جب پردہ اٹھے گا
20 نومبر 2019 2019-11-20

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف بخیرو عافیت لندن پہنچ چکے ہیں۔دعا گو ہوں کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر واپس آئیں اور اپنا سیاسی کردار ادا کریں۔ جس وقت میاں نواز شریف کی لندن روانگی کی تیاریاں ہو رہی تھی تو اسی دوران وزیر اعظم عمران خان نے ہزارہ موٹر وے کے افتتاح کے موقع پر ایک انتہائی غصیلی تقریر کی۔ یہ موٹروے کے افتتاح کی بجائے انتخابی مہم کی تقریر تھی جس میں وہ مولانا فضل الرحمن ، بلاول بھٹو اور شہباز شریف پر خوب برسے ان کا بس چلتا تو وہ چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی کو بھی خوب سناتے مگر وہ ان کے اہم اتحادی ہیں اور قومی اور پنجاب اسمبلی میں اکثریت بر قرار رکھنے کے لیے ان کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم کو آخر اتنا غصہ کیوں آیا کہ وہ بلاول بھٹو کی نقل اتارنے پر مجبور ہو گئے اور انہیں مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف کو جلی کٹی سنانی پڑیں۔ وزیر اعظم کو غصہ ہے کیونکہ ان کا کرپشن بیانیہ پٹ رہا ہے۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو گرفتار کر کے جیل میں بند کرنے کو وہ اپنی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیتے تھے۔ حزب مخالف کے راہنمائوں اور خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے راہنمائوں کو جیلوں میں بند کیا جا رہا تھا ۔ فہرستیں بن رہی تھیں۔ روز یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ اب کون گرفتار ہو گا ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگلے چند ماہ کے بعد حزب مخالف کے زیادہ تر راہنما جیلوں میں ہی پائے جائیں گے ۔ مگر اب یہ سلسلہ کچھ تھم سا گیا ہے ۔ یکطرفہ احتساب کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے۔

میاں نواز شریف کا علاج کے لیے باہر جانا اور مریم نواز کی ضمانت عمران خان کے بیانئے کی پسپائی اور اس کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ بنیادی طور پر عمران خان کے کرپشن بیانیے کی بنیاد ہی غلط ہے۔ انہوں نے پاکستان میں کرپشن ، اقربا پروری اور لوٹ کھسوٹ کی وجہ انتظامی، سماجی اور معاشی ڈھانچے اور نظام کو قرار دینے کی بجائے دو خاندانوں اور جماعتوں کو قرار دیا۔ وہ 22 سال تک اپنے اس بیانیے کا پرچار کرتے رہے کہ پاکستان میں کرپشن کی وجہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت ہے۔ 2018 ء کے انتخابات کے نتیجے میں وہ وزیر اعظم بن گئے۔ گزشتہ 15 ماہ سے وہ اقتدار میں ہیں۔ مگر کرپشن کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ تھانوں اور کچہریوں میں کرپشن کا ریٹ بڑھ گیا ہے ۔ ان کا یہ بیانیہ بھی بری طرح پٹ گیا ہے کہ زیادہ قرض لینے کی وجہ حکمرانوں کی کرپشن ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو ان کی حکومت تو بہت کم قرض لیتی۔ مگر اس کے بر عکس ان کی حکومت نے ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ قرض لیے ہیں۔ جتنا قرضہ پیپلز پارٹی کی حکو مت نے 5 سالوں میں لیا تھا ۔ عمران خان کی حکومت ایک سال میں لے چکی ہے۔ زمینی حقائق وزیر اعظم کے بیانیے کا منہ چڑا رہے ہیں۔

وزیر اعظم کو مولانا فضل الرحمن پر یہ غصہ ہے کہ انہوں نے سارا کھیل بگاڑ دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو یہ زعم تھا کہ ان کے خلاف احتجاج نہیں ہو سکتا۔ ان کے خلاف گو گو کے فلک شگاف نعرے نہیں لگ سکتے۔ مگر یہ سب کچھ ہوا اور وہ بے بسی سے سب کچھ دیکھتے رہے۔ جس مولانا فضل الرحمن کا وہ مسلسل تمسخر اڑاتے رہے آخر کار اسی مولانا نے ان کے اقتداری قلعے میں شگاف ڈالے ہیں۔مولانا ہنستے مسکراتے اسلام آباد آئے اور اسی طرح 13 دن اسلام آباد میں گزار کر واپس چلے گئے۔ انہوں نے پلان اے پر عمل کیا۔ اس کے بعد پلان بی کی جھلکیاں دکھائیں اور اب پلان سی کی طرف رواں دواں ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران بظاہر تو کوئی ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی ۔ سڑکوں پر مارکٹائی نہیں ہوئی۔ مگر اس کے باوجود بہت سارے سیاسی بھرم ٹوٹ گئے ہیں۔ بہت کچھ بے نقاب ہوا ہے۔ اور مزید ہونے والا ہے۔ دبیز پردے ہٹنے والے ہیں۔

اگر دھرنا اور آزادی مارچ واقعی ناکام ہوا ہوتا تو وزیر اعظم اتنے غصے میں کیوں آتے۔ ان کا غصہ بہت کچھ بتا رہا ہے۔ گزشتہ کالموں میں بھی عرض کیا تھا کہ آزادی مارچ کے نتیجے میں وزیر اعظم کا استعفیٰ تو نہیں آئے گا اور غالباً اصل ہدف فوری طور پر یہ تھا بھی نہیں مگر مولانا خالی ہاتھ نہیں لوٹیں گے۔

چوہدری پرویز الٰہی نے بہت کچھ بتا دیا ہے ۔ آزادی مارچ کے اثرات اگلے چند ماہ میں سامنے آ جائیں گے۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں زور پڑنے والا ہے ۔ حکومت کتنی مضبوط ہے اس کا اندازہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے ہو گیا ہے۔ حکومت کو عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کے عوض اپوزیشن کے مطالبے پر قومی اسمبلی سے انتہائی عجلت میں پاس کروائے گئے آر ڈی نینس واپس لینے پڑے۔ وزیر اعظم کو غصہ اس بات پر ہے کہ 15 ماہ سے حکومت نے ایک صفحے اور بیانیے کا جو تاثر قائم کیا تھا وہ اب ٹوٹ رہا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان اب بھی سیاسی مصالحت کرنے اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جبکہ دوسری طرف مقتدر قوتیں اب زمینی حقائق کی روشنی میں نئی حکمت عملی پر عمل پیرا نظر آتی ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کو یہ بھی غصہ ہے کہ ان کی پالیسیوں ، ہوم ورک اور قابلیت کا پردہ اتنی جلدی اٹھ گیا ہے۔ مہنگائی کے طوفان نے تبدیلی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ جتنی جلدی تحریک انصاف کی حکومت اور اس کی ناقص معاشی پالیسیاں بے نقاب ہوئی ہیں اتنی جلدی شاید ہی کوئی حکومت بے نقاب ہوئی ہو۔

وزیر اعظم عمران خان کو جس بات کی سمجھ نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ اب ان کی اپنی قابلیت اور اہلیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ وہ سارا ملبہ اپنی ٹیم پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنی کابینہ اور وزراء کی اہلیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں مگر وہ اپنی کارکردگی اور قابلیت پر غور کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ جتنے مرضی وزراء بدلیے۔ جتنی بار چاہیں وزراء کو نکالیں اور پھر دوبارہ رکھ لیں مگر مسئلہ اس سے حل نہیں ہو گا ۔ جب تک وزیر اعظم عمران خان اپنے غلط بیانیے اور تصورات سے جان نہیں چھڑاتے۔ اس وقت بہتری کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔

پر دہ عقل پر پڑا ہو، آنکھوں پر پڑا ہو یا پھر کھڑکیوں پر۔ اسے ہٹائے بغیر نہ تو حقائق کا درست ادراک ہوتا ہے اور نہ ہی اپنی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے ۔ بس چند ماہ کا انتظار کریں اس کے بعد بتدریج پردہ اٹھے گا ۔ جو کچھ پچھلے چند ہفتوں میں دبیز پردوں کے پیچھے بند کمروں میں طے ہوا ہے وہ سب سامنے آ جائے گا ۔ ہر دھرنا اور احتجاج حکومت وقت کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ تو ہمیں یہی بتاتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت پر دبائو بڑھ رہا ہے۔ بگڑتے معاشی حالات اس دبائو میں اضافہ کریں گے ۔ حکومت کو اصل خطرہ اپوزیشن سے نہیں بلکہ اپنی کارکردگی سے ہے۔ اصل خطرہ ڈوبتی معیشت ہے۔ قابلیت اور اہلیت ہے۔


ای پیپر