فوڈ سکیورٹی اور قومی سلامتی کے گمنام ہیرو
20 نومبر 2019 2019-11-20

ایک وقت تھا جب پاکستان کی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 68 فیصد تھا اور مجموعی آبادی کے 85 فیصد کا براہ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت سے تعلق تھا۔ آج یہ شرح سکڑ تے سکڑتے بالترتیب 26 فیصد اور 48 فیصد رہ گئی ہے۔ اس بات پر آج تک کوئی تھیسز ( Thesis ) نہیں لکھا گیا کہ جب زراعت کے حصے میں تین گنا کمی آ گئی جبکہ دوسری جانب آبادی میں اضافہ جاری رہا تو زراعت سے وابستہ کمیونٹی کا انجام کیا ہوا۔ رسی سہی کسر اربنائزیشن نے پوری کر دی جب شہروں کے ارد گرد واقعہ دیہات یکے بعد دیگرے رہائشی کالونیوں میں تبدیل ہوتے گئے اور جٹ کمیونٹی کو ترقی کے دلفریب سبز باغ دکھا کر ان سے زمینیں ہتھیا لی گئیں اور وہ بے زمین ہوتے چلے گئے۔

اکنامکس جسے دولت کا علم کہا جاتا تھا کی رو سے پیداوار کے 4 بنیادی ذرائع ہوتے ہیں جس میں سب سے پہلا زمین ہے۔ دوسرا نمبر محنت یا مین پاور ۔ تیسرا سرمایہ اور چوتھا مینجمنٹ ہے۔ قدیم طرز معاشرت میں زمیندار ان 4 ذرائع کا سر چشمہ تھا جو پیداوار کے عمل میں ان چاروں ذرائع کو تن تنہا سر انجام دیتا تھا کیونکہ وہ بنیادی ذریعہ پیداوار یعنی زمین کا مالک تھا۔ وقت کے ارتقاء کے سفر میں جولاہا جو زمیندار ہے کپاس خرید کر کپڑا تیار کرتا تھا اس نے ماڈرن ہو کر پاور لوم اور پھر ٹیکسٹائل ملیں لگالیں تو وہ اتنا طاقتور ہو گیا کہ اس نے کپاس اگانے والوں کا استحصال شروع کر دیا اس کے کچھ عرصہ بعد ملک کے ایک طبقے جس کا تعلق لوہے کے کاروبار سے تھا انہوں نے شوگر ملوں کا جال بچھایا اور گنے کے مالکان کو اپنے دام میں جکڑ لیا۔ ایک وقت آیا جب ٹیکسٹائل اور شوگر کی بڑی بڑی وہیل مچھلیوں میں آپس میں زمیندار کی پیداوار پر قبضے کی جنگ کا ایک ظالمانہ رجحان شروع ہوا جس نے گنے کی بجائے زمیندار کو کرش کر دیا ۔ یہ طبقاتی کشمکش کی ایک لمبی داستان ہے۔

ہماری قومی معیشت کا انحصار آ ج بھی زراعت پر ہے اور زراعت کو مستحکم کرنے کے لیے زراعت سے وابستہ اس کمیونٹی کو مستحکم کرنا ناگزیر ہے جو آج بھی ٹیکسٹائل اور شوگر انڈسٹری کو خام مال سپلائی کرتے ہیں۔ پنجاب میں زرعی زمینوں کی ملکیت کا بڑا حصہ آج بھی جٹ کمیونٹی کے پاس ہے۔ جن کی سونا اگلتی زمینیں ہماری قومی معیشت فوڈ سکیورٹی اور انڈسٹری کے پہیے کی روانی کی ضامن ہیں۔

پنجاب جٹ فائونڈیشن نے گزشتہ کئی سال سے ان مقاصد کے حصول کی خاطر جٹ کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس ہفتے PJF کا سالانہ اجلاس صوبائی دارالحکومت لاہور میں تنظیم کے سرپرست اعلیٰ بیرسٹر زاہد سلیم گریوال کی رہائش گاہ ماڈل ٹائون میں منعقدہوا۔ جس میں ملک کو درپیش چیلنجز سے نپٹنے کے لیے اور قومی یکجہتی کے لیے کمیونٹی کو متحد کرنے اور وسیع تر مفادات کے حصول کے لیے مل کر چلنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ بیرسٹر زاہد گریوال نے گزشتہ ایک سال کی تنظیمی ڈھانچہ متعین کرنے کی کارکردگی پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب جٹ فائونڈیشن PJF ایک غیر سیاسی تنظیم ہے اور آئندہ بھی اس کو سیاسی وابستگی سے بالاتر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جٹ کمیونٹی ہمیشہ سے تضادات اور تفرقہ کا شکار رہی ہے جس کی وجہ سے سب سے زیادہ لڑائی جھگڑے اور مقدمہ بازی اس قبیلے کی خاصیت ہے۔ پی جے ایف گروپ بندیوں کے خاتمے اور conflict resolution کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی اور ایک مصالحتی یا ثالث کارول ادا کرے گی تاکہ دیہات میں جٹ اپنی توانائیاں اور پونجی کو تصادم اور مقدمہ بازی کی بجائے صحت مند سر گرمیوں میں لگاسکیں۔

فائونڈیشن کے بانی اور صوبائی صدر مبشر سلمان جٹ جن کا تعلق ہڑپہ ضلع ساہیوال سے ہے انہیں یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ گزشتہ ربع صدی سے اس نظریے پر جدوجہد کر رہے ہیں کہ اس طرح کا قومی سطح کا ایک فورم بنایا جائے۔ PJF ان کے اس خواب کی تعبیر ہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔

اس موقع پر چوہدری محمد عارف سندھو چیئر مین فری لیگل ایڈ کمیٹی نے اعلان کیا کہ PJF مستحق افراد کے مقدمات اور ان کے لیے انصاف کے حصول کے لیے بلا معاوضہ اپنی خدمات فراہم کرے گی ۔ محترم محمد عارف سندھو سپریم کورٹ آف پاکستان کے معروف وکیل ہیں اور ان کے ساتھ اس مشن میں پنجاب کے تمام شہروں سے وکلاء حضرات نے اپنی خدمات پیش کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

اس موقع پر نارووال سے تعلق رکھنے والے ونگ کمانڈر ریٹائرڈ آصف الملک کاہلوں نے بتایا کہ انہوں نے آج سے بہت پہلے اپنے علاقے میں تعلیم کے فروغ کے لیے مقامی طور پر سکالر شپ پروگرام کا آغاز کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ جٹ برادری کو کسی ایک نکتے پر اکٹھا کرنا اتنا آسان نہیں ہے ۔ انہو ںنے تنظیم کے لیے ہر قسم کی معاونت کا یقین دلایا۔

اسلام آباد سے تشریف لانے والے بریگیڈیئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ جن کا تعلق مختلف دفاعی اور قومی تھنک ٹینک کے ساتھ ہے انہوں نے اپنی تقریر میں پاکستان کے اندر پائی جانے والی طبقاتی کشمکش کو وسیع معنوں میں ایک خطرہ قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو De Nuclearize کرنے یعنی ایٹمی صلاحیت چھین لینے کی سازش ہو رہی ہے اور اس کے لیے ملک کی قومی معیشت کو کمزور کرنے کا منصوبہ ہے معیشت کا چونکہ زراعت سے بنیادی تعلق ہے اور زراعت کے سب سے بڑے stake holder جٹ ہیں لہٰذا ان پر یہ بھاری قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی کا آلۂ کار نہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی تنظیم کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مرکزی کنٹرول کا نظام مرکز سے نچلی سطح تک پہنچتا ہو۔

’’Centralized control to decentralised executive ‘‘ اگر اس اصول کا خیال رکھا گیا تو یہ فائونڈیشن ایک طاقتور تنظیم بن کر ابھرے گی اور ایک جامع اور پائیدار کردار ادا کرے گی ۔

اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر خالد مسعود گوندل وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے پنجاب جٹ فائونڈیشن کے ارکان سے خطاب میں اپنی تعلیمی جدو جہد اور کیرئیر کی تفصیلات بیان کیں کہ ان کے والد جو ایک سکول ٹیچر تھے انہوں نے کتنی محنت اور سختی برداشت کر کے انہیں اعلیٰ تعلیم دلوائی ۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب اسی طرح اپنی اگلی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ ڈاکٹر خالد گوندل نے اعلان کیا کہ ان کی یونیورسٹی میں زیرتعلیم کسی بھی طالبعلم کو مالی معاونت کی ضرورت ہو تو ہم اس کے لیے سکالر شپ کا انتظام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

PJF نے موجودہ قومی حالات میں جو Initiative لیا ہے اس طرز کی سماجی تنظیم سازی اگر ہر سطح پر متعارف کروائی جائے تو ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار میں یہ سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہو گا۔ یہ ایک ایسا پریشر گروپ بن سکتا ہے جو آگے چل کر بہتر طرز حکمرانی کے لیے اپنافعال کردار ادا کر سکے۔


ای پیپر