفشار تو اسی طرح ایک کے بعد دوسرا ہمارے گلے کا ہار بنتا رہا… تو پھر کیا کیا جائے … انتخابات کا متبادل کوئی نہیں… جمہوریت کے علاوہ دوسرا راستہ نہیں… جمہوریت اس ملک اور قوم کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے… اسی شاہراہ پر چل کر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا… 1945-46ء کے انتخابات نے منزل کے حصول کو آسان تر بنا دیا تھا… اسلامی جذبہ اس میں شک نہیں دلوں میں موجزن تھا… مگر اس کے سیاسی و قومی اظہار کے لیے جمہوریت اور انتخابات جیسے تسلیم شدہ پیمانوں کو اختیار کیے بغیر چارۂ کار نہ تھا کیونکہ یہ روح عصر تھے، آج بھی ہیں… شاید بلکہ حقیقت میں یہی وجہ تھی… جب مارشل لائی حکمرانوں نے 1970ء کے انتخابی نتائج تسلیم نہ کیے جمہوریت کا دامن تار تار کر کے رکھ دیا تو ملک باقی نہ رہا… آدھے کو دشمن لے اُڑا… اس نے بنگلہ دیش بنا ڈالا جو آج بھی ہمارا منہ چڑا رہا ہے…

شرط لازم یہ ہے انتخابات آزادانہ ہوں … شفاف ترین ہوں… ہر قسم کی بیرونی اور غیر آئینی مداخلت کے بغیر ہوں … ان کے نتائج کو حصہ لینے والی تمام جماعتیں صدق دل سے قبول کریں… 1970ء کے انتخابات کو اگرچہ شفاف اور آزادانہ کہا جاتا ہے مگر ایک تو وہ 13 برس کی تاخیر سے روبہ عمل ہوئے دوسرے ان کے انعقاد کے وقت اوپر ایک فوجی جرنیل عنان اقتدار سنبھالے اور ڈنڈا ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا… اپنی بھنگ ڈالنا چاہتا تھا… اسمبلی کا اجلاس نہ ہونے دیا… مغربی پاکستان والوں کو ڈرایا… مشرقی علیحدہ ہو جائے گا… علیحدگی نے اس کے باوجود جنم لیا… مگر دشمن کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے نتیجے میں پہلی صورت میں زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کنفیڈریش بن جاتی… آج ہم اسی کو ترستے ہیں… لہٰذا لازم ہے آزادانہ انتخابات ہوں اورایسا چناؤ عمل میں آئے جو دیگر لوازم کے ساتھ ہر طرح کی غیر آئینی مداخلت سے منزہ اور شفاف ہو… اس کے نتائج کو تمام جماعتیں نہ صرف قبول کریں بلکہ جو بھی حکومت ان کی کوکھ سے جنم لے اس کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرے گی الا یہ کہ پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کھو دے… مگر اس تمام تر عمل کے دوران نام نہاد بڑے گھر کی جانب نہ دیکھا جائے کہ وہاں سے اشارہ ملے گا تو ایک حکومت کا ستارہ ڈوبے گا، دوسری کا چمکے گا… پھر اس صورت میں انتخابات اگر منعقد بھی ہو جائیں تو رسمی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں… قوم کے وقت اور بے پناہ وسائل کا بری طرح استعمال ہوتا ہے… موجودہ حالات میں اگر طے ہو جائے کہ ملک کو چلانا حکومت وقت کے بس کا روگ نہیں رہا… اسے دو تین چھوٹی جماعتوں کی جو لولی لنگڑی حمایت حاصل ہے، وہ بھی برقرار نہ رہے … دوسرے الفاظ میں ’’ان‘‘ ہاؤس تبدیلی آ جائے… تو اگلا لازمی قدم یہ ہونا چاہیے کہ تمام پارلیمانی پارٹیوں کی ان کے تناسب کے لحاظ سے بااختیار کمیٹی بنائی جائے… جو موجودہ نظام کی انتخابی نظام میں پائی جانے والی جملہ آلائشوں کو دور کرے اور اس امر کو ہر لحاظ سے یقینی بنائے کہ اوپر سے نیچے تک غیر آئینی مداخلت ہرگز نہ ہو گی… کسی طور برداشت نہ کی جائے گی…نئے انتخابات کے لیے جو بھی نگران حکومت قائم ہو ، اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بھی اسی پارلیمانی کمیٹی کو مامور کیا جائے… اس کے ساتھ حصہ لینے والی تمام جماعتوں کو اصولی اور اخلاقی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ جیتنے والی جماعت یا مخلوط اتحاد کو اگلی جائز اور عوام کی نمائندہ حکومت کے طور پر تسلیم کریں گی … اس کے لیے پانچ سالہ حکمرانی کا حق مانیں گی… میں مثالی دنیا کی بات نہیں کر رہا … مغربی دنیا کی تمام جمہوریتوںمیں ایسا ہوتا ہے… انہیں چھوڑ دیجیے… وہاں جمہوری اداروں کی تاریخ بہت پرانی ہے… ہمسایہ ملک بھارت کو لے لیجیے… جہاں جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے قومی سطح پر تازہ چناؤ عمل میں آیا ہے… نریندر مودی کی بی جے پی نے پہلے سے بڑے تناسب کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے… مقابلے کی جماعت کانگریس کی امیدوں پر پانی پھر گیا… اس کے باوجود اس پارٹی کے لیڈر راجیو گاندھی نے اپنے رقیب اور مخالف سیاست دان کو اس کی جیت پر مبارکباد دی… نتائج کو قبول کیا… باقی جماعتوں نے بھی اسی طرز عمل کو اختیار کیا… بھارت اس میدان میں ہم سے کئی درجے آگے نکل چکا ہے… کشمیر کا غاصب ہے… بابری مسجد کے قضیے پر انصاف کے گلے پر جو چھری پھیری گئی ہے، اس سے بھارتی مسلمان کیا ہم اہل پاکستان کے دل بھی زخمی ہیں مگر ان غیر اصولی اور غیر اخلاقی اقدامات کے باوجود نریندر مودی ہم پر غراتا ہے… ہم ہیں کہ کرتار پور کی راہداری بنا بنا کر اس ہمسایہ ملک کو پیش کرتے ہیں … وہ پھر بھی کسی بات کو خاطر نہیں لاتے… آخر بھارت والوں کے نظم مملکت میں کوئی عوامی قوت تو پائی جاتی ہے جو متنازع امور میں ان کی ناجائز فوقیت کا باعث بنتی ہے… جنگ ہم نہیں لڑنے کے قابل نہیں… اصولوں کی وہ پرواہ نہیں کرتا…


ای پیپر