نواز شریف کی صحت اور حکومتی وزراء کا منفی رویہ
20 نومبر 2019 2019-11-20

محمد نواز شریف کوہائیکورٹ کی جانب سے باہر علاج کرانے کی اجازت دینے کے بعد حکومتی وزراء اور مشیر سیخ پا ہو گئے ہیں اور عدالتی فیصلے کے اپنی طرز پر طرح طرح کی تشریح کر رہے ہیں اور نواز شریف کے خالص انسانی مسئلے کو بھی سیاست کی نذر کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلم لیگ(ن)کے رہنماء اور ورکرز بھی سوشل میڈیا پر اسی طرح کے طرز عمل کو اپنائیں جو پی ٹی آئی کے وزراء ،مشیروں او ر کارکنوں نے اپنایا ہے تاکہ نا صرف نواز شریف کے باہر جانے کے عدالتی حکم کو متنازعہ کیا جائے بلکہ یہ تاثر بھی دیا جائے کہ لوگ نواز شریف کی صحت کے بجائے سیاست میں الجھ جائیں ۔ نواز شریف کی صحت خالصتاً ایک انسانی مسئلہ ہے اور حکومت مشیروں اور وزیروں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انہیں اس طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب 2013ء میں عمران خان کے اسٹیج سے گرنے کے بعد نواز شریف نے کیا تھا ۔ نواز شریف نا صرف شوکت خانم ہسپتال عمران خان کی مزا ج پرسی کرنے گئے تھے بلکہ اپنے کارکنوں کو بھی اس دوران عمران خان کے خلاف بات کرنے سے روکا تھا اور جب تک وہ صحت یاب نہیں ہوئے تھے ان کے خلا ف نواز شریف اور شہباز شریف نے بیان بازی سے اپنے کارکنوں کو روک دیا تھا لیکن عمران خان کے ارد گرد دیگر پارٹیوں سے آنے والے ٹائم پاس وزراء اور مشیر مسلسل اس حوالے سے ہرزہ سرائی کر رہے ہیں لیکن ضروری بات یہ ہے کہ ان کو چاہیے کہ اس حوالے سے اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور جب نواز شریف صحت یاب ہو کر واپس آئیں یا نہ آئیں اس بارے میں پھر بات کریں ۔ نواز شریف ضرور واپس آئیں گے اور یہ بات پی ٹی آئی کے وزراء اور مشیروں اور ان کے رہنمائوں کو بھی معلوم ہے کہ نواز شریف کے دوبارہ واپس آنے سے ان کی رہی سہی سیاست کا جنازہ بھی نکل جائے گا ۔ایک طرف انہوں نے نواز شریف کی صحت سے کھلواڑ کر کے کئی روز تک ان کو باہر جانے سے روکا اور اب جب وہ باہر گئے ہیں تو مختلف قسم کے تبصرے کئے جارہے ہیں لیکن جب نواز شریف صحت مند ہو کر واپس آئیں گے تو ان کو ڈر ہے کہ یہ ان کے اقتدار کا آخری دن ہو گا کیونکہ نواز شریف کی واپسی سے نا صرف عدالتوں پر اعتماد بڑھ جائے گا بلکہ عدالتی نظام اور عدالتی انصاف کے نظام میں بھی بہتری آنے کی امید ہے اور جب نواز شریف جیسا بندہ عدالت کا سامنا کرے گا تو دوسرا ہر صورت میں کرے گا اور یہی وہ ڈر ہے جو پی ٹی آئی کے رہنمائوں اور کارکنوں کے دل میں چھپا ہوا ہے کہ نواز شریف کی واپسی سے ان کا سب کچھ ختم ہونے والا ہے اور یہاں پر اب شہباز شریف کی عدم موجودگی میں مریم نواز پارٹی کے معاملات دیکھ سکیں گے ۔پارٹی کے معاملات دیکھنے کے حوالے سے مریم نواز کارکنوں کو متحد رکھیں گی اور شہباز شریف اپنے بھائی کے علاج پر توجہ دیں گے ۔شہباز شریف نے ایک جانب عدالتوں کا سامنا کیا اور اپنے بھائی کو نکال کر علاج کے لئے باہر لے گئے تو دوسری جانب اپنے بڑے بیٹے حمزہ شہباز شریف جو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں اس کے حوالے سے اس سارے مرحلے پر انہوں نے اعلیٰ حکام سے ایک بات بھی نہیں کی کہ انہیں بھی ضمانت پر رہائی دی جائے بلکہ اپنے بھائی کے ساتھ ساتھ اپنی بھتیجی مریم نواز کی ضمانت کی کوششیں کیں اور اس میں کامیاب ہو گئے اور اسی کو دیکھ کر پی ٹی آئی کے بعض مشیروں اور وزراء نے خاندان کے اندر پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی لیکن شریف خاندان ہمیشہ سے اپنے عمل سے اس کا جواب دیتا ہے ۔

لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ(ن)کے قائد محمد نواز شریف ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن پہنچ چکے ہیں جہاں پر ان کے خاندان کے افراد پہلے سے موجود تھے ۔دونوں بیٹوں اور ایک بیٹی نے لندن میں محمد نواز شریف کے علاج معالجہ کا بندوبست کیا تھا ۔لاہورایئر پورٹ سے روانگی کے وقت مسلم لیگ(ن)کے مرکزی قائدین موجود تھے ۔جاتی امراسے مسلم لیگ(ن)کے کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے اور اپنے قائد محمد نواز شریف کو رخصت کیا ۔محمد نواز شریف کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی محمد شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی لندن گئے ہیں ۔حکومت نے محمد نواز شریف کی بیماری پر سیاست کی ۔وزیراعظم عمران خان نے ہز ارہ موٹروے کے افتتاح کے موقع پر بار بار یہ جملہ دہرایا کہ کسی کو ڈیل نہیں دوں گا ۔اسی موٹروے کا افتتاح کر دیا جس کا سنگ بنیاد محمد نواز شریف نے رکھا تھا ۔الیکشن سے پہلے عمران خا ن اپنے انتخابی جلسوں سے خطاب میں موٹرویز اور میٹرو بس پر تنقید کرتے تھے کہ اربوں روپوں کو فضول خرچ کیاگیا ان رقوم کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا چاہیے تھا ۔حکومت نے محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے سات ارب کا بانڈ وصول کرنے کی شرط کر رکھی تھی لیکن جب محمد شہباز شریف نے لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ۔عدالت نے سٹامپ پیپرز پر حلف نامہ لیا اور محمد نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لئے جانے کی اجازت دی۔

حکومت نے سیاسی تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ۔ حکومتی وزراء شاہ سے شاہ کے زیادہ وفادار بنے اور اپنے نمبر بڑھانے کے لئے نواز شریف کی بیماری پر بیان بازی کرتے رہے ۔حکومت کو غیر مشروط طور پر نواز شریف کو لندن علاج کے لئے جانے کی اجازت دینی چاہیے تھی کیونکہ حکومت کے قائم کردہ میڈیکل بورڈ نے قرار دیا تھا کہ محمد نواز شریف کی حالت تشویشناک ہے اور ان کا علاج ملک کے اندر ممکن نہیں ۔ڈاکٹروں کی سر توڑ کوششوں کے باوجود بھی نواز شریف کی بیماری کی تشخیص نہیں ہو سکی ۔خاندانی ذرائع کے مطابق محمد نواز شریف کا پہلے لندن میں علاج کیا جائے گا پھر انہیں مزید علاج کے لئے امریکا لے جایا جائے گا۔محمد نواز شریف کی صحت بیماری کی وجہ سے کافی کمزور ہو چکی ہے اور ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن لے جانے کا مشورہ دیا تھا ۔


ای پیپر