ایک پکڑے جانے والے ڈاکو کی عجیب سی خواہش۔۔۔؟
20 نومبر 2019 2019-11-20

’’مجھے پولیس کے حوالے کر دو۔۔۔‘‘

ایک ڈاکو نے استدعا کی ۔۔۔ تو سب حیران ہو گئے۔۔۔ یہ عجیب مطالبہ ہے۔۔۔

’’کیا خواہش ہے بھئی۔۔۔؟‘‘

استاد کمر کمانی نے ڈاکو کے مطالبے پر پریشانی کا اظہار کیا۔۔۔

’’انسان اپنوں ہی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔۔۔‘‘ ایک پاس کھڑے مولانا نے سنجیدگی سے کہا۔

’’ویسے بہتر ہے انہیں پولیس کے ہی حوالے کر دیاجائے۔۔۔‘‘

میرے مطالبے پر ڈاکٹر طلعت چل پڑے۔۔۔ ’’بس یار۔۔۔ اب تم جانو تمہارا کام۔۔۔‘‘

میں نے ڈاکٹر صاحب کو پکڑ کر روکا تو ہاتھ چھڑا کر پھر سے اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔

’’میں اپنا مطالبہ واپس لیتا ہوں۔۔۔ نہ کرو اس ڈاکو کو پولیس کے حوالے۔۔۔ اسے پی۔ سی میں کھانا کھلانے لے چلتے ہیں۔۔۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ تو ڈاکٹر صاحب شدید غصے میں آگئے۔۔۔

پہلی بار اگر کوئی ڈاکو ہاتھ آ ہی گیا ہے تو آپ اُسے چاہتے ہیں کہ عزت سے بری کروا دیں۔۔۔ یہ شخص تھانے گیا تو اگلے ایک گھنٹے میں آزاد ہو کر پھر سے ہمارے ہی محلے میں ڈاکے مارے گا۔۔۔

اقبال ٹائون، کریم بلاک بینک ڈکیتی میں ہلاک ہونے والے مینیجر کی نمازِ جنازہ کریم بلاک قبرستان میں ادا کی جا رہی تھی کہ جیب کتروں نے یلغار کر دی۔۔۔ بس لوگ جب نمازِ جنازہ سے فارغ ہوئے تو پتہ چلا کہ گیارہ لوگوں کی جیبیں کٹ چکی ہیں۔۔۔

تھر تھلی مچ گئی۔۔۔ ہر آدمی جنازے اور مرنے والے کا غم بھول گیا۔۔۔ اپنی اپنی پڑ گئی سب کو۔۔۔

میں داتا دربار جائوں۔۔۔ جمعہ یا عید کی نماز پڑھنے جائوں تو جیب میں دو تین سو روپے رکھتا ہوں۔۔۔ شناختی کارڈ تک بھی نہیں رکھتا۔۔۔ کیونکہ جیب کتروں کو سہولت دینے سے ہی جرم اور مجرم کو تقویت ملتی ہے۔۔۔ وہ اپنے ’’فن‘‘ کا مظاہرہ کرنے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔۔۔

ڈاکٹر صاحب تو مرنے والے ہو گئے۔۔۔ ہم نے وجہ پوچھی تو بولے۔۔۔ ’’یار میں نے تو بچوں کو عیدی دینے کے لیے آج ہی سفارش سے پچاس ہزار کے نئے نوٹ منگوائے تھے۔۔۔ ظالم جیب کترا وہ بھی لے گیا۔۔۔

’’ہائے میرا نیا لاکھ روپے والا موبائل۔۔۔‘‘ ایک صاحب روتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔۔۔ ایک جنازہ۔۔۔ اور جس میں گیارہ لوگوں کے ساتھ آدھ گھنٹے کے دوران جیب کتروں نے کامیابی سے لوٹ مار کر ڈالی۔۔۔ یقینا یہ کوئی جیب کتروں کا بڑا اور منظم گینگ ہو گا۔۔۔ لوگ اپنے اپنے تبصرے کر رہے تھے کہ ایک پولیس ملازم بھی نماز پڑھنے والی ٹوپی پہنے سامنے آ گیا اور حیرت سے بولا۔۔۔

’’ظالم میرا موبائل بھی لے گئے۔۔۔ تھا تو اٹھارہ سو روپے کا لیکن۔۔۔ اُس میں نو سو موبائل نمبر دوستوں اورکلائنٹ کے محفوظ تھے۔۔۔

ہم سب کی ہنسی نکل گئی۔۔۔ پولیس والا بھی چپکے سے گلی میں نکل گیا۔۔۔

’’پکڑو۔۔۔ پکڑو‘‘ شور سا مچا اور پتہ چلاکہ موٹر سائیکل والا قادری صاحب سے موبائل چھین کر لے گیا۔۔۔ لڑکے موٹر سائیکلوں پر بھاگے اور پانچ منٹ میں ڈاکو کو قادری صاحب کے چھینے ہوئے موبائل سمیت پکڑ کر لے آئے۔۔۔

اب اُس ’’بے چارے‘‘ کی چھترول شروع ہوئی ۔۔۔

’’مجھے نہ مارو۔۔۔ مجھے پولیس کے حوالے کر دو۔۔۔‘‘ ڈاکو چیخ چیخ کر شور مچا رہا تھا۔۔۔ سب کو اپنے اپنے غم بھول گئے۔۔۔ ہر شخص کی توجہ اس بات پر تھی۔۔۔ کہ یہ بار بار کیوں کہہ رہا ہے۔۔۔ ’’مجھے پولیس کے حوالے کر دو‘‘۔۔

ایک لڑکا ڈاکو کو بہت بُری طرح پیٹ رہا تھا۔۔۔ ہم نے اُسے سختی سے منع کیا۔۔۔ وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ وہ اصل میں ڈاکو کا ہی ساتھی تھا۔۔۔

اس بات کا ادراک ہمارے ایک سابق پولیس / محلے دار کو ہوا۔۔۔ جب اُس کی بھی ’’مرمت‘‘ ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ سات رکنی گینگ ہے اور سب نے مل کر گیارہ لوگوں کی نمازِ جنازہ کے دوران جیبیں کاٹیں اور ایک عدد موبائل بھی چھینا۔۔۔

سب کا فیصلہ تھا کہ ان دونوں کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔۔۔ مگر جو سابق پولیس ملازم تھا اُس نے زور دیا کہ اپنی اپنی چیزیں برآمد کروا لی جائیں۔۔۔ بعد میں پولیس کو بلایا جائے۔۔۔

سب لوگ حیرت سے گھبرا گئے۔۔۔ جب دس کی دس جیبوں سے نکلے پرس اور موبائل واپس آگئے۔۔۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر صاحب کے پچاس میں سے دس نوٹ کم تھے۔۔۔ جب جیب کترے کی مرمت ہوئی (دوبارہ) تو وہ دس نوٹ بھی ڈاکو کو بہت زیادہ تشدد کا نشانہ بنانے والا موٹر سائیکل پر جا کر کہیں سے لے آیا۔۔۔

اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ سات رکنی گینگ پڑھے لکھے، لاہور اور گوجرانوالہ کے رہائشی جیب کتروں پر مشتمل ہے اور مل کر وارداتیں کرتے ہیں۔۔۔ کئی بار پکڑے گئے اور جب پکڑے جاتے ہیں تو ایک ہی مطالبہ کرتے ہیں کہ ’’ہمیں پولیس کے حوالے کر دو‘‘۔۔۔ اور پھر سے ’’مارکیٹ‘‘ میں آ جاتے ہیں لوٹ مار شروع کر دیتے ہیں۔۔۔

سب لوگ ابھی اس گینگ کے بارے میں مزید جاننا چاہتے تھے، دلچسپی سے اُن دونوں کی باتیں سن رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ ان دونوں سے سب کچھ برآمد تو ہو چکا ہے اب ان کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔۔۔

پکڑو۔۔۔ پکڑو۔۔۔ پکڑو۔۔۔ پھر سے شور مچا۔۔۔

وہ دونوں ڈاکو ۔۔۔ ہاتھ چھڑا کر بھاگ گئے۔۔۔ اور سب حیرت سے اِک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔۔۔ ہر شخص مینیجر کی موت پر دکھ کا اظہار کر رہا تھا۔۔۔ جیب کتروں سے اپنے اپنے موبائل اور پیسے مل جانے پر خوش تھا، ڈاکوئوں کے پھر سے بھاگ جانے پر ’’اداس‘‘ بھی تھا۔۔۔ مگر یہ گتھی سلجھانے کی فکر میں بھی تھا کہ جب ڈاکو پر لوگ تشدد کر رہے تھے تو وہ روتے ہوئے، مارکھاتے ہوئے یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ مجھے مت مارو۔۔۔ وہ بس یہی کہہ رہا تھا کہ ’’مجھے پولیس کے حوالے کر دو۔؟‘‘

آخر کیوں۔۔۔؟


ای پیپر